مردانہ مانع حمل انجکشن عنقریب

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حمل روکنے میں مردوں کے لیے مانع حمل انجکشن اسی طرح کارگر ہوسکتا ہے جیسے خواتین میں مانع حمل ٹِکیہ یا کونڈوم۔
ماہرین کا خیال ہے کہ مردانہ ہارمون ٹیسٹو سٹیرون کے ماہانہ انجکشن مردوں میں سپرم یا نطفے کی پیداوار میں کمی کرتے ہیں اس لیے مانع حمل طریقوں میں یہ انقلاب لا سکتا ہے۔
ایک سائنسی جریدے، جرنل آف کلینکل اینڈوکرائنولوجی اینڈ میٹابولزم، کی رپورٹ کے مطابق چین میں کیے گئے اس تجربے میں ایک سو مردوں کو جب یہ انجکشن دیے گئے تو ان میں سے صرف ایک مرد اس دوران باپ بن سکا۔
تاہم جب یہ انجکشن روک دیے گئے تو تجربے میں شامل تمام مردوں کے سپرم کی تعداد معمول پر آگئی۔
خاندانی منصوبہ بندی کے حامیوں نے اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ اس سے زوجین کو ایک اور مانع حمل طریقہ میسر آجائے گا۔ اور اس عمل میں اب مرد بھی برابر کا کردار ادا کر سکیں گے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج حتمی نہیں ہیں جس کے لیے مزید آزمائشوں کی ضرورت ہے۔
مردانہ مانع حمل تیار کرنے کی کوششیں پہلے بھی ہوئی ہیں تاہم ایسی مصنوعات زیادہ قابل انحصار ثابت نہیں ہوئیں اور ان کے ناپسندیدہ ذیلی اثرات جیسے طبیعت میں اتار چڑھاؤ اور جنسی خواہش کی کمی بھی مرتب ہوئے تھے۔



