ظالمانہ سائنسی تجربہ: مشکل میں زندہ رہنے کی امید سب سے پہلے ختم ہو جاتی ہے

    • مصنف, دالیا وینچورا
    • عہدہ, بی بی سی، منڈو

سائنس اکثر ہمیں حیران کر دیتی ہے اور یہ حیرانی بعض اوقات غیر واضح وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر اس مثال کے بارے میں سوچیے کہ اگر آپ مینڈک کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈالیں گے تو وہ فوراً باہر کود جائے گا، لیکن اگر آپ اسے گرم پانی میں ڈالیں گے اور درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ کریں گے تو وہ خطرے کو محسوس نہیں کرے گا اور موت کے منہ میں چلا جائے گا۔

یہ اتنے طاقتور رویے کو جنم دیتا ہے کہ سیاست دان اور ماہرین اکثر اسے مختلف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ سن کر ہم میں سے کچھ لوگ سوچتے ہیں: مینڈکوں کو ابلتے ہوئے پانی میں پھینکنے کا خیال کس سائنسدان کے ذہن میں آیا ہوگا؟

اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

اگرچہ لگتا ہے کہ ایسا کسی تجربے کے دوران کسی کو خیال آیا ہو گا (درحقیقت ماہرین کے مطابق درجہ حرارت غیر آرام دہ ہوتے ہی گرم پانی میں موجود مینڈک کو چھلانگ لگا دینا چاہیے تھا، جبکہ دوسرا ایسا نہیں کرتا، کیونکہ ابلتے ہوئے پانی میں گرنے والی دیگر مخلوقات کی طرح یہ بھی مر جائے گا)۔

لیکن ایک اور اتنی ہی پریشان کن مشہور تحقیق کے معاملے میں، جس میں چوہوں کو پانی کے مرتبانوں (سلنڈروں) میں رکھا گیا اور انہیں ڈوبتے ہوئے دیکھا گیا، ان کے معاملے میں صورت حال مختلف تھی۔

یہ تجربہ ایک ممتاز امریکی ماہر حیاتیات، ماہر نفسیات اور جینیاتی ماہر کرٹ ریکٹر نے کیا تھا۔

اور ہم میں سے جو لوگ اس تجربے کے بارے میں سنتے ہیں تو وہ بغیر نتیجے پر توجہ دیے فوراً سوچتے ہیں کہ 'اس نے ایسا کیوں کیا'۔ سنہ 1957 میں سائیکوسومیٹک میڈیسن جریدے میں شائع ہونے والا ان کا مضمون اس تشویش کا جواب دیتے ہوئے آغاز میں کہتا ہے :

'ہم جنگلی اور پالتو چوہوں کے تناؤ کے ردعمل میں فرق کا مطالعہ کر رہے تھے۔'

اچانک موت

ریکٹر نے اپنا مضمون شائع کیا کیونکہ اس نے چوہوں میں ایسا ہی ایک رجحان پایا تھا جیسا کہ والٹر کینن نے مطالعہ کیا تھا، جو 20 ویں صدی کے سب سے نمایاں ماہرینِ طبیعیات (فِزیالوجسٹ) میں سے ایک تھے۔

سنہ 1942 میں شائع ہونے والے 'ووڈو ڈیتھ' (جادوئی موت) کے عنوان سے ایک مضمون میں، کینن نے دنیا کے مختلف حصوں میں پراسرار، اچانک اور بظاہر نفسیاتی اموات کے کئی واقعات کا ذکر کیا تھا، جو کسی فرد کے کسی سماجی یا مذہبی اصول کی خلاف ورزی کرنے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر رونما ہوجاتی ہیں۔

’ایک برازیلی مقامی باشندہ (ریڈ انڈین) جو ایک مجرم تھا اور ایک مبینہ جادوگر کے ذریعہ سزا یافتہ تھا، اس کے لیے ایک ایسا فیصلہ جس کے سامنے وہ اپنے اعتقادات اور جذبات کی وجہ سے بے بس محسوس کرتا تھا، وہ چند گھنٹوں کے اندر فوت ہوگیا (...) نیوزی لینڈ میں ایک قدیم قبیلے ماوری کے ایک فرد نے ایک پھل کھایا اور اُسے بعد میں پتہ چلا کہ یہ ایک ممنوع جگہ سے آیا ہے۔ یہ جاننے کے اگلے دن دوپہر کو وہ مر گیا۔‘

شواہد کا بغور جائزہ لینے کے بعد، کینن اس واقعہ کی حقیقت پر قائل ہو گیا اور اپنے آپ سے سوال کیا کہ 'ایک خوفناک اور مسلسل خوف کی کیفیت انسان کی زندگی کو کیسے ختم کر سکتی ہے؟'۔

جیسا کہ ریکٹر نے وضاحت کی، کینن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ موت ایڈرینالین کے مسلسل اخراج سے پیدا ہونے والے صدمے کی کیفیت کے نتیجے میں واقع ہوئی۔

اور اس نے اس بات پر زور دیا کہ، اگر ایسا ہے تو یہ توقع کی جائے گی کہ ان حالات میں لوگوں کو، دوسری چیزوں کے علاوہ، ان کی سانسیں اور ان کے دل کی دھڑکن تیز سے تیز تر ہو جائے گی، ’جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ مسلسل سکڑاؤ کی کیفیت پیدا ہوئی اور بالآخر، مثال کے طور پر، انقباض قلب کی وجہ سے موت واقع ہو جائے گی۔‘

لیکن یہاں پتہ چلتا ہے کہ چوہوں کے ساتھ ریکٹر کے تجربے نے اس کیفیت کے برعکس نتائج دیے۔

تیرنا یا ڈوبنا

امریکی شہر بالٹی مور میں جان ہاپکنز یونیورسٹی میں اپنی لیبارٹری میں، ریکٹر نے پالتو چوہوں کو - جو لیبارٹریوں میں پیدا ہوتے ہیں، بڑھتے ہیں اور مرتے ہیں- اُس نے یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ کتنی دیر تک ڈوبنے سے پہلے مختلف درجہ حرارت میں پانی میں تیرتے ہوئے زندہ رہتے ہیں، پانی سے بھرے ہوئے شیشے کے ایسے بڑے بڑے مرتبانوں میں ڈالے جن سے وہ بچ کر فرار نہیں ہو سکتے تھے۔

لیکن ایک مسئلہ تھا: 'تمام درجہ حرارت پر، چوہوں کی ایک چھوٹی سی تعداد ڈوبنے کے 5-10 منٹ کے درمیان مر گئی، جب کہ بعض صورتوں میں دیگر چوہے جو کہ بظاہر کوئی خاص صحت مند نہیں لگتے تھے، 81 گھنٹے تک تیرتے رہے۔'

نتائج اہم تھے لیکن ان میں تغیرات بہت زیادہ تھے۔

اس کی وجہ جاننے کے لیے اُس کا 'حل ایک غیر متوقع ذریعے سے ملا: اچانک موت کے رجحان کی دریافت۔'

کیا یہ ہو سکتا ہے کہ کینن نے برسوں پہلے جس چیز کا مطالعہ کیا تھا وہ بعد میں صحیح ثابت ہو رہا تھا؟

مایوس چوہے

ریکٹر نے ماضی کے تجربے میں ترمیم کی۔ اس نے نہ صرف چوہوں کے سرگوشوں کو سمجھنے کی بھی کوشش شروع کی 'ممکنہ طور پر بیرونی دنیا کے ساتھ اس کے رابطے کے سب سے اہم ذرائع کو منقطع کردیا،' بلکہ اس نے پالتو چوہوں کے علاوہ، کچھ ہائبرڈ (پالتوں چوہوں اور جنگلی چوہوں کی کراس نسل) اور سڑکوں پر تازہ پکڑے گئے جنگلی چوہوں کو بھی اس نئے تجربے میں استعمال کیا۔

جہاں پالتو چوہوں کی اکثریت مرنے سے 40 سے 60 گھنٹے پہلے تک تیرتی رہتی ہے، ہائبرڈ (پالتو اور جنگلی چوہوں کے کراس) 'بہت ہی کم وقت میں مر گئے۔‘

لیکن سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ جنگلی چوہے جو کہ عام طور پر مضبوط اور بہترین تیراک ہوتے ہیں، 'مرتبانوں میں تیرنے کے 1-15 منٹ بعد' ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

اب کیا آپ کو یاد ہے کہ اچانک موت اس وقت ہونی تھی جب ذہنی تناؤ سے خارج ہونے والی ایڈرینالین کی بڑی مقدار دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار کو تیز کرتی تھی؟

جیسا کہ جمع کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 'جانوروں کی موت تیز رفتار تیراکی کی بجائے دل کی دھڑکن کی رفتار میں کمی کے ساتھ ہوئی۔' سانس کی رفتار سست ہو گئی اور جسم کا درجہ حرارت گر گیا یہاں تک کہ دل کی دھڑکن بند ہو گئی۔

تاہم اس مشاہدے نے جتنی اہم معلومات دیں تھیں یہ اس لحاظ سے اتنا مشہور نہیں ہوا۔

نا امید چوہے

اُن کے رویے میں کچھ اور بھی تھا جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

'ان چوہوں کی موت کس وجہ سے واقع ہوئی؟' اس نے حیرت سے پوچھا۔ تمام وحشی اور جارحانہ جنگلی چوہے کیوں جلدی مر جاتے ہیں، جبکہ اسی طرح کے تجربہ گاہ میں علاج کے لیے پالے جانے والے ہوئے چوہے دیر سے کیوں مر جاتے ہیں؟'

اس نے زور دے کر کہا کہ درحقیقت کچھ جنگلی چوہے پانی میں ڈالے جانے سے پہلے ہی مر گئے، یعنی اس وقت ہی ان کے مرنے کا عمل شروع ہو گیا تھا جب محققین نے انہیں اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔

ریکٹر نے ایسا ہونے کے لیے دو اہم عوامل کی نشاندہی کی:

  • جنگلی چوہے تجربہ گاہ کے ماحول میں قیدی محسوس کرتے ہیں، اس طرح اچانک اور آخر کار پانی میں ڈالے جانے کی وجہ سے فرار کی تمام امیدوں کو ختم ہوتا محسوس کرتے ہیں۔
  • شیشے کے برتن میں قید ہونے کی وجہ سے، فوری ڈوبنے کے خطرے کو دیکھتے ہوئے فرار ہونے کا کوئی بھی امکان خترم ہو جاتا ہے۔

لڑائی یا فرار کے ردعمل کو متحرک کرنے کے بجائے، ریکٹر نے جو منفرد بات دیکھی وہ ناامیدی تھی۔

'چاہے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہو یا تیراکی کے مرتبان تک محدود ہو، چوہے ایک بے بسی کی حالت میں ہوتے ہیں۔ ناامیدی کا یہ ردعمل کچھ جنگلی چوہوں کے ہاتھ میں پکڑے جانے کے فوراً بعد ظاہر ہوتا ہے۔' انھیں ہاتھ میں پکڑ کر ہلنے سے روک دیا جاتا ہے۔ انھیں ایسا لگتا ہے کہ وہ عملاً 'ہار' چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

دوسری طرف، اگر بقا کی جبلت تمام صورتوں میں متحرک ہوئی ہو گی، تو پالتو چوہوں میں ہوئی ہوگی، کیوں انھیں یقین ہو گیا کہ اگر وہ تیراکی کرتے رہیں گے تو وہ بالآخر اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں؟

اور ان سب کے لیے، کیا چوہوں کو مختلف درجوں کا 'یقین' ہو سکتا ہے... اور اُمیدیں بھی؟

ایک سانس

ریکٹر نے دوبارہ تجربے میں ترمیم کی: اس نے اسی طرح کے چوہوں کو لیا اور انہیں جار میں ڈال دیا۔ 'لیکن ان کے مرنے سے بالکل پہلے، میں انہیں باہر لے جاؤں گا، انہیں تھوڑی دیر کے لیے پکڑ کر رکھوں گا، انہیں ایک لمحے کے لیے جانے دوں، اور پھر انہیں پانی میں ڈال دوں گا۔'

اس نے لکھا کہ 'اس طرح چوہوں کو جلدی معلوم ہو جاتا ہے کہ صورت حال واقعی ناامید نہیں ہے؛ اس کے بعد، وہ دوبارہ جارحانہ ہو جاتے ہیں، فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، اور ہار ماننے کی کوئی علامت ظاہر نہیں کرتے ہیں۔'

اس چھوٹے سے وقفے نے بڑا فرق ڈالا۔

وہ چوہے جنھوں نے ایک مختصر مہلت کا تجربہ کیا وہ بہت دیر تک تیرتے رہے: یہ جانتے ہوئے کہ وہ ہلاک نہیں ہوئے، کہ صورتحال ختم نہیں ہوئی ہے، اور کوئی مددگار ہاتھ انہیں بچا سکتا ہے، وہ زندہ رہنے کے لیے لڑتے رہے۔

ریکٹر نے نتیجہ نکالا کہ 'مایوسی دور ہونے کے بعد چوہے نہیں مرے۔'

موت کا یقین

ریکٹر کا ارادہ نام نہاد 'ووڈو موت' کی تحقیقات کو آگے بڑھانا تھا، اس نے جو بات اصرار کے ساتھ کہی وہ یہ کہ ایسا صرف 'انسانی ثقافتوں' میں نہیں ہوتا ہے، جیسا کہ کینن نے اشارہ کیا۔

'جنگ کے دوران اس ملک (امریکہ) کی مسلح افواج کے فوجیوں میں کافی تعداد میں غیر واضح اموات کی اطلاعات ملیں۔ یہ لوگ بظاہر اچھی صحت ہونے کے باوجود مرے تھے۔ پوسٹ مارٹم میں کوئی بیماری نہیں دیکھی جا سکی۔‘

'یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ، بالٹی مور شہر کے طبی معائنہ کار ڈاکٹر آر ایس فشر کے مطابق، ہر سال بہت سے لوگ زہر کی چھوٹی خوراک لینے کے بعد مر جاتے ہیں، بظاہر غیر زہریلی خوراک کی مقدار لینے کے بعد۔ وہ اس وجہ سے مرجاتے ہیں ہیں کیونکہ انھیں اس کی وجہ سے موت کا یقین ہو جاتا ہے اور وہ اس یقین کے نتیجے میں مر جاتے ہیں۔'

اس کا تجربہ دواسازی کی لیبارٹریوں میں اینٹی ڈپریسنٹ اجزاء کی جانچ کے لیے ہزاروں بار دہرایا گیا جب محقق راجر پورسولٹ نے سنہ 1977 میں دریافت کیا کہ جن چوہوں کو ایسی ادویات دی گئی تھی وہ زیادہ دیر تک لڑتے ہیں۔

جانوروں سے حُسنِ سلوک کرنے کی تلقین کرنے والی تنظیم پیٹا (PETA) کے احتجاج کی وجہ سے لیبارٹریوں میں چوہوں کے تیرنے کے تجرابات کا رواج بہت کم ہو گیا ہے۔

ظالمانہ تجربے کے اسباق نفسیات میں زندہ رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ مینڈک کے تجربے کی طرح کہ یہ یجربہ اپنے قدرتی ماحول سے باہر مشہور ہوا، ساتھ ہی یہ خیال بھی مشہور ہوا کہ کہ اُمید ان مخلوقات کو مایوس کن حالات میں اپنی زندگی کے لیے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔