آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسرائیل میں سیکس سروگیٹ تھیراپی کو زخمی فوجیوں کی جنسی صلاحیت کی بحالی کے لیے کیسے استعمال کیا جا رہا ہے؟
- مصنف, یولاند نیل اور فل مرزوک
- عہدہ, بی بی سی تل ابیب
اکثر ممالک میں سروگیٹ سیکس تھیراپی‘ متنازع ہے اور اسے بڑے پیمانے پر پریکٹس نہیں کیا جاتا ہے۔ سروگیٹس سیکس تھیراپی سے مراد ایک ایسا علاج ہے جس میں مریض کی جنسی زندگی بحال کرنے کے لیے اسے وقتی طور پر جنسی ساتھی فراہم کیا جاتا ہے۔
تاہم اسرائیل میں یہ تھیراپی ایسے فوجیوں کے لیے سرکاری معاونت کے عوض دستیاب ہے جو بری طرح زخمی ہو جاتے ہیں اور انھیں جنسی بحالی کی ضرورت ہوتی ہے۔
تل ابیب میں ایک اسرائیلی سیکس تھیراپسٹ رونت الونی کا کلینک کسی بھی تھیراپسٹ کے دفتر جیسا ہی ہے۔ ان کے دفتر میں ایک طرف مریضوں کے لیے ایک آرام دہ صوفہ موجود ہے اور دیوار پر ایک جانب مردانہ اور زنانہ اعضا کی تصاویر لٹکی ہیں جو سیکس کے عمل کو سمجھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
تاہم اس سے متصل کمرے میں ایک بیڈ ہے اور موم بتیاں روشن ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں معاوضہ لے کر سروگیٹ پارٹنر کا کردار نبھانے والے افراد الونی کے مریضوں کو سکھاتے ہیں کہ وہ ایک رشتے میں کیسے قربت پیدا کر سکتے ہیں اور پھر بالآخر سیکس کیسے کر سکتے ہیں۔
الونی بتاتی ہیں کہ 'یہ ایک ہوٹل نہیں بلکہ ایک گھر یا اپارٹمنٹ معلوم ہوتا ہے۔' یہاں ایک بیڈ، سی ڈی پلیئر اور ساتھ ہی غسل خانہ بھی ہے۔ کمرے کی دیواروں پر شہوت انگیز تصاویر موجود ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ 'سیکس تھیراپی کئی اعتبار سے کپلز تھیراپی سے مماثلت رکھتی ہے اور اگر آپ کا کوئی ساتھی نہیں ہے تو آپ یہ مراحل مکمل نہیں کر سکتے۔ سروگیٹ مرد بھی ہو سکتا ہے اور عورت بھی اور وہ کسی بھی شخص کے لیے ان کے پارٹنر کا کردار نبھاتے ہیں۔'
دنیا بھر میں ناقدین اسے جسم فروشی سے جوڑتے ہیں لیکن اسرائیل میں اس تھیراپی کی مقبولیت اب اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ریاست ایسے فوجیوں کی یہ تھیراپی کرنے میں معاونت کرتی ہے جنھیں ایسے زخم آئے ہوتے ہیں جو ان کی سیکس کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔
الونی نے جنسی بحالی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ 'لوگوں کے لیے یہ احساس بہت ضروری ہوتا ہے کہ وہ کسی اور کو جنسی لذت پہنچا سکیں اور انھیں کسی اور سے جنسی لذت مل سکے۔'
وہ اس حوالے سے مزید بتاتی ہیں کہ 'لوگ یہاں تھیراپی کے لیے آتے ہیں نہ کہ جنسی لذت کے لیے۔ اس میں اور جسم فروشی میں کوئی مشابہت نہیں ہے۔'
’اس کے علاوہ 85 فیصد سیشنز دراصل قربت بڑھانے کے بارے میں ہوتے ہیں یعنی آپ ایک دوسرے کو چھو رہے ہیں، بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ دراصل آپ کو اپنے بارے میں بھی سکھاتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ آپ دوسروں سے کیسے رشتہ استوار کر سکتے ہیں۔ سیکس اس سلسلے کی آخری کڑی ہے۔'
تیس برس قبل ایک حادثے میں زخمی ہونے والے مسٹر اے ان فوجیوں میں سے ہیں جن کی اسرائیلی وزارت دفاع نے سروگیٹ سیکس تھیراپی کے لیے معاونت کی۔ وہ اس کہانی میں اپنی شناخت مسٹر اے کے طور پر ہی کروانا چاہتے ہیں۔
ان کے ساتھ ہونے والے حادثے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ خاصی بلندی سے گرنے کے بعد ان کا نچلا دھڑ مفلوج ہو گیا تھا اور وہ پہلے کی طرح سیکس کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ 'جب میں زخمی ہوا تو میں نے ایسی چیزوں کی فہرست بنائی جو میں کرنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ میں کسی کی مدد کے بغیر غسل لوں، کھا سکوں، کپڑے پہنوں، ڈرائیو کروں اور آزادانہ طور پر سیکس کر سکوں۔'
مسٹر اے کے ساتھ جب یہ حادثہ پیش آیا تو وہ شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی تھے۔ تاہم ان کی بیوی کو ڈاکٹروں یا تھیراپسٹس کے سامنے سیکس سے متعلق بات کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی اس لیے انھوں نے مسٹر اے کو ڈاکٹر الونی سے مدد حاصل کرنے کے لیے راضی کیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ کیسے الونی نے انھیں اور ان کی سروگیٹ پارٹنر کو ہر سیشن سے پہلے اور بعد میں مدد دی اور اپنا فیڈبیک دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ 'آپ بالکل شروعات میں صرف ایک دوسرے کو چھو رہے ہوتے ہیں اور پھر یہ آہستہ آہستہ آرگیزم تک پہنچ جاتا ہے۔'
مسٹر اے کا ماننا ہے کہ ریاست کی جانب سے ان کی جنسی زندگی کی بحالی کے لیے معاونت ویسے ہی درست ہے جیسے ان کے جسم کے دیگر حصوں کی بحالی کے لیے درست تھی۔ آج ان کے تین ماہ کے بحالی پروگرام کی قیمت تقریباً 5400 ڈالر ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ 'کسی سروگیٹ سے مدد لینا میری زندگی کا مقصد نہیں تھا، میں زخمی تھا اور میں چاہتا تھا کہ میں اپنی زندگی کے تمام شعبوں کو بحال کر سکوں۔' جب وہ یہ بات کر رہے تھے تو وہ اپنے ٹریک سوٹ میں ملبوس، وہیل چیئر میں بیٹھے ٹیبل ٹینس کھیلنے کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔
'مجھے اپنی سروگیٹ پارٹنر سے محبت نہیں ہوئی۔ میں شادی شدہ تھا۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ میں اپنے مقصد میں کیسے کامیاب ہو سکتا ہوں۔ میں نے اسے ایک انتہائی منطقی چیز کے طور پر لیا جو میں کرنا چاہتا تھا۔'
وہ اس حوالے سے سیکس سے متعلق مغربی رویوں کو اس بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کی وجہ قرار دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'سیکس زندگی کا حصہ ہے، یہ زندگی میں اطمینان پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں وہ مرد ہوں جو متعدد خواتین سے جنسی تعلقات استوار کرنے کا شوق رکھتا ہے، مسئلہ یہ نہیں ہے۔'
الونی کے کلینک پر مختلف عمروں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی آمدورفت جاری ہے۔ ان میں سے اکثر ایک رومانوی تعلق قائم رکھنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ قربت نہیں بڑھا پاتے یا ان میں شدید اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے یا وہ اس سے پہلے جنسی تشدد کا شکار رہ چکے ہوتے ہیں۔ دیگر افراد کو جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔
الونی نے خاص طور پر جسمانی معذوری کا شکار افراد کو اہمیت دی ہے۔ ان کے والد اور متعدد قریبی رشتہ دار بھی معذوری کا شکار تھے اور ان کے والد جو پائلٹ تھے ان کے ساتھ ایسا طیارہ حادثے کے بعد ہوا۔
الونی کہتی ہیں کہ 'میں نے اپنی پوری زندگی ایسے لوگوں کے درمیان گزاری ہے جو اپنی مختلف معذوریوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان تمام افراد کی بحالی بہت مؤثر انداز میں کی گئی تھی، اسی وجہ سے میں اس حوالے سے خاصی پرامید اور مثبت سوچ رکھتی تھی۔'
الونی جب نیویارک میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو ان کی ایک سروگیٹ سے خاصی دوستی ہو گئی جو وہاں لوگوں کو تھیراپی دینے میں مدد کرتی تھی۔
جب وہ 1980 کی دہائی کے اواخر میں اسرائیل واپس لوٹیں تو انھوں نے ایک معروف یہودی عالم سے سروگیٹس کے ذریعے تھیراپی فراہم کرنے کی اجازت مانگی اور پھر دیہی کمیونٹی کے ایک بحالی مرکز میں یہ تھیراپی فراہم کرنی شروع کر دی۔
یہودی عالموں کی ایک شرط ضرور تھی اور وہ یہ کہ کوئی بھی شادی شدہ مرد یا عورت بطور سروگیٹ کام نہیں کر سکیں گے اور الونی کے مطابق انھوں نے اس پر من و عن عمل کیا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے اسرائیلی حکام کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ ان ایک ہزار افراد میں سے جنھوں نے ان کے کلینک پر سروگیٹ سیکس تھیراپی لی ہے ان میں سے درجنوں زخمی فوجی تھے۔ ان میں سے اکثر کو دماغی چوٹ یا ریڑھ کی ہڈی پر زخم آئے تھے۔ ان سب کی مالی معاونت حکومت کی جانب سے کی گئی تھی۔
الونی کا خیال ہے کہ اسرائیل کا خاندانی نظام اور یہاں کے لوگوں کی فوج سے محبت کے باعث انھیں یہ حمایت حاصل ہوئی ہے۔ 18 سال کی عمر کے بعد اکثر اسرائیلی نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے اور پھر یا تو وہ فوج میں ہی کام کرتے رہتے ہیں یا پھر بعد میں بطور ریزرو فوجی کام کرتے ہیں۔
الونی کہتی ہیں کہ 'جب سے ہمارا ملک بنا ہے تب سے ہی ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ اسرائیل میں ہر کوئی ایسے افراد کو جانتا ہے جو یا تو زخمی ہوئے، یا ہلاک ہوئے اور ہر کسی کا ایسے افراد کی مالی معاونت کرنے سے متعلق مثبت رویہ ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم ان کے احسان مند ہیں۔'
لمبے قد کے 40 سالہ ڈیوڈ وسطی اسرائیل میں اپنے گھر کے باغ میں بیٹھے ہیں اور انھوں نے اپنی ٹانگوں پر کمبل اوڑھ رکھا ہے۔ وہ ماضی میں ریزرو فوجی کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور ان کی زندگی سنہ 2006 کی لبنان جنگ ٹوٹ سی گئی تھی اور وہ بولنے اور حرکت کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔
اب وہ صرف اپنی تھیراپسٹ کی مدد سے بات کر سکتے ہیں جب وہ انھیں مدد دے کر ان کے ہاتھ میں قلم تھماتی ہیں تو وہ ایک وائٹ بورڈ پر لکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔
ڈیوڈ بتاتے ہیں کہ 'میں ایک عام سا شخص تھا۔ میں مشرقِ بعید سے ہو کر آیا تھا۔ میں ایک یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا اور شراب خانے میں نوکری کر رہا تھا۔ مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا پسند تھا اور کھیلوں سے محبت تھی۔' تاہم جنگ کے دوران جب ان کی ملٹری یونٹ پر حملہ ہوا تو انھیں سر اور ٹانگ پر شدید زخم آئے اور وہ تین سال تک ہسپتال میں داخل رہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس دوران ان میں جینے کی امنگ ہی ختم ہو گئی۔
تاہم پھر امید کی کرن اس وقت نظر آئی جب ان کی تھیراپسٹ نے انھیں سروگیٹ سیکس تھیراپی کے بارے میں بتایا۔
ڈیوڈ کہتے ہیں کہ 'جب میں نے سروگیٹ تھیراپی شروع کی تو آغاز میں مجھے کچھ بھی محسوس نہیں ہوا، مجھے بہت برا لگا۔ تاہم وقت کے ساتھ میری مردانگی جاگنے لگی اور میں خود کو نوجوان اور خوبصورت محسوس کرنے لگا۔'
'یہ میرے زخمی ہونے کے بعد سے پہلی مرتبہ تھا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا۔ اس سے مجھے طاقت اور امید ملی۔'
یہ ایک ایسا رشتہ تھا جو ڈیوڈ نے یہ سوچ کر شروع کیا کہ آخر کار اسے ختم ہونا ہے۔ تو کیا اس بات کا خدشہ موجود تھا کہ انھیں جذباتی طور پر ٹھیس پہنچے گی؟
وہ کہتے ہیں کہ 'آغاز میں یہ میرے لیے مشکل تھا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ سروگیٹ صرف میرے لیے ہی ہو۔ لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ اگر ہم ساتھی نہیں بھی ہیں ہم پھر بھی اچھے دوست رہ سکتے ہیں۔ اور اس سے بھی آپ کو مدد ملتی ہے۔ اس سے آپ کو اپنی شخصیت کی دوبارہ تعمیر میں مدد ملتی ہے۔'
عام طور پر تو قواعد کے مطابق سروگیٹ اور مریض کے درمیان تھیراپی کے علاوہ کوئی تعلق نہیں ہو سکتا تاہم ڈیوڈ اور ان کی سروگیٹ جو سیرافینا کا فرضی نام استعمال کرتی ہیں کو ڈاکٹر الونی کے کلینک کی جانب سے خصوصی اجازت دی گئی تاکہ وہ سیشنز کے بعد بھی بات چیت کر سکیں۔
اس تھیراپی کے بعد سے جو افراد ڈیوڈ کے قریب ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ڈیوڈ میں خاصی تبدیلی آئی ہے اور وہ اب مستقبل کے حوالے سے منصوبے بنا رہے ہیں۔
اب بھی ان کے لیے سیکس لائف برقرار رکھنا تو مشکل ہے لیکن کووڈ 19 سے قبل انھوں نے کچھ افراد کی مدد سے لوگوں سے میل جول شروع کر دیا تھا۔
سیرافینا رونت الونی کے کلینک پر گذشتہ ایک دہائی سے بطور سروگیٹ خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ سرفینا دبلی پتلی ہیں اور ان کے 'باب کٹ' میں کٹے ہوئے بال ہیں۔ ہم سے سیرافینا خاصی گرمجوشی سے ملیں اور کچھ ہی دیر میں ہمیں اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ وہ اپنی بات واضح انداز میں کرنا جانتی ہیں۔
حال ہی میں انھوں نے بطور سروگیٹ اپنے تجربات سے متعلق ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا عنوان 'مور دین اے سیکس سروگیٹ' ہے۔ سیرافینا اس کتاب کا خلاصہ کچھ اس طرح کرتی ہیں 'یہ قربت، رازوں اور ہمارے محبت کرنے کے انداز سے متعلق ایک منفرد یادداشت ہے۔'
تل ابیب کلینک کے تمام ہی سروگیٹس کی طرح سیرافینا بھی ایک اور جگہ ملازمت کرتی ہیں۔ وہ شعبہ آرٹس سے منسلک ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سروگیسی کا کام جذبہ ایثار کے تحت شروع کیا۔
وہ وضاحت دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'وہ تمام لوگ جو اندر ہی اندر تکلیف کا شکار رہتے ہیں اور ان کے پاس ایسے راز ہیں جو وہ کسی کو نہیں بتاتے میں ان سب کی مدد کرنا چاہتی تھی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ مجھ میں یہ صلاحیت ہے۔'
وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے تھیراپی کے مراحل کے دوران اپنی جنسیت کو استعمال کرنے یا اپنے جسم کو استعمال کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اور میرے لیے یہ موضوع خاصا دلچسپ تھا، جنسیت میرے لیے بہت دلچسپ تھی۔'
سیرافینا اپنی تعریف ایک 'ٹوئر گائیڈ' کے طور پر کرواتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہیں جس کا راستہ انھیں معلوم ہوتا ہے۔
وہ اب تک 40 مختلف افراد کی سروگیٹ پارٹنر کے طور پر کام کر چکی ہیں اور ان میں ایک اور فوجی بھی شامل ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کے زخموں کی شدت ان کے لیے ایک منفرد چیلنج تھا۔ انھوں نے لکھنے میں مدد کرنے کا طریقہ سیکھا تاکہ وہ ڈیوڈ کے ساتھ ذاتی طور بات جیت کر سکیں۔
انھوں نے کہا کہ 'ڈیوڈ اب تک سامنے آنے والے سب سے زیادہ متاثرہ مریضوں میں سے ہیں۔ ان کا جنسی ساتھی بننا ایسا تھا جیسے آپ صحرا میں چل رہے ہیں اور آپ کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ آپ نے کس رخ جانا ہے۔
'مجھے مختلف طریقے ڈھونڈنے پڑے اور اس حوالے سے تخلیقی سوچ اپنانی پڑی کیونکہ وہ بالکل بھی حرکت نہیں کر سکتے تھے۔ میں نے ان کے جسم کو ایسے حرکت دینے کی کوشش کی جیسے میں تصور کرتی تھی کہ وہ معذور ہونے سے قبل خود اسے حرکت دے سکتے تھے۔ انھیں اپنا جسم محسوس تو ہوتا تھا لیکن وہ اسے حرکت نہیں دے سکتے تھے۔
سیرافینا کے مطابق 'وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ 'اسے ہمیشہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے کیا چاہیے، جب میں کچھ کہہ بھی نہیں پاتا۔' یہ جاننا میرے لیے بہت حوصلہ افزا تھا۔'
سروگیٹ کی حیثیت سے کام کرنے کے ساتھ سیرافینا نے اپنے ذاتی تعلقات میں خلل نہیں آنے دیا اور ان کے بوائے فرینڈز بھی سمجھتے ہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔ تاہم وہ ان مردوں اور خواتین کے احساسات سے بھی بخوبی واقف ہیں جنھوں نے اپنے ذاتی ساتھیوں کے لیے یا شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد بطور سروگیٹ کام کرنے سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ اپنے جنسی ساتھیوں کے ساتھ قربت بڑھ جانے کے بعد انھیں الوداع کہنا ضروری بھی ہوتا ہے لیکن مشکل بھی۔
'میں کہوں گی کہ یہ (تھیراپی) ایسے ہے جیسے آپ چھٹیوں پر چلے جاتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک محدود مدت کے لیے بہترین تعلق بنانے کا موقع ہوتا ہے تو کیا ہم اس کا فائدہ اٹھائیں یا اسے چھوڑ دیں؟
'اور یقین کریں کہ یہ بریک اپ خاصے پر مسرت ہوتے ہیں۔ کیونکہ آپ اچھی وجوہات کے باعث تعلق منقطع کر رہے ہوتے ہیں۔ میں کبھی کبھار رو پڑتی ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی میں بہت خوش بھی رہتی ہوں۔'
'جب میں یہ سنتی ہوں کہ ان میں سے کوئی اس وقت ذاتی تعلق میں بندھ گیا ہے، یا کسی کے ہاں بچہ ہوا ہے یا کسی کی شادی ہوئی ہے تو آپ یقین نہیں کر سکتے کے میں کتنی خوش ہوتی ہوں اور یہ کام کرنے پر شکر ادا کرتی ہوں۔'
شام ڈھلنے کے باوجود رونت الونی اب بھی کام کر رہی ہیں اور یورپ سے لے جنوبی امریکہ تک سیکسولوجٹس کے مختلف گروپس کو آن لائن لیکچر دے رہی ہیں۔
وہ مختلف پرانے کیسز اور اس حوالے سے کی گئی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتی ہیں کہ جنسی مسائل سے نمٹنے کے لیے سروگیسی کیسے عام طور پر کی جانے والی سائیکو تھیراپی سے زیادہ مؤثر ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ 'یہ خاصا دلچسپ ہے کہ ایسے تھیراپسٹس جنھوں نے اس سے قبل بھی سروگیٹس کے ساتھ کام کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ ایسا دوبارہ بھی کریں گے۔'
ان کا ماننا ہے کہ کیونکہ جدید سرجری کی مدد سے اب زخمی فوجیوں کی بہتر دیکھ بھال کی جا سکتی ہے اس لیے اب سروگیٹ تھیراپی کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائے گا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’آپ کسی بھی شخص کی بحالی کا کام تب تک نہیں کر سکتے جب تک ان کی خود اعتمادی کو بحال نہ کر دیا جائے۔ اور ان کے مرد یا عورت ہونے کے احساس کو نہ ابھارا جائے۔'
’آپ اپنی زندگی میں اس موضوع کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہ بہت اہم اور طاقتور چیز ہے۔ یہ ہماری شخصیت کا مرکز ہے۔ اور آپ ایسے ہی اس کے بارے میں بات نہیں کر سکتے یہ آپ کے اور دوسرے افراد کے درمیان ہی ہو سکتی ہے۔‘
الونی کا ماننا ہے کہ جدید معاشرے میں سیکس سے متعلق خاصے غیر صحت بخش رویے پیدا ہو گئے ہیں
انھوں نے کہا کہ 'ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہم نے کسی کی جنس کا مذاق کیسے اڑانا ہے۔ ہمیں لوگوں کو شرمندہ کرنے کا گر آتا ہے ہم یا تو اس بارے میں بہت قدامت پسند ہو جاتے ہیں یا انتہائی شدت پسند۔‘
’ہمارے رویے اس ضمن میں عدم توازن کا شکار ہیں۔ یہ ہماری زندگیوں میں کبھی بھی ویسے نہیں سماتا جیسے اصولاً ہونا چاہیے۔ اور جنسیت تو زندگی ہے۔ اسی کے ذریعے ہم نئی زندگی پیدا کرتے ہیں۔ یہ ہماری فطرت ہے!‘
تمام تصاویر کیٹی ہوروچ کی جانب سے بنائی گئی ہیں۔