برڈ فلو، انسانی ناک سازگار نہیں

برطانوی محققین کے مطابق برڈ فلو کا وائرس اپنی اصل حالت میں شاید انسانوں کے لیے خطرناک نہ ہوتا کیونکہ انسانی ناک کا درجۂ حرارت ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے اس وائرس کی پرورش کے لیے سازگار نہیں ہے۔

امپریل کالج لندن میں محققین کی ٹیم نے انسانی ناک کا سا ماحول تیار کرکے پتہ چلایا کہ بتیس ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت پر ایوین فلو وائرس اپنی فعالیت کھو کر پھیلنے کے قابل نہیں رہتا۔

سائنسدانوں کے مطابق ہوسکتا ہے کہ وائرس نے چالیس درجہ تک ماحول کے ساتھ مطابقت پرندوں کی آنتوں میں پیدا کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں کو متاثر کرنے کے لیے اس وائرس میں کچھ تبدیلی ضروری تھی۔

ایک سائنسی جریدے میں شائع مطالع کے مطابق انسانی وائرس ناک کے کم درجۂ حرارت سے متاثر ہوتے ہیں۔

تاہم انسانوں میں پائے جانے والے وائرس اس درجۂ حرارت پر فعال رہتے ہیں۔

البتہ انسانی جسم کے درجۂ حرارت پر، جو سینتیس ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، دونوں وائرس کی نشو نما ہوئی۔

سائسندانوں نے انسانی وائرس اور ایوین انفلوئنزا وائرس کے ملاپ سے ایک نیا وائرس تیار کیا۔ یہ وائرس بھی ناک کے بتیس ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت پر ناکارہ تھا۔

ٹیم لیڈر پروفیسر وینڈی بارکلے کا کہنا ہے کہ ہیومین انفلوئنزا وائرس کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے اس وائرس کا مزید تبدیلیوں سے گزارا جانا ضروری تھا۔

ان کے مطابق قیاس یہ ہے کہ سوائن فلو جو انسان سے انسان کو لگتا ہے شاید ایسی ہی مزید تبدیلیوں سے گزرا ہو۔