بونا پلوٹو سرخ ہو رہا ہے

ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پلوٹو سیارہ، جو ہمارے نظامِ شمسی کے کنارے پر محوِ گردش ہے، کافی تیزی سے سرخ ہوتا جا رہا ہے۔
ہبل دوربین سے اس چھوٹے سیارے کی جو تصاویر لی گئیں ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پلوٹو ماضی کی نسبت اب تقریباً بیس گنا زیادہ سرخ ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس سرخی کا سبب وہ تبدیلیاں ہیں جو اس بونے سیارے کی برفانی سطح پر ہو رہی ہیں۔ اور ان تبدیلیوں کی وجہ ماہرین کے مطابق یہ ہے کہ سیارہ پلوٹو اپنی گردش کے دوران ایک نئے زاویے پر آگیا ہے۔ خیال رہے کہ پلوٹو کا ایک سائیکل یا سورج کے گرد ایک چکر دو سو اڑتالیس سال پر محیط ہے۔
نئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ پلوٹو کے شمال میں منجمد نائٹروجن گیس چمک رہی ہے جبکہ سیارے کے جنوب میں یہ گیس نسبتاً گہرے رنگ کی ہے۔
ایک بیان میں ناسا کے ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ پلوٹو پر تبدیلیاں سیارے کے اُس قطب پر برف پگھلنے سے ہو رہی ہیں جس پر سورج کی روشی اور حدتِ آفتاب کا اثر ہے۔ لیکن دوسرے قطب پر جہاں سورج کی کرنیں نہیں پڑتیں، وہاں نائٹروجن پگھلتی تو ہے لیکن پھر سے منجمد ہو جاتی ہے۔
کچھ ماہرینِ فلکیات نے پلوٹو کی سطح پر ہونے والی ان تبدیلی پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں بہت بڑی اور بہت تیزی سے ہو رہی ہیں جو حیران کن ہے۔
سنہ دو ہزار چھ میں سائنس دانوں نے پلوٹو کو مکمل کواکب کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ پلوٹو کا درجہ گھٹاتے ہوئے سائنس دانوں نے اسے بونے سیارے سے ملقب کر دیا تھا۔
پلوٹو نظامِ شمسی کے روایتی سیاروں سے بہت پرے گردش میں مصروف ہے اور دیگر سیاروں کے ماہتابوں سے بھی چھوٹا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ پلوٹو کی سرخی بڑھی ہے لیکن اس سے سیارے پر بہت زیادہ اثر نہیں دیکھا گیا اور آج بھی اس کا درجۂ حرارت ناقابلِ یقین حد تک سرد ہے یعنی منفی دو سو تینتیس درجے۔







