پیراسیٹامول: درد سے چھٹکارا دلانے والی دوا بلڈ پریشر بڑھاتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فلیپا روکسبی
- عہدہ, ہیلتھ رپورٹر
کیا آپ سر درد یا بخار کے لیے پیراسیٹامول کی گولی کھانے کے عادی ہیں؟ آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سوال کیوں کیا جا رہا ہے۔
اس کی وجہ حال ہی میں پیراسیٹامول کے استعمال پر ہونے والی ایک نئی تحقیق ہے جس کے مطابق بلڈ پریشر یا فشار خون کے عارضے میں مبتلا ایسے مریضوں میں دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جو پیراسیٹامول کی گولی استعمال کرتے ہیں۔
یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے محققین کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق ماہرین امراض قلب کو زیادہ عرصے کے لیے مریضوں کو یہ دوائی دینے سے پہلے اس کے فوائد اور نقصانات پر غور کرنا چاہیے۔
لیکن اگر اس دوا کا استعمال صرف سر کے درد یا بخار کے لیے کیا جا رہا ہے تو اس میں کوئی خطرے والی بات نہیں۔
لیکن کچھ ماہرین ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اس تحقیق کے نتائج کی تصدیق کے لیے زیادہ عرصے تک زیادہ افراد پر اس دوائی کے اثرات کی تحقیق ضروری ہے۔
پیراسیٹامول مضر صحت بھی ہو سکتی ہے؟
واضح رہے کہ پیراسیٹامول دنیا بھر میں درد سے آرام کے لیے عام استعمال ہونے والی دوائی ہے۔ لیکن یہ دوائی طویل المدت تکلیف یا درد کے لیے بھی دی جاتی ہے حالانکہ زیادہ عرصے کے لیے یہ فائدہ مند ہے بھی یا نہیں، اس کے شواہد کم ہیں۔
اس دوائی کا استعمال کتنا عام ہے؟ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ جیسے ملک میں ہر دس میں سے ایک شخص کو 2018 میں درد کے لیے پیراسیٹامول دی گئی۔
لیکن اس حالیہ تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص کو ہائی بلڈ پریشر ہو، جو عام طور پر برطانیہ میں ہر تین میں سے ایک شخص کو ہوتا ہے، تو ایسے شخص کے لیے اس دوا کا استعمال مضر صحت بھی ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحقیق کے دوران 110 رضاکاروں کی مدد کی گئی جن میں سے تقریبا دو تہائی افراد یہ دوا ہائی بلڈ پریشر یا ہائیپر ٹینشن کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
پیراسیٹامول کھانے والوں کا بلڈ پریشر بڑھ گیا
حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے اس ٹرائل کے دوران ان افراد کو کہا گیا کہ وہ دو ہفتے تک دن میں چار بار پیراسیٹامول کی ایک گرام خوراک استعمال کریں۔
یہ خوراک طویل المدت درد کے لیے عام طور پر دی جاتی ہے۔ ان افراد کو پہلے دو ہفتوں تک پیراسیٹامول کے استعمال کے بعد اگلے دو ہفتے تک ڈمی پلز، یعنی خالی گولی جس میں پیراسیٹامول نہیں تھی، دی گئی۔
ایڈنبرا کے کلینیکل فارماکالوجسٹ پروفیسر جیمز ڈیئر نے بتایا کہ اس ٹرائل کے نتائج میں معلوم ہوا کہ پیراسیٹامول نے خالی گولی کے مقابلے میں بلڈ پریشر بڑھا دیا جو دل کے دورے اور سٹروک کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس ٹرائل میں شامل محققین کے مطابق ڈاکٹرز کو چاہیے کہ مریضوں کو شروع میں پیراسیٹامول کی کم خوراک تجویز کی جائے اور ایسے مریضوں پر خصوصی طور پر نظر رکھی جائے جنھیں عارضہ قلب ہو یا ہائی بلڈ پریشر ہو۔
گٹھیا یا جوڑوں کا درد بھی برطانیہ میں طویل المدت یا دائمی درد کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایک چیریٹی (فلاح عامہ کی تنظیم) ورسس ارتھرائٹس نے کہا ہے کہ درد کے علاج کے لیے محفوظ ادویات درکار ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ دیگر اقدامات بھی ضروری ہیں جیسا کہ تندرست اور توانا رہنے کے لیے ورزش اور چست رہنے کی حوصلہ افزائی سمیت ذہنی صحت کے مسائل میں مدد فراہم کرنا۔
ڈاکٹر بینجیمن ایلس اس چیریٹی میں کنسلٹنٹ رئیوماٹولوجسٹ ہیں۔ ان کے مطابق اگر آپ کو درد کے لیے لی جانے والی دوا کے خطرات یا اثرات پر تحفظات ہیں تو بہتر ہے کہ آپ کسی ماہر سے رابطہ کریں تاکہ وہ آپ کی مدد کر سکیں اور بہتر مشورہ دے سکیں۔
اس تحقیق کی سربراہی کلینیکل فارماکالوجی کنسلٹنٹ ڈاکٹر این میکینٹائر کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ سر درد یا بخار کے لیے پیراسیٹامول کے قلیل المدتی استعمال سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’اب بھی بہت کچھ واضح نہیں‘
یونیورسٹی آف لندن میں کلینیکل فارماکالوجی کے لیکچرر ڈاکٹر دپیندر گل نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جرنل سرکولیشن میں شائع ہونے والی اس سٹڈی نے سکاٹ لینڈ کی سفید فام آبادی کے ایک حصے میں بہت کم درجے تک بلڈ پریشر میں اضافہ نوٹ کیا لیکن ابھی بھی بہت سی چیزوں کے بارے میں علم نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو یہ واضح نہیں کہ آیا بلڈ پریشر میں جو اضافہ نوٹ کیا گیا وہ کہیں پیراسیٹامول کے زیادہ دیر استعمال کے بعد برقرار رہے گا یا نہیں۔
’دوسرا، یہ مکمل یقین سے ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ پیراسیٹامول کے استعمال سے بلڈ پریشر میں اضافے سے کیا واقعی دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔‘
پیراسیٹامول کا استمعال: محفوظ یا مضر صحت؟

،تصویر کا ذریعہBLACKJACK3D/GETTY
واضح رہے کہ اس سے پہلے ایک امریکی تحقیق نے بھی پیراسیٹامول کے زیادہ عرصہ استعمال اور دل کے دورے میں تعلق ڈھونڈ نکالا تھا لیکن وہ یہ ثابت نہیں کر سکے کہ اس کی وجہ یہی تھی۔
اس کے بعد چند چھوٹی سطح پر ہونے والی تحقیقات میں بھی یہ تعلق ثابت نہیں ہو سکا کہ پیراسیٹامول کا زیادہ عرصہ استعمال دل کی بیماریوں میں اضافہ یا دل کے دورے کی وجہ بنتا ہے۔
ایڈنبرا کی ٹیم کے مطابق وہ اس بات کی وضاحت تو نہیں کر سکتے کہ پیراسیٹامول نے بلڈ پریشر کیسے بڑھایا لیکن ان کی تحقیق کے بعد اس دوا کے دیرپا استعمال پر ازسرنو غور ہونا چاہیے۔
پیراسیٹامول کو بروفن جیسی نان سٹیرائڈل اینٹی انفلیمیٹری ادویات سے زیادہ محفوظ تصور کیا جاتا تھا جن کے بارے میں عام خیال تھا کہ ان سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔
برطانوی ہارٹ فاونڈیشن کی جانب سے، جس نے اس تحقیق کے لیے رقم فراہم کی ہے، کہا گیا کہ ڈاکٹرز اور مریضوں کو باقاعدگی کے ساتھ سوچنا چاہیے کہ بظاہر بے ضرر لگنے والی کوئی بھی دوا، چاہے وہ پیراسیٹامول ہی کیوں نہ ہو، ضروری بھی ہے یا نہیں۔
سٹروک ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر رچرڈ فرانسس کہتے ہیں کہ صحت مند افراد جن کا بلڈ پریشر بلکل ٹھیک ہے ان میں زیادہ عرصے پر محیط تحقیق کے ذریعے پیراسیٹامول کے فوائد اور نقصانات کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔












