فیس بک کی 18 برس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یومیہ سرگرم صارفین کی تعداد میں کمی

Chairman and CEO of Facebook Mark Zuckerberg

،تصویر کا ذریعہEPA

سوشل میڈیا کمپنی فیس بک کی 18 سال کی تاریخ میں پہلی بار یومیہ ایکٹیو صارفین (ڈی اے یو) کی تعداد گری ہے۔

فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نیٹ ورکس کے مطابق ڈی اے یو کی تعداد دسمبر میں ختم ہونے والی سہ مائی میں 1.929 ارب صارفین رہی جبکہ اس سے گذشتہ سہ مائی میں یہ 1.930 ارب صارفین تھی۔

کمپنی نے اپنے ریونیو میں اضافے میں بھی سست روی کا عندیہ دیا ہے اور اس کی وجہ ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسی کمپنیوں سے مقابلے اور اشتہارات میں کمی بتائی ہے۔

میٹا نیٹ ورکس کی حصص کی قیمت نیویارک میں مارکیٹیں بند ہونے کے بعد تقریباً 20 فیصد گر گئی ہے۔ اس گراوٹ سے کمپنی کی قیمت میں تقریباً 200 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔

دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں جیسے کہ ٹوئٹر، سنیپ چیٹ، پن ٹرسٹ کے حصص کی قیمتوں میں بھی تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔

چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ کمپنی کی سیلز تیزی سے کم ہوئی ہے کیونکہ نوجوان صارفین دیگر پلیٹ فارمز کی جانب راغب ہوئے ہیں۔

میٹا نیٹ ورکس کے پاس گوگل کے بعد دنیا میں دوسرا بڑا ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اپیل کے آپریٹنگ سسٹم میں پرائویسی قواعد کی تبدیلی کی وجہ سے بھی اسے نقصان ہوا۔

ان تبدیلیوں کی وجہ سے اشتہار لگانے والوں کو انسٹاگرام اور فیس بک پر اپنے اشتہارات کو مخصوص لوگوں تک پہنچانے اور اپنے اشتہارات کے نتائج جانچے میں مشکلات ہوئیں۔ میٹا کے چیف فائنینشل آفسر ڈیو ویہنر کے مطابق ان تبدیلیوں کی وجہ سے دس ارب ڈالر تک کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

People in a metaverse

،تصویر کا ذریعہMeta

تاہم اسی دورانیے میں میٹا کی آمدن، جس کا بڑا حصہ اشتہارات کی سیل سے آتا ہے، بڑھ کر 33.67 ارب ڈالر ہوا جو کہ مارکیٹ کی توقعات سے تھوڑا سا ہی زیادہ تھا۔

تاہم انھوں نے آئندہ سہ مائی کے لیے 27 سے 29 ارب ڈالر ریونیو کی پیشگوئی کی، جو کہ توقعات سے کم ہے۔ ادھر کمپنی نے ٹک ٹاک کا مقابلے کرنے کے لیے اپنا ویڈیو پلیٹ فارم بھی بنایا ہے تاہم ابھی وہ اتنا منافع بخش نہیں۔

مارک زکربرگ پراعتماد ہیں کہ کمپنی کی ویڈیو اور ورچوئل ریئلٹی میں سرمایہ کاری سود مند ثابت ہو گی جیسا کہ ماضی میں موبائل ایڈورٹائزنگ اور انسٹاگرام سٹوریز رہی ہیں۔

تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں لائحہ عمل تبدیل کرنے کے دوران انھیں دیگر کمپنیوں کی طرف سے زیادہ مقابلہ نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ ‘ہماری ٹیمز بہترین کام کر رہی ہیں اور ہمارا پروڈکٹ تیزی سے بڑھ رہا ہے مگر یہاں جو بات نئی ہے وہ یہ ہے کہ ٹک ٹاک ایک بہت بڑا حریف پہلے ہی مارکیٹ میں موجود ہے اور وہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔‘

2px presentational grey line

جیمز کلےٹن، شمالی امریکہ میں ٹیکنالوجی کے نامہ نگار کا تجزیہ

میٹا عدم مقبولیت کی جانب گامزن؟

فیس بک ہمیشہ سے ہی ایسا پلیٹ فارم رہا ہے جو ترقی کرتا ہے۔ جب سے یہ پلیٹ فارم بنا ہے عالمی سطح پر اس کے اعداد و شمار ایک ہی سمت میں جاتے رہے ہیں تاہم گذشتہ چند سال میں امریکہ اور یورپ میں اس کی مقبولیت رک سی گئی ہے۔ دنیا کے دیگر حصوں میں اضافے کی وجہ سے یہ سب کچھ چھپ گیا تھا۔

آج فیس بک نوجوانوں میں اتنا مقبول نہیں جتنا ماضی میں تھا۔ انھوں نے خود اعتراف کیا کہ ٹک ٹاک ان کے کاروبار کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

مگر کچھ اور وجوہات بھی ہیں جس کی وجہ سے میٹا کے سرمایہ کار پریشان ہیں۔ میٹا نے اپنا نام اس لیے تبدیل کیا تھا تاکہ وہ میٹا ورس پر توجہ دے سکیں مگر میٹا ابھی میٹا ورس بننے سے کافی دور ہے اور یہ فی الحال ایک خواب ہے۔

مگر وہ پھر بھی اس میں اربوں ڈالر سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ مارک زکربرگ سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں اس کی مانگ ہو گی، جو ایک بہت بڑا خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔

آپ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ شاید میٹا کے مسائل کا فوری حل یہ ہو کہ وہ ٹک ٹاک خرید لیں؟ مگر امریکہ میں حکام انسدادِ اجارادی قوانین کی وجہ سے ایسا ہونے نہیں دیں گے اور سیلیکون ویلی میں بہت سے لوگ فیس بک کو ناکام برانڈ ماننے لگے ہیں۔ دس سال پہلے کے برعکس آج یہ کام کرنے کے لیے کوئی مقبول جگہ نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ نئے ٹیلنٹ کو اپنی طرف راغب کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ میٹا کے مستقبل میں شدید مشکلات آنے والی ہیں اور یہ شاید ان کی ابتدا ہے۔