انڈیا:گینڈے اور شیر کی ہلاکتیں

شیر
،تصویر کا کیپشنایک برس میں اس پارک کے بارہ شیر اور چھ گینڈے مارے جا چکے ہیں
    • مصنف, سبیر بھومک
    • عہدہ, بی بی سی نیوز کلکتہ

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام کے قاضی رنگا وائلڈ لائف پارک میں ایک اور گینڈا اور شیر مردہ پائے گئے ہیں۔

جنگل کے ایک افسر ڈی کلیتا کا کہنا تھا کہ زیادہ عمر ہونے کے سبب ممکن ہے کہ گینڈے کی موت ہوگئی ہو لیکن ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا کہ آخر اس مردہ گینڈے کا ایک سینگ کیوں غائب تھا؟

’گینڈے پرگولیوں کے نشانات تو نہیں ہیں، یہ بہت بوڑھا تھا مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا ہوں کہ اس کی سینگ غائب کیوں ہے۔‘

ایشیا میں گینڈے کے سینگ بڑی قیمتی ہوتے ہیں۔ عام تصور یہ ہے کہ سینگ قوت باہ کے لیے بہت مفید ہے اس لیے ایک سینگ کئی لاکھ روپے میں بک سکتا ہے۔

ماہر شکاری گینڈوں کے شکار کے لیے ان کے راستے میں بجلی کے تار بچھا دیتے ہیں اور انہیں بجلی سے مار دیا جاتا ہے۔

گزشتہ ماہ بھی قاضی رنگا پارک میں ایک شیر اور ایک گینڈہ مردہ پائے گئے تھے۔

مسٹر کلیتا کا کہنا ہے کہ شکاری جانوروں کے سینگ، ہاتھی دانت اور دیگر چیزوں کے لیے شکار کرتے ہیں لیکن کئی بار وہ زہریلی چیزیں کھانے سے بھی مر جاتے ہیں۔

قاضی رنگا پارک کے آس پاس بسے گاؤں والے جانوروں کے حملوں سے کافی برہم ہیں۔ ان حملوں سے بچنے کے لیے وہ جانوروں کو مارنے کے لیے زہر کا استعمال کرتے ہیں۔

جانوروں کی ہلاکتوں کے سلسلے میں کئی شکاریوں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ ایک برس میں اس پارک کے بارہ شیر اور چھ گینڈے مارے جا چکے ہیں۔