بلیک بیری پر پابندی نہیں لگی گی

متحدہ عرب امارات نے بلیک بیری سروسز فراہم کرنے والی کمپنی سے بات چیت کے بعد بلیک بیری پر پابندی عائد نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے پہلے متحدہ عرب امارات نے گیارہ اکتوبر سے بلیک بیری کی تمام سروسز پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔
یو اے ای میں ٹیلی مواصلات کے نگراں ادارے کے حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بلیک بیری کی سروسزسے مطمئن ہیں۔
یو اے ای کے حکام کا کہنا تھا کہ بلیک بیری کے سرور یہاں موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے بلیک بیری تمام ڈیٹا براہ راست بیرون ملک بھیج دیتے ہیں جہاں کمپنی کے سرور قائم ہیں۔ اس وجہ سے بلیک بیری سے بھیجے جانے والے پیغامات کی نگرانی نہیں ہوپاتی۔
تاہم اب ٹیلی مواصلات کے نگراں ادارے (ٹی آر اے) نے اپنے بیاں میں کہا ہے کہ یو اے ای میں بلیک بیری کی تمام سروسز معمول کے مطابق جاری رہیں گی اور گیارہ اکتوبر سے اُن پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
ٹی آر اے نے بلیک بیری کی مالک کمپنی رسرچ ان موشن (آر ای ایم) کے مثبت کردار کی بھی تعریف کی جس کی وجہ سے ٹیلی مواصلات کے نگراں ادارے کی شکایات دور ہونے میں مدد ملی۔
واضح رہے کہ بلیک بیری کی مالک کمپنی رسرچ ان موشن (آر ای ایم) دوسرے ممالک کے ساتھ ڈیٹا سٹور کرنے کےمعاملات پر اختلافات پائے جاتے تھے۔
پرنسپل اینالسٹ ٹونی کرپز نے کہا کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ یو اے ای میں موصلات کے نگران ادارے اور بلیک بیری میں کچھ معاملات طے پا گئے ہیں جس کے بعد وہ بلیک بیری کے ذریعے ای میل بھیجنے، انٹرنیٹ تک رسائی اور ایک بلیک بیری سے دوسرے بلیک بیری کو فوری پیغامات بھیجنے تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
.آر آئی ایم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای میں موصلات کے نگران ادارے کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔
اس سے پہلے یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ یو اے ای کے نگراں ادارے نے بلیک بیری ہینڈ سیٹس پر مبینہ طور پر جاسوسی کرنے والا سافٹ وئر نصب کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ سنہ دو ہزار سات میں بلیک بیری کی مالک کمپنی رسرچ ان موشن (آر ای ایم) نے یو اے ای کو وہ کوڈ فرام کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے استعمال سے ای میل اور ایس ایم ایس پیغامات پڑھے جاسکتے ہیں۔







