بالوں کی صحت اور خوبصورتی کی ہماری کوششوں کے نتیجے میں 80 ارب ڈالر کی صنعت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بال ہماری ظاہری شخصیت اور شناخت کا ایک اہم حصہ ہیں، اور بالوں کو صاف ستھرا اور سنوار کر رکھنے کی ہماری کوششوں نے ایک اندازے کے مطابق 80 ارب ڈالر کی مالیت کی صنعت بنائی ہے۔
یہ صنعت ہمیں بہت سی مصنوعات پیش کرتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ یہ ہمارے بالوں کو خوبصورت، چمکدار اور صحت مند رکھتی ہے۔
لیکن درحقیقت صحت مند بال ہوتے کیسے ہیں؟ چاہے وہ سیدھے، ہوں یا گھونگھرالے، لمبے یا چھوٹے، یہ محض مردہ پروٹین نہیں ہیں؟
بال کیا چیز ہے؟
بال بیلنکار ساخت کا ایک باریک فیلا مینٹ یا دھاگہ ہے جو انسانی کھوپڑی پر اگتا ہے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک اندرونی حصہ جڑ اور گانٹھ سے بنا ہوتا ہے اور ایک بیرونی، سٹیم کی شکل کا دھاگہ جو خود نظر آنے والا بال ہے۔
کھوپڑی اور بالوں کے امراض کی ماہر ڈاکٹر شیرون وونگ نے بی بی سی کے کراؤڈ سائنس پروگرام میں وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’فیلامینٹ جاندار چیز نہیں ہے۔ تکنیکی طور پر، ہمارے پاس ایک جاندار حصہ ہے، جو فولیکل ہے، اور پھر ہمارے پاس بنیادی طور پر مردہ حصہ ہے، جو کہ ریشہ ہے جو کھوپڑی سے نکلتا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس کی ہم بہت زیادہ پرواہ کرتے ہیں۔‘
بالوں کا فولیکل کھوپڑی میں ایک ٹیوب کی شکل میں ہوتا ہے جو جڑ کو چاروں جانب سے گھیرے رہتا ہے، جہاں بالوں کی نشوونما شروع ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر بال کا اپنا فولیکل ہوتا ہے، جس کی گہرائی مختلف ہوتی ہے۔
’ہمارے جسم میں ہر بال کے فولیکل ہوتے ہیں ہماری کھوپڑی میں یہ تقریباً 50 لاکھ کے قریب ہوتے ہیں۔ بال نشوونما کے ایک سرکل سے گزرتے ہیں اور یہ ایک ایسا آزادانہ عمل ہے جو دوسرے فولیکل کو متاثر نہیں کرتا اسی لیے انسانوں کے بالوں کی نشوونما ہم آہنگ نہیں ہوتی۔ بحیثیت انسان ہمارے تمام بال ایک ہی وقت میں نہیں گرتے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے بارے میں حیران کن باتوں میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ فولیکلز میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوبارہ پیدا کرتا رہے تاکہ جب بھی قدرتی طور پر کوئی بال گرتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا بال آ جاتا ہے۔
اگر ہم فلیمینٹ پر زوم کریں تو ہم دیکھیں گے کہ یہ ایک نلی نما ڈھانچہ ہے جس کا نچلا حصہ بالوں کے فولیکل کا بلب ہے، جسے ڈرمل پیپلا کہا جاتا ہے۔
بالوں کے فولیکل میں اوپر والے حصے میں سٹیم سیلز کے کچھ حصے ہوتے ہیں جو خلیات کو فولیکل کے نیچے یا جڑ تک بھیجتے ہیں اور وہ وہی ہیں جو فولیکل کو بتائیں گے کہ فلیمینٹ ابھرے۔
ڈاکٹر وونگ کا کہنا ہے کہ ’ہم سب کے پاس بالوں کی نشوونما کے اس سرکل کی جینیاتی طور پر پہلے سے طے شدہ لمبائی ہے جو دو سال سے لے کر تقریباً سات سال تک ہو سکتی ہے۔‘
’یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے بالوں کو صرف کندھے کی لمبائی تک بڑھا سکتے ہیں اور کچھ کے بالوں کی لمبائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔‘
لیکن بڑھنے کے بعد یہ مرحلہ ختم ہو جاتا ہے، بالوں کا فولیکل ایک طرح کے توقف کے مرحلے میں چلا جاتا ہے جہاں سٹرینڈز کا ابھرنا بند ہو جاتا ہے۔
اور پھر یہ ریسٹنگ یا ٹیلوجن فیز میں چلا جاتا ہے جس کے دوران بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کے بڑھنے کا مرحلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صحت مند بال کیا ہے؟
اگرچہ حیاتیاتی طور پر بال زندہ چیز نہیں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحت مند بالوں اور غیر صحت مند بالوں میں کوئی فرق نہیں ہے، جیسا کہ ماہر امراضِ جلد شیرون وونگ کا کہنا ہے۔
’اگر آپ خوردبین کے نیچے کسی غیر نقصان شدہ سٹرینڈ کو دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ بیرونی تہہ، جو کہ کیوٹیکل ہے، بالوں کے جال کی طرح بہت اچھی طرح بنی ہوئی ہے یہ ہموار اور چپٹی ہے۔ یہ آپ کے بالوں پر گرمی اور کیمیکلز کے خلاف حفاظتی تہہ کی طرح ہے۔
’کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ، بالوں پر ضرورت سے زیادہ الٹرا وائلٹ شعاؤں یعنی یو وی کی لہروں، یا دیگر عوامل کی وجہ سے، کیوٹیکل کو نقصان پہنچتا ہے اور جب آپ کسی خراب شدہ سٹرینڈ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو ایک کیوٹیکل نظر آتا ہے جو چپٹا اور صاف نہیں لگتا'۔
ایک خراب کیوٹیکل سٹرینڈ کو زیادہ غیر محفوظ بناتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کیمیکل، گرمی اور نقصان بالوں کے بیچ تک پہنچ کر اسے اندر اور باہر سے کمزور کر سکتا ہے۔.
یہ بالوں کے سروں پر دیکھا جا سکتا ہے جو کہ سپلِٹ یا پھٹے ہوئے ہوتے ہیں، یا جب بال اپنا رنگ کھو دیتے ہیں۔
ہم نے ڈاکٹر وونگ سے پوچھا کہ ہمیں اپنے بالوں کی ساخت کو صحت مند رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ کیا ہمیں ڈرائر اور سٹریٹنرز کا استعمال بند کر دینا چاہیے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اصل میں اس کا تعلق ان آلات سے نکلنے والی گرمی کی شدت سے ہے اور یہ بھی ہے کہ آپ انھیں کتنی بار استعمال کرتے ہیں۔‘
’مثال کے طور پر، اگر آپ اپنے بالوں کو سیدھا کرنے کے لیے فلیٹ آئرن کا استعمال کرتے ہیں، تو مثالی طور پر اس کی شدت 180 ڈگری سے کم ہونی چاہیے کیونکہ اس سے اوپر آپ واقعی بالوں کے پروٹین کو خراب کرنا یا نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں، اور یہ نہ بھولیں کہ آپ کے بالوں میں 90 فیصد پروٹین ہے۔‘
’لیکن اگر آپ اسے ہفتے میں دو یا تین بار باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تو یہ مجموعی نقصان ہو جاتا ہے اور پھر آپ کے بال بہت زیادہ ٹوٹنے لگتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
بال کتنی بار دھونے چاہییں
جہاں تک شیمپو اور کنڈیشنر کا تعلق ہے، ہمیں انھیں کتنی بار استعمال کرنا چاہیے؟
ماہر امراض جلد بتاتے ہیں کہ ’شیمپو کا مقصد آپکی کھوپڑی کو صاف کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بالوں کی صحت مند نشوونما کے لیے ایک اچھی بنیاد موجود ہو۔‘
کنڈیشنر سٹرینڈ کے لیے ہے، اس کی نشوونما اور بالوں کو خشک ہونے سے روکنے کے لیے۔
’بال دھونے کی فریکوینسی پر، کوئی ایک نسخہ سب پر فٹ نہیں بیٹھتا، بنیادی طور پر اس کا تعلق کھوپڑی کی صفائی سے ہے۔
’اگر کسی کی کھوپڑی بہت چکنی یا تیل والی ہے، تو شاید آپ کو ہر روز اپنے بال دھونے چاہیئں۔ اور اگر آپ کی کھوپڑی بہت خشک ہے تو روزانہ دھونے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘
ماہر امراض جلد کا کہنا ہے کہ آئیڈیل یہ ہوگا کہ یہ پتہ لگایا جائے کہ مختلف لوگوں کے سر کے لیے کیا بہتر ہے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’یہ آپ کے طرز زندگی پر بھی منحصر ہے، یا اگر آپ بالوں کی بہت سی مصنوعات استعمال کر رہے ہیں، تو میں مثالی طور پر دن کے آخر میں اسے دھونے کا مشورہ دوں گی۔‘









