’چاند کا درجہ حرارت چندریان کو لے ڈوبا‘

ہندوستان کے خلائی ادارے’اسرو‘ کے مطابق چاند کے درجہ حرارت کا غلط اندازہ چندریان مشن کے وقت سے پہلے ختم ہونے کی ایک وجہ تھی۔
اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس برس مئی ميں جب چاند کے ارد گرد چندریان ون کے مدار کی اونچائی 100 کلومیٹر سے بڑھا کر 200 کلومیٹر کر دی گئی تھی تو یہ کہا گیا تھا کہ ایسا چاند کو مزید بہتر دیکھنے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ لیکن اب اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ وہ قدم پہلے کیے گئے غلط اندازے کو صحیح کرنے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔
بنگلور میں واقع اسرو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کے ایلکس نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا ' ہمیں یہ اندازہ تھا کہ 100 کلومیٹر کی اونچائی پر چاند کا درجہ حرارت 75 ڈگری ہوگا لیکن وہ 75 ڈگری سے زيادہ تھا جس کی وجہ سے دقیتیں پیدا ہونی شروع ہو گئیں اور پھر ہم نے اس کی اونچائی 200 کلومیٹر کر دی۔'
اس بیان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اصل میں چندریان ون میں چاند کے ارد گرد موجود مدار میں رہ کر اس کی گرمی برداشت کرنے کی طاقت نہیں تھی۔
ٹائمز آف انڈیا اخبار کے مطابق چندریان ون میں گرمی سنہ دو ہزار آٹھ کے نومبر مہینے سے ہی بڑھنی شروع ہو گئی تھی۔ اخبار لکھتا ہے کہ بعض سائنسدانوں کے مطابق اس پریشانی کے بارے میں پتا لگنے کے بعد اسے صحیح کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن اس وقت تک کافی دیر ہو چکی تھی۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 29 اگست کو اس مشن کے خاتمے کے اعلان سے قبل ہی یہ پتا چل گیا تھا کہ یہ وقت سے پہلے ختم ہو گیا ہے۔
سرکردہ سائنسدان پلو باگھلہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو فون پر بتایا کہ چاند کے ارد گرد مدار کے درجہ حرارت کا غلط اندازہ اس مشن کے خاتمے کی ایک وجہ تو ضرور تھی لیکن صرف یہی وجہ نہيں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تفتیش اعلی سطح کی ٹیم کی جانب سے کی جا رہی ہے اور تفتیش کی رپورٹ آنے کے بعد ان تمام وجوہات کے بارے میں جانکاری حاصل ہو جائے گی جس کے سبب یہ مشن اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چندریان کو تقریباً دس ماہ قبل دو برس کے لیے چاند پر بھیجا گیا تھا لیکن مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اس سے رابطہ ختم ہوگیا۔







