کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آئس کریم کیسے بنتی ہے؟

Ice cream

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ایڈرین مرے
    • عہدہ, بزنس اینڈ ٹیکنالوجی رپورٹر، آرہس

موسم گرما میں کم ہی چیزیں ٹھنڈی آئس کریم جیسی راحت پہنچاتی ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی آئس کریم کون کیسے بنی؟

ویسے تو یہ صدیوں پرانی ہے لیکن آج بہت سے میٹھے ایسے بھی ہیں جو مہینوں کی تحقیق اور محنت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

ڈنمارک کے شہر آرہس کے مضافات میں کچھ ایسا ہے جسے آئس کریم کی ’سلیکون ویلی‘ کہا جا سکتا ہے۔

کئی کاروباروں کے بیچ میں، جن میں دودھ سے بنی مصنوعات اور انجینیئرنگ سروسز شامل ہیں، ٹیٹرا پاک نامی کمپنی کا کارخانہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مستقبل کے کھانوں کی تراکیب اور ٹیکنالوجی جنم لیتی ہے۔

ٹیٹرا پاک کی پورٹفولیو مینیجر الزبتھ کہتی ہیں کہ کوئی بھی پراڈکٹ مارکیٹ میں لانے تک کے طویل سفر کا پہلا قدم یہاں اٹھایا جاتا ہے۔ ہم اگلے موسم گرما یا دو سال بعد جو مصنوعات مارکیٹ میں پیش کریں گے، ان کی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں۔

اندر ایک بڑی روشن دار لیبارٹری میں فریزر موجود ہیں اور ایک مشین بھی جو بیضوی شکل کی آئس کریم بنا رہی تھی۔

ٹیٹرا پاک دنیا میں آئس کریم کا بڑا برانڈ ہے جس کے گاہک یہاں دو تین دن گزارتے ہیں اور آئس کریم کے نمونوں کا ذائقہ چکھتے ہیں۔

الزبتھ بتاتی ہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آئس کریم کا ذائقہ کیسا ہے، اس کی بناوٹ کیسی ہے اور کیا یہ پسند کی جائے گی یا نہیں۔ اس عمل میں مدد کرنے کے لیے بہت سے ماہرین موجود ہوتے ہیں۔

Numerous ice creams laid on a conveyer belt

،تصویر کا ذریعہTetra Pak

عام طور پر کسی بھی نئے پراڈکٹ کو موسم بہار میں جاری کیا جاتا ہے اور پھر موسم گرما کے لیے تیاری شروع کر دی جاتی ہے۔

ٹیٹرا پاک اکیڈمی مینیجر ٹوربن ولسگارڈ کہتے ہیں کہ آئس کریم میں جدت لانے کے لیے کافی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔

دنیا بھر میں چین اور امریکہ میں سب سے زیادہ آئس کریم کھائی جاتی ہے۔ ٹیٹرا پاک کے مطابق سنہ 2021 میں دنیا بھر میں 25 ارب لیٹر آئس کریم کھائی گئی۔

برطانیہ میں شدید گرمی کی وجہ سے موسم گرما کے دوران آئس کریم کھانے کے رواج میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

نیئلسن آئی کیو کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں اگست کے چار ہفتوں کے دوران 28 فیصد زیادہ آئس کریم فروخت ہوئی۔

لیکن یہ مزیدار چیز بنتی کیسے ہے؟

سب سے پہلے دودھ یا پانی کو خشک اجزا میں ملایا جاتا ہے جیسا کہ چینی، خشک دودھ یا سبزی کی چربی۔ اس مائع کو پہلے گرم کیا جاتا ہے تاکہ اس میں شامل اجزا اچھی طرح جذب ہو جائیں اور پھر اسے ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔

ولسگارڈ بتاتے ہیں کہ ہم اضافی چیزیں، جیسا کہ رنگ اور ذائقے کے لیے شامل کرتے ہیں۔ اس میں سٹیبالائزر اور املسیفائر بھی شامل کیے جاتے ہیں جو اسے گاڑھا بناتے ہیں۔

اس کے بعد آئس کریم فریزر میں رکھ دی جاتی ہے۔ یہ چھوٹا سا کارخانہ ایک گھنٹے میں 700 لیٹر آئس کریم بنا سکتا ہے لیکن کمرشل سطح کے فریزر چار ہزار لیٹر تک بھی بنا سکتے ہیں۔

Elsebeth Baungaard testing the temperature of ice cream

،تصویر کا ذریعہTestra Pak

ایک گھومتے ہوئے سلینڈر میں اسے تیزی سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور پھینٹا جاتا ہے جبکہ اسے ہوا بھی لگوائی جاتی ہے۔

اس سے نکلنے والی آئس کریم نرم ہو جاتی ہے تاکہ اسے ایک ٹیوب میں پمپ کیا جا سکے اور کم درجہ حرارت پر سٹور کیا جا سکے۔

یہ ترکیب سننے میں سادہ لگتی ہے لیکن آئس کریم کی کیمیائی ساخت پیچیدہ ہوتی ہے جس میں کرسٹلز، ہوا اور چربی، پانی اور چینی سے ملے سولوشن میں یکجا ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر چیکا نویک، جو یونیورسٹی کالج لندن میں آئس کریم مینوفیکچرنگ پڑھاتی ہیں، کہتی ہیں کہ ’یہ ان چند پراڈکٹس میں سے ایک ہے جو تین کیفیتوں کو بیک وقت اکھٹا رکھتی ہے یعنی یہ ٹھوس، مائع اور گیس سب ایک ساتھ ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’عام طور پر مائع اور آئل آپس میں اتنی آسانی سے نہیں ملتے لیکن مٹھاس ملانے سے آئس کریم میں موجود چربی کو مائع کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔‘

ان کی مقدار کا تناسب متوازن رکھنا انتہائی اہم ہوتا ہے اور یہ آئس کریم کو ٹھوس رکھنے کے لیے اہم ہوتا ہے۔

ڈاکٹر نویک کہتی ہیں کہ اس حوالے سے ترکیبوں میں تبدیلی آئی ہے اور نئے اجزا کے حوالے سے خاصی تحقیق ہوئی ہے خاص طور پر چینی یا لیکٹوز کے متبادل اجزا کے بارے میں تاہم اس حوالے سے کئی غیر متوقع اجزا بھی سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹر نویک کہتی ہیں کہ ’اس میں 50 فیصد ہوا بھی ہو سکتی ہے۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ یہ دراصل آئس کریم کو ’سکوپ ایبل‘ بنانے کے لیے اہم ہوتی ہے۔

Ice cream

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن آئس کریم کو ٹھنڈا رکھنے میں خاصی توانائی لگتی ہے۔ الزبیتھ باؤنگارڈ کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے دوست ایک ایسے کولنگ کے عمل کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں، جو صرف مخصوص حصوں کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

دیگر کمپنیوں نے ایسی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جو خاصی جدید اور انوکھی ہے۔

مثال کے طور پر امریکی کمپنی ’کولڈ سنیپ‘ آئس کریم پوڈز بناتی ہے جو کسی مشین میں اس وقت ہی جمتے ہیں جب آپ اسے کھانا چاہتے ہیں، اس طرح انھیں دیر تک سٹور کرنے کے لیے صرف ہونے والی مجموعی توانائی کی بچت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹیٹرا پیک کی لیب میں جہاں مستقبل کی آئس کریم ٹیسٹ ہو رہی ہوتی ہیں مجھے اس بات کو جاننے کی جستجو تھی کہ اب آنے والے دنوں میں کیا نیا آ رہا ہے۔

الزبیتھ باؤنگارڈ کہتی ہیں کہ ’معذرت کے ساتھ لیکن یہ آنے والے دنوں میں صرف مزید سکڑ رہی ہے۔ ہم اس کے حجم میں کمی کر رہے ہیں۔ چھوٹی کونز، چھوٹی سٹکس، بالکل چھوٹی سی لیکن ان کی کوالٹی کئی گنا بہتر ہو گی۔‘

An ice cream machine at Tetra Pak's factory

،تصویر کا ذریعہTetra Pak

یہ ایک عالمی ٹرینڈ ہے اور مارکیٹ ریسرچ کی کمپنی ’منٹیل‘ میں فوڈ اور ڈرنکس کا جائزہ لینے والی کیٹ ولیسٹرا بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اس کے علاوہ کمپنیاں مزیدار ذائقوں کی جانب راغب ہو رہی ہیں اور کم کیلریز یا صحت مندانہ آئس کریمز کا رجحان کم ہو رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ کم پیسوں میں میٹھا کھانا چاہتے ہیں۔‘ کمپنی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ برطانیہ میں 48 فیصد صارفین کو لگتا ہے کہ ’کووڈ 19 کے بعد سے مزیدار ذائقوں اور پرکشش کھانے یا ڈرنکس پینے میں کوئی قباحت نہیں۔‘

ولیسٹرا کا ماننا ہے کہ اخراجاتِ زندگی سے جڑے بحران کے باعث بھی ایسا ہی کچھ ہو گا۔

’آئس کریم کیونکہ آسانی سے قوتِ خرید میں آتی ہے اور ایک بہترین آئس کریم بھی آپ کو گھر بیٹھے بہترین تجربہ دیتی ہے۔‘

Ice cream

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جہاں عمر رسیدہ اور نوجوان صارفین باقاعدگی سے آئس کریم خریدتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ نئی نسل کے نوجوان اصلی ذائقوں کی آئس کریمز کا رجحان بڑھا رہے ہیں جن میں مرچوں یا الائچی کے ذائقے شامل ہیں۔

دودھ سے بنی آئس کریم آج بھی مقبول ہیں تاہم پلانٹس میں بننے والی آئس کریم بھی خاصی مقبول ہو رہی ہیں۔ جلد نئے اور جدید ذائقے ہمارے فریزرز کی زینت بن سکتے ہیں۔

الزبیتھ باؤنگارڈ کے پیچھے ایک مشین ہے جس پر پہیہ لگا ہے جس سے آئس کریم پر بسکٹ، یا براؤنی یا چاکلیٹ کے ٹکڑے لگائے جا سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ نئی چیز ہے۔ مارکیٹ میں صرف ہم ہی یہ کر سکتے ہیں۔‘

ایک اور نئی تکنیک یہ ہے کہ سٹک پر آئس کریم پر کوئی ڈیزائن بنانا یا لکھائی کرنا۔ آئس کریم سیمپلز سامنے آنے کے بعد آپ یہ بھی سوچتے ہیں کہ کیا یہ آئس کریم کھانے والوں کے لیے مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں۔

الزبیتھ باؤنگارڈ کہتی ہیں کہ ’یہ خاصا پرکشش ہے لیکن آپ وقت کے ساتھ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔‘