خلائی سٹیشن کا بیت الخلا خراب

یہ بیت الخلا روس میں بنایا گیاتھا
،تصویر کا کیپشنیہ بیت الخلا روس میں بنایا گیاتھا

بین الاقوامی سپیس اسٹیشن کے جس میں آج کل تیرہ خلاباز قیام پذیر ہیں، بڑے بیت الخلاء میں خرابی پیدا ہو گئی ہے۔

اس خلائی مرکز پر موجود عملے کو حکم دیا گیا ہے کہ بیت الخلاء کے باہر ’استعمال کے قابل نہیں‘ کا بورڈ لگا دیں۔

خلائی شٹل اینڈیور کے عملے کے استعمال کے لیے اب صرف خلائی شٹل کا بیت الخلاء رہ گیا ہے۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیش کا عملہ روسی حصے میں موجود ایک ’بیک آپ‘ بیت الخلاء استعمال کر رہا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اگر اس کی مرمت نہ کی جا سکی تو اپالو کے دور کے پیشاب بیگ موجود ہیں جنہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فلائٹ ڈائریکٹر برائن سمتھ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ انہیں ابھی تک بیت الخلاء میں موجود خرابی کا کلی طور علم نہیں ہے۔ انہوں نے بیت الخلا کی یہ خرابی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

اس خلائی اسٹیشن کا بڑا بیت الخلاء جس کی لاگت پر کئی ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے روس میں تیار کیا گیا تھا اور پھر اسے گزشتہ سال خلاء میں لے جا کر روسی حصے میں نصب کیا گیا تھا۔

یہ بیت الخلاء اس سے پہلے بھی خراب ہو چکا ہے اور دسمبر سن دو ہزار آٹھ میں شٹل ڈسکوری سے اس کے لیے ہنگامی طور پر متبادل پمپ بھیجا گیا تھا۔

بیت الخلاء کے استعمال پر اس سال کے شروع میں بھی ایک تنازع کھڑا ہو گیا تھا جب ایک روسی خلاء باز نے شکایت کی تھی کہ اسے کرائے کے جھگڑے کی وجہ سے بیت الخلا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔