احساس جرم یا احساس ناکامی: اپنی نوکری چھوڑنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟

سنہ 2020 میں جیسے ہی برطانیہ میں لاک ڈاؤن نافذ ہوا تو جیمز جیکسن نے اپنی نوکری کو خیرآباد کہہ دیا۔

مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ جیمز ایک جِم میں بطور پرسنل ٹرینر کام کرتے تھے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’مجھے معلوم تھا کہ اب مجھے آن لائن کام کرنے کے طریقے اپنانے ہوں گے۔ جِم عموماً مصروف مقامات میں سے ایک ہیں اور میرا نہیں خیال کہ عالمی وبا کے باعث اب وہ اتنے مقبول رہیں گے۔ مجھے ایسا لگا کہ اگر میں وہیں رُکا رہا تو میں ایک موقع کھو بیٹھوں گا۔‘

مگر نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ جیمز نے آٹھ سال لگا کر اپنا کیریئر بنایا اور گاہک اکھٹے کیے تھے۔ ’مجھے صرف پرسنل ٹرینگ کروانی آتی تھی اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں اور کوئی ہنر نہیں تھا۔‘

مگر یہ فیصلہ کرتے ہوئے انھیں دوسروں کی آرا کا مقابلہ کرنے میں بھی مشکل پیش آ رہی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے باس کا خیال تھا کہ میں جلد بازی میں فیصلہ کر رہا ہوں اور یہ کہ مجھ پر میرے جذبات حاوی ہو گئے ہیں۔ میرے زیادہ تر ساتھیوں کا بھی یہی خیال تھا۔ ان کا خیال تھا کہ میں جلد بازی میں بُرا فیصلہ کر رہا ہوں۔ میں پہلے ہی پریشان تھا اور اب اُن کے خیالات نے میرے ذہن میں اور شکوک اور وسوسے پیدا کر دیے تھے۔‘

اگر آپ پرانی نوکری چھوڑ کر کسی نئی بہتر نوکری کی طرف نہیں جا رہے ہوتے ہیں تو لگی لگائی نوکری چھوڑنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو تو نوکری چھوڑنا ناکامی کا احساس بھی دلاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کولوراڈو میں مقیم ماہرِ نفسیات ملیسا ڈومین کا کہنا ہے کہ ‘عموماً لوگ خود پر تنقید کرتے ہیں۔ کئی لوگوں کے لیے ان کی نوکری ان کی ذاتی شناخت سے منسلک ہوتی ہے۔‘

اس سب کے باوجود ایسے شواہد بھی ہیں کہ بہت سے لوگ اپنی نوکریاں چھوڑنا چاہتے ہیں۔ بلکہ مائیکروسافٹ کے حالیہ سروے کے مطابق عالمی سطح پر 41 فیصد ملازمین اپنی موجودہ نوکریوں سے استعفے دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

امریکہ میں اپریل 2021 میں ایک ریکارڈ تعداد میں لوگوں نے اپنی نوکریاں چھوڑیں اور نوکری کو خیرآباد کہنے کی ایسی ہی لہر برطانیہ، آئرلینڈ، آسٹریلیا، اور نیوزی لینڈ میں بھی متوقع ہے۔ اس صورتحال کے لیے تو نام بھی رکھ دیا گیا ہے۔۔۔ ’دی گریٹ ریزیگنیشن۔‘

اس رجحان کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو لوگ کورونا وائرس کی وبا کے دوران اس بات کا ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں کہ انھیں اپنے کیریئر سے کیا چاہیے، انھیں گھر کی زندگی، کام، اور یہاں تک کہ نوکریاں دینے والوں کی جانب سے ذہنی دباؤ کو بیلنس کیسے کرنا ہے، چاہے جو بھی بنیادی عنصر ہو، بہت سے لوگ جو اپنی نوکریاں چھوڑ رہے ہیں انھیں اس سے ذہنی طور پر نمٹنے میں مشکل ہو گی۔

نوکری چھوڑنے کے ہمارے ارد گرد موجود لوگوں میں بھی اکثر منفی تاثرات ہوتے ہیں چاہے ہمارے پاس نوکری چھوڑنے کی کتنی ہی اچھی وجہ کیوں نہ ہو۔

نفسیاتی طور پر بے چینی

ملیسا ڈومین کا کہنا ہے کہ نوکریاں چھوڑنے والوں کے حوالے سے سماجی منفی خیالات کی بنیاد ایک پرانا خیال ہے کہ جب آپ کسی نوکری کو جوائن کر لیتے ہیں تو یہ آپ کا عمر بھر کا کیریئر بن جاتا ہے حالانکہ یہ اب حقیقت نہیں ہے۔

‘یہ خیال اسی کہانی کو دہراتا ہے کامیابی کے لیے سب سے اہم محنت، مستقل مزاجی یہاں تک کہ کسی بُری چیز کو کسی فائدے کے لیے سہنا ہے۔‘ یعنی وہ تمام خصوصیات جو کسی نوکری چھوڑنے والے کے پاس بظاہر نہیں ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ منفی خیالات ان لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں جو کسی نئی نوکری کے بغیر اپنی نوکری چھوڑتے ہیں۔ سنہ 2018 کی تحقیق کے مطابق جو لوگ ایک نوکری چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جا رہے ہوتے ہیں ان کے بارے میں یہی سوچا جاتا ہے کہ وہ اپنے کیریئر میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ان منفی اثرات سے لڑنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ آپ ثابت کریں کہ آپ کسی بیرونی وجہ سے نوکری چھوڑ رہے ہیں۔

یہ منفی خیالات انسان پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ بغیر کسی بنے بنائے منصوبے کے نوکری چھوڑنا لوگوں پر نفسیاتی دباؤ ڈالتا ہے۔ ذہن میں منفی خیالات جیسا کہ شرم، احساسِ جرم یا احساسِ ناکامی عام طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کوئی نوکری چھوڑ دیں اور آپ کے پاس اگلی نوکری نہیں ہے، یہ مشکل اس لیے بھی ہوتا ہے کیونکہ انسانی ذہن کو غیر یقینی صورتحال پسند نہیں ہوتی۔

اس کے عام طور پر دو ردعمل دیکھنے میں آتے ہیں، ایک ہے شدید بے چینی کہ کیا میں نے صحیح فیصلہ کیا بھی ہے یا نہیں اور دوسرا یہ کہ انسان غیر یقینی مستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کر منجمد ہو جائے۔

پرسنل ٹرینر جیمز پہلی نوعیت کے ردعمل سے گزرے۔ ان کے لیے نوکری چھوڑنے کا مطلب یہ تھا کہ انھوں نے اپنی گاڑی فروخت کی، اپنے والدین کے گھر میں واپس چلے گئے اور انھوں نے وہ واحد کام چھوڑ دیا جو انھیں آتا تھا۔ اس سب سے وہ اس قدر بے چین ہوئے کہ ایک ہفتے تک سو ہی نہیں سکے۔

اس کے علاوہ اگر آپ کے نوکری چھوڑنے کے پیچھے مشکل حالات تھے تو آپ کے جذبات اور بھی زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے

40 سالہ کرسٹن وائٹ نے جب ہیلتھ اینڈ ولنس کوچ کے طور پر اپنی نوکری چھوڑی تو انھوں نے غم کا ایک دور گزارا۔ وہ کہتی ہیں ’میں نے اپنے شوہر سے کہا مجھے ایک دو مہینے کی مہلت دو۔۔۔ میں غم سے گزر رہی ہوں کیونکہ میں انتہائی افسردہ تھی۔ کام میرا فخر تھا اور وہ چلا گیا تھا۔‘

وائٹ نے سنہ 2015 میں ایک کامیاب کارپوریٹ کیریئر اپنی ذہنی صحت کے لیے چھوڑا تھا جب ان کا پہلا بچہ پیدا ہوا تھا۔ انھوں نے بعد میں اپنا ویلنس کاروبار شروع کیا تھا مگر جب اپریل 2020 میں لاک ڈاؤن ہوا تو انھیں پھر ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، ایک تو اپنے کاروبار کو آن لائن لے جانا اور دوسرا اپنے بچوں کو گھر پر پڑھانا۔ انھیں یاد پڑتا ہے کہ انھیں ایسا لگتا تھا کہ وہ شرمندگی سے دوسروں کو بتا رہی تھیں کہ ان کا کاروبار بند ہو رہا ہے۔

نوکری چھوڑنے کا یہی عنصر بہت سے لوگوں کے لیے انتہائی مشکل ہو جاتے ہیں۔ ڈومین کہتی ہیں کہ لوگ اس پر اپنی رائے دیتے ہیں چاہے آپ مانگیں یا نہیں۔ ’اور اکثر یہی تاثر ہوتا ہے کہ اگر کسی نے نوکری چھوڑ دی ہے تو وہ ان مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔‘

وائٹ کو آج بھی اپنے دوستوں کی وہ باتیں یاد ہیں جب انھوں نے اپنی کارپوریٹ نوکری چھوڑی تھی، اس وقت لوگ کہہ رہے تھے کہ وہ اس مشکل حالات میں ناکام ہو گئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگوں کے منفی خیالات انھیں کافی عرصے تک ستاتے رہے۔ ’مجھے فورا لگا کہ لوگ اب مجھے جج کرنا شروع ہو گئے ہیں۔‘

جیسے جیسے جیمز جیکسن کی بے چینی بڑھنے لگی انھیں اس خیال سے لڑنا پڑا کہ وہ اپنی پرانی نوکری واپس لے لیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں معلوم تھا کہ اُن کے ساتھی یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ انھیں جیمز کے مستقبل کے بارے میں خدشات تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے باس کو یہ تسلیم کرنے بھی مشکل ہو رہی تھی کہ جمز کا کاروبار اب صرف آن لائن چلا کرے گا۔

ڈومین کہتی ہیں کہ جو لوگ نوکری چھوڑنا چاہتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ذاتی وجوہات پر زور دیں نہ کہ اس بات پر کہ لوگ کیا کہیں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ اپنی آئندہ زندگی کا فیصلہ نہیں کر رہے، صرف یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ آپ کا اگلا قدم کیا ہے۔

اس حوالے سے صحیح لوگوں کے مشورے لینا بھی اہم ہے۔ وہ کہتی ہیں فیصلہ کرنے کے بعد آپ کو ایسے لوگوں سے بات کرنی چاہیے جنھوں نے نوکریاں چھوڑی ہوں کیونکہ وہ آپ کے فیصلے کو منفی تناظر میں نہیں دیکھیں گے۔