گانے والے پرندوں کی تجارت سے جنگلات بے رنگ اور خاموش ہونے لگے

پرندے

،تصویر کا ذریعہRICK STANLEY/GABBY SALAZAR

    • مصنف, وکٹوریا گل
    • عہدہ, نامہ نگار سائنس، بی بی سی نیوز

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ منفرد رنگوں والے خوش آواز پرندوں کے معدوم ہونے کا زیادہ خطرہ موجود ہے کیونکہ ان کی بطور پالتو جانور طلب بہت زیادہ ہے۔

ایشیا میں گانے والے پرندوں کی تجارت نے پہلے ہی کئی انواع کو معدومیت کے قریب پہنچا دیا ہے کیونکہ پیاری آوازوں والے پرندے سب سے زیادہ ہدف بنتے ہیں۔

اب ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خاص طرح کے پروں والے پرندے بھی زیادہ خطرے کی زد میں ہوتے ہیں کیونکہ اُنھیں پکڑ کر فروخت کر دیا جاتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ تجارت کے لیے ان پرندوں کی افزائشِ نسل سے مدد مل سکتی ہے۔ اس تحقیق کی مرکزی محقق، یونیورسٹی آف ڈرہم کی پروفیسر ریبیکا سینیئر نے کہا: 'یہ تمام انواع کے لیے فائدہ مند نہیں ہو گا۔ مگر امید ہے کہ ہم (کچھ پالتو پرندوں کے) حصول کا ذریعہ تبدیل کر سکیں تاکہ وہ پہلے سے پلے ہوئے ہوں نہ کہ جنگل سے پکڑے گئے۔'

گانے والے پرندوں کی تجارت سے لڑنے کے بجائے اس کی سپلائی برقرار رکھنا شاید متنازع ہو مگر ان محققین کا کہنا ہے کہ یہ پرندوں کی کئی انواع کے جنگلات سے خاتمے کو روکنے کا عملی راستہ ہو سکتا ہے۔

کرنٹ بائیولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ اگر سب سے پسندیدہ پرندوں کو جنگلات سے پکڑا جاتا رہا تو ان جنگلات میں باقی رہ جانے والے پرندے سادہ ہوں گے خوش نما نہیں۔ سب سے پہلے ان پرندوں کی باری آئے گی جن کے رنگ سب سے زیادہ دلفریب ہوں گے۔

پرندے

جنگلی پرندوں کو لاحق خطرات کو سمجھنے کے لیے پروفیسر سینیئر اور ان کے ساتھیوں نے سب سے پہلے ایشیا میں گانے والے پرندوں کی مارکیٹس میں ہونے والی تجارت اور ان پرندوں کے رنگوں کا حساب کتاب دیکھا۔

'ہمیں معلوم ہوا کہ جن پرندوں کا رنگ زیادہ منفرد تھا اور دیگر پرندوں کے جیسا نہیں تھا، ان کے فروخت ہونے کا امکان زیادہ تھا۔'

'اور پھی کئی خاص طرح کے رنگ ہیں جن کی زیادہ تجارت ہوتی ہے، آسمانی نیلا اور پیلا رنگ۔ صاف سپید رنگ بھی بہت عام ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

خاموش، بے رنگ جنگلات

سائنسدانوں نے اس تجارت کے اثرات کا بھی جائزہ لیا۔ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی انواع کو اگر جنگلات سے نکال دیا جائے تو ایشیا کے گھنے جنگلات میں زیادہ تر پرندے پھر 'زیادہ بھورے اور کم نیلے' رہ جاتے ہیں۔

ایشیا کے کچھ حصوں بالخصوص انڈونیشیا میں اس تجارت کے اثرات کو ایک بحران قرار دیا گیا ہے۔

پرندے

،تصویر کا ذریعہVictoria Gill

بین الاقوامی تنظیم برائے تحفظِ قدرت (آئی یو سی این) نے ایک خصوصی گروپ تشکیل دیا ہے تا کہ اس تجارت کے باعث خطرے کی زد میں موجود پرندوں کی معدومیت کو روکا جا سکے۔

انڈونیشیا میں گانے والے پرندوں کو گھروں میں رکھنا مقامی ثقافت کا حصہ ہے۔ پرندوں کے گانے کے مقابلے بہت مقبول ہیں اور قومی سطح پر ان مقابلوں میں ہزاروں پاؤنڈ کی انعامی رقم تک بھی رکھی جاتی ہے۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تجارت سے لڑنا بے فائدہ ہے۔

پروفیسر سینیئر کہتی ہیں: 'بجائے اس کے کہ ہم بندوقیں تان کر لوگوں سے کہیں کہ آپ یہ پرندے نہیں رکھ سکتے جو آپ کی ثقافت کا ایک طویل عرصے سے اہم حصہ رہی ہیں، ہم ان انواع کا پتا لگا سکتے ہیں جو خطرے کی زد میں ہیں اور کوشش کر سکتے ہیں کہ لوگ وہ پرندے خریدیں جن کی افزائشِ نسل انسانوں نے کی ہے۔'

'بلاشبہ اس کی بھاری طلب موجود ہے اور اس میں یہ طلب پورا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔'