فائیو جی سے ’بچانے‘ والے ہار میں تابکاری کی موجودگی کا انکشاف

،تصویر کا ذریعہRIVM
یورپی ملک نیدرلینڈز (ہالینڈ) میں نیوکلیئر سیفٹی اور تابکار شعاعوں سے حفاظت کے ادارے (اے این وی ایس) نے ایک تنبیہ جاری کی ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب قریب 10 پراڈکٹس میں نقصان دہ 'آئنائزنگ ریڈی ایشن' (جو مادے کی آئنائزیشن کا سبب بن سکتی ہے) ہوتی ہیں اور پہننے والوں تابکاری سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس نوعیت کی ایسی کئی اشیا مارکیٹ میں دستیاب ہیں جو جدید فائیو جی موبائل نیٹ ورک سے 'محفوظ رکھنے' کا دعویٰ کرتی ہیں۔ تاہم ان میں سے بعض ہار اور دیگر چیزوں میں تابکاری کی صلاحیت ہوسکتی ہے۔
ادارے نے لوگوں کو ایسی مصنوعات استعمال نہ کرنے کی تجویز دی ہے کیونکہ ان سے طویل مدتی نقصانات ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ فائیو جی موبائل نیٹ ورک صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ فائیو جی موبائل نیٹ ورک محفوظ ہیں اور بنیادی طور پر یہ موجودہ تھری جی اور فور جی سگنلز سے مختلف نہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
موبائل نیٹ ورکس میں نان آئنائزنگ ریڈیو ویوز استعمال ہوتی ہیں جو ڈی این اے کو نقصان نہیں پہنچاتیں۔
اس کے باوجود ایسے لوگوں کی جانب سے اس کے ٹرانسمیٹرز پر حملے کیے گئے ہیں جو اسے نقصان دہ خیال کرتے ہیں۔
اے این وی ایس نے جن پراڈکٹس کے حوالے سے تنبیہ جاری کی ہے ان میں 'انرجی آرمر' نامی سلیپنگ ماسک، بریسلیٹ اور ہار شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میگنیٹک ویلنس نامی بچوں کی بریسلیٹ بھی شعاعوں کی تابکاری کرتی پائی گئی ہے۔ ڈچ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 'اسے اب دوبارہ مت پہنیں۔ اسے ایک محفوظ انداز میں دور رکھ دیں اور واپس کرنے کی ہدایات کا انتظار کریں۔'

،تصویر کا ذریعہRIVM
یہ بھی پڑھیے
اے این وی ایس کا کہنا ہے کہ 'نیدرلینڈز میں ایسی اشیا بیچنے والے افراد کو بتایا گیا ہے کہ ان کی فروخت ممنوع ہے اور اسے فوری طور پر روکا جائے۔ اور انھیں اپنے صارفین کو اس بارے میں اطلاع دینا ہوگی۔'
فائیو جی ٹیکنالوجی کے خلاف سازشی نظریات ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں اینٹی فائیو جی ڈیوائسز عام ہوگئی ہیں جن کا عمومی طور پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
مئی 2020 میں برطانوی حکام نے 339 پاؤنڈ کی ایک ایسی یو ایس بی کی فروخت بند کروا دی تھی جو فائیو جی سے 'محفوظ' رکھنے کا دعویٰ کرتی تھی۔
ای کامرس ویب سائٹ ایمازون پر 'اینٹی ریڈی ایشن سٹیکر' یعنی تابکاری سے بچانے والے سٹیکر بھی بیچے جا رہے ہیں۔
اے این وی ایس نے اپنی ویب سائٹ پر ایسی اشیا کی فہرست جاری کی ہے جن میں تابکاری کی صلاحیت ہے۔













