فائیو جی ٹیکنالوجی پر فضائی کمپنیوں کے خدشات کے بعد امریکی ائیرپورٹس پر جدید سروس کی فراہمی ملتوی

فائیو جی

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, جوناتھن جوزف
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

امریکی موبائل نیٹ ورکس اے ٹی اینڈ ٹی اور ویرائزن نے کچھ ایئرپورٹس پر اپنی نئی فائیو جی سروس کی فراہمی ملتوی کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

تیز رفتار انٹرنیٹ اور وسیع تر کوریج فراہم کرنے والی اس سی بینڈ سروس کو ایک دن بعد شروع کیا جانا تھا۔

مگر امریکی ایئرلائنز نے اس کی شروعات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اُن کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے سگنلز طیاروں کے نیویگیشن سسٹمز میں رخنہ ڈال سکتے ہیں۔

ان مواصلاتی کمپنیوں نے سروس کی فراہمی محدود کرنے کے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے اپنی بے چینی کا بھی اظہار کیا ہے۔

اے ٹی اینڈ ٹی کا کہنا ہے کہ وہ 'مخصوص ایئرپورٹس کے رن ویز کے قریب محدود تعداد میں ٹاورز' پر سروس کی فراہمی 'عارضی طور پر' ملتوی کر رہے ہیں۔

کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ ریگولیٹری اداروں کے پاس فائیو جی سروس کی شروعات کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے 'دو سال' تھے۔

اپنے ایک بیان میں دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنیوں میں سے ایک اے ٹی اینڈ ٹی نے کہا کہ 'ہم وہ کام کرنے میں فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی ناکامی پر مضطرب ہیں جو 40 ممالک پہلے ہی کر چکے ہیں، یعنی ہوابازی میں کسی رخنے کے بغیر فائیو جی ٹیکنالوجی کی محفوظ تنصیب، اور ہم بروقت ایسا کرنے پر زور دیتے ہیں۔'

کمپنی نے کہا کہ 'ہم سوائے محدود تعداد میں ان ٹاورز پر عارضی التوا کے اپنی جدید فائیو جی سروس منصوبے کے مطابق ہر جگہ شروع کر رہے ہیں۔'

ویرائزن نے بھی کہا کہ کمپنی نے 'ایئرپورٹس کے گرد ہمارے فائیو جی نیٹ ورک کو رضاکارانہ طور پر محدود کرنے' کا فیصلہ کیا ہے۔

فائیو جی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ تیسرا التوا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایئرلائنز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فائیو جی سروسز ہوابازی میں شدید مداخلت کر سکتی ہیں جس سے ایئرلائنز کو اپنے کچھ طیارے گراؤنڈ کرنے پڑیں گے اور پروازیں منسوخ کرنی پڑیں گی اور وائٹ ہاؤس اور حکامِ ہوابازی فضائی کمپنیوں کے نشاندہی کردہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ فضائی کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ سی بینڈ استعمال کرنے والے فائیو جی سگنل طیاروں کے نیویگیشن سسٹمز میں مداخلت کر سکتے ہیں، خاص طور پر اُن سسٹمز میں جو خراب موسم میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

’اقتصادی آفت‘

اس سے قبل امریکہ کی 10 بڑی ایئرلائنز نے امریکی ایوی ایشن حکام کو ایک خط کے ذریعے خبردار کیا تھا کہ فائیو جی کی عنقریب شروع ہونے والی سروس پروازوں میں ’بڑی رکاوٹ‘ کا سبب بنے گی۔

ایئرلائنز نے کہا ہے کہ ویرائزن اور اے ٹی اینڈ ٹی فائیو جی موبائل فون سروسز کا بدھ سے ہونے والا آغاز ’ایسی اقتصادی آفت‘ کا سبب بنے گا جس سے بچا جا سکتا ہے۔

ڈیلٹا ایئر لائنز اور یونائیٹڈ ایئر لائنز کے چیف ایگزیکٹوز نے دیگر کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس خط میں کہا ہے کہ ’ویکسین کی تقسیم، ہوائی سفر، سپلائی چین اور ضروری طبی سامان کی ترسیل میں اہم آپریشنل رکاوٹ سے بچنے کے لیے اس معاملے پر فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔‘

بی بی سی نے ایئر لائنز کی جانب سے لکھے گئے اس خط کو دیکھا ہے جس میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس خط کو ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری کے ساتھ ساتھ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے سربراہ، فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن کے سربراہ اور نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کو بھی بھیجا گیا ہے۔

بی بی سی سمجھتا ہے کہ امریکی حکومت میں اعلیٰ ترین سطح پر اس بارے میں بات چیت جاری ہے اور اسے ’انتہائی غیر یقینی صورتحال‘ قرار دیا گیا ہے۔

اس خط میں کہا گیا ہے کہ ایئر لائنز چاہتی ہیں کہ فائیو جی سگنلز کو ’ہوائی اڈوں کے رن ویز سے تقریباً دو میل کے فاصلے سے باہر رکھا جائے۔‘

’یہ عمل ہوا بازی کی صنعت، عوامی سفر، سپلائی چین، ویکسین کی تقسیم، ہماری افرادی قوت اور وسیع تر معیشت پر منفی اثرات ڈالے بغیر فائیو جی کی تعیناتی کی اجازت دے گا۔‘

’ہم مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ ایف اے اے فوری طور پر ان اڈوں کی نشاندہی بھی کرے جو ایئرپورٹس کے رن وے کے قریب ہیں اور حفاظت کو یقینی بنانے اور خلل سے بچنے کے لیے ان پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔‘

فائیو جی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جہاز بنانے والی دو بڑی کمپنیوں ایئربس اور بوئنگ نے حال ہی میں اپنی ایک مشترکہ وارننگ میں ان پہلوؤں کو اجاگر کیا تھا۔

ایئر لائنز کے گروپ نے کہا ہے کہ ’جہازوں بنانے والوں نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ اس وقت سروس میں جہازوں کی بہت بڑی تعداد کو غیر معینہ مدت تک گراؤنڈ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’حل کی تلاش جاری‘

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ حکام ایسے حل پر کام کر رہے ہیں جو 'سفر میں کم سے کم مداخلت کے ساتھ حفاظت کا بلند ترین معیار قائم رکھے۔'

فون کمپنیوں نے فائیو جی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی خاطر اپنے نیٹ ورکس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں لیکن ہوا بازی کی صنعت کے خدشات کی وجہ سے پہلے ہی کئی بار فائیو جی کی لانچ کی تاریخوں میں تاخیر ہو چکی ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی سے انٹرنیٹ سروسز کہیں زیادہ تیز ہو جائیں گی جبکہ وسیع پیمانے پر کوریج حاصل ہو سکے گی۔

کچھ دیگر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کو ہوائی اڈوں کے گرد فائیو جی سگنلز محدود کرنے کے لیے پابند کیا گیا ہے۔

فائیو جی

،تصویر کا ذریعہReuters

اتوار کے روز امریکہ میں فضائی سلامتی کی ذمہ دار تنظیم ایف اے اے نے کہا تھا کہ اس نے تقریباً 45 فیصد امریکی کمرشل طیاروں کو فائیو جی والے ہوائی اڈوں پر ’لو وزیبیلٹی لینڈنگ‘ کے لیے کلیئر کر دیا تھا۔

ایف اے اے نے مزید کہا کہ اس نے ’دو ریڈیو الٹی میٹر ماڈلز کی منظوری دی ہے جو بوئنگ اور ایئربس طیاروں کی وسیع اقسام میں نصب ہیں‘ تاہم ان نئی منظوریوں کے باوجود، کچھ ہوائی اڈوں پر پروازیں اب بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

’ایف اے اے یہ سمجھنے کے لیے مینوفیکچررز کے ساتھ بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے کہ فلائٹ کنٹرول کے دوسرے نظاموں میں ریڈار الٹی میٹر کا ڈیٹا کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ مسافروں کو چاہیے کہ وہ اپنی ایئر لائنز سے چیک کریں کہ آیا کسی ایسی منزل پر موسم کی پیشینگوئی کی گئی ہے جہاں فائیو جی کی مداخلت ممکن ہے۔‘

امریکہ کا وائرلیس انڈسٹری گروپ سی ٹی آئی اے یہ کہہ چکا ہے کہ فائیو جی محفوظ ہے اور اس نے ہوا بازی کی صنعت پر خوف پھیلانے اور حقائق کو مسخ کرنے کا الزام لگایا۔

سی ٹی آئی اے کی چیف ایگزیکٹو میرڈیتھ اٹویل بیکر نے نومبر میں کہا تھا کہ ’تاخیر حقیقی نقصان کا سبب بنے گی۔ اس سے معاشی نمو میں اس وقت 50 بلین ڈالر کی کمی ہو گی جب ہماری قوم وبائی مرض سے صحت یاب ہو کر بحالی کی کوشش میں ہے۔‘