ویڈیو گیمز کی صنعت: ای سپورٹس میں ڈگری تو لے لی، مگر کیا ملازمت بھی ملے گی؟

ای سپورٹس

،تصویر کا ذریعہAlex Bowditch

،تصویر کا کیپشنڈینیئیل مورگن ای سپورٹس میں اپنے کریئر کے حوالے سے پُر اعتماد ہیں
    • مصنف, سورج شاہ
    • عہدہ, رپورٹر، ٹیکنالوجی آف بزنس

سٹیفورڈ شائر یونیورسٹی میں ای سپورٹس کی تیسرے سال کی طالبہ ڈینیئیل مورگن کہتی ہیں کہ 'مجھے لگتا ہے کہ پوری دنیا میری مٹھی میں بند ہے، میں جو چاہوں کر سکتی ہوں۔'

ڈینیئیل ایسی کسی ڈگری کے دنیا کے اولین گریجویٹس میں سے ہوں گی کیونکہ ان کی یونیورسٹی برطانیہ میں یہ کورس پڑھانے والی پہلی یونیورسٹی ہے۔

اور اس کا تعلق صرف کمپیوٹر گیمز کھیلنے سے نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد وہ ہنر فراہم کرنا بھی ہے جن کی پوری دنیا میں ٹورنامنٹس منعقد کروانے والی اس صنعت میں ضرورت پڑتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ 'کافی کاروباری نوعیت کی ہے اور اس میں مارکیٹنگ، قانون سازی اور فنانس سے لے کر ایونٹس مینیجمنٹ، سٹریٹجی اور کونٹینٹ پیدا کرنا سکھایا جاتا ہے۔'

اس کے ساتھ ساتھ ڈینیئیل ایک ای سپورٹس پروڈکشن کمپنی 'سٹیٹس افیکٹ' میں کام کا تجربہ بھی حاصل کر رہی ہیں اور وہ رینبو سکس سیج ویڈیو گیم کے ایک مقابلے کے انعقاد میں بھی ہاتھ بٹا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چونکہ وہ اس وقت اپنی پڑھائی اور نوکری کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہی ہیں اس لیے انھوں نے اب تک اپنے لیے کوئی خاص شعبہ نہیں ڈھونڈا جس میں وہ گریجویٹ کرنے کے بعد نوکری کے لیے درخواست دینا چاہیں گی۔

مگر حالات حوصلہ افزا ہیں کیونکہ کمپیوٹر گیمز کی صنعت میں ای سپورٹس کو اس وقت بے پناہ فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ کمپیوٹر گیمز کی صنعت اس وقت تفریحی صنعت میں 52 فیصد کا حصہ رکھتی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ فلم، ٹی وی اور میوزک سے مشترکہ طور پر بڑی ہے۔

اندازہ لگایا گیا ہے کہ ای سپورٹس کے عالمی ناظرین 20 کروڑ ہیں جبکہ 20 کروڑ مزید افراد اسے کبھی کبھی دیکھتے ہیں۔

آکٹوپس وینچرز میں ایک ابتدائی مرحلے کے سرمایہ کار کرن مہتا کا کہنا ہے کہ 'کمرشل ترقی کی بات کریں تو ای سپورٹس وہیں ہے جہاں پریمیئر لیگ 1992 میں تھی اور ہمیں یقین ہے کہ دنیا میں 20 سے 30 عالمی ای سپورٹس برانڈز کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ خود کو کئی ارب ڈالر منافعے کا حامل کاروبار بنا سکیں۔'

برانڈز اور اس شعبے میں مجموعی طور پر اس طرح کی ترقی سے حالیہ چند سالوں میں ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ملازمتوں کی ویب سائٹ ہِٹ مارکر پر سنہ 2018 سے 2019 کے درمیان ای سپورٹس سے منسلک 87 فیصد زیادہ ملازمتوں کے اشتہار شائع کیے گئے۔

سٹیفورڈ شائر یونیورسٹی میں ان تینوں سالوں کے دوران طلبہ کو ایونٹ کروانا ہوتا ہے۔

ای سپورٹس

،تصویر کا ذریعہStaffordshire University

،تصویر کا کیپشنسٹیفورڈ شائر یونیورسٹی میں طلبہ ای سپورٹس کے ایونٹ منعقد کرنا سیکھ رہے ہیں

پہلے سال میں وہ ایک سنگل پلیئر ایونٹ کرواتے ہیں۔ دوسرے سال میں وہ ایک ملٹی پلیئر ایونٹ منعقد کرواتے ہیں اور تیسرے سال میں انھیں ٹاسک دیا جاتا ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر کوئی ایونٹ منعقد کروائیں۔ اس سے انھیں ایسے بہت پروڈکشن اور ایونٹ مینیجمنٹ کے ہنر مل جاتے ہیں جن کی کمپیوٹر گیمز کی صنعت میں ضرورت ہوتی ہے۔

دیگر یونیورسٹیوں نے مختلف حکمتِ عملیاں اپنائی ہیں۔ یونیورسٹی آف روہیمپٹن نے گذشتہ سال ای سپورٹس کی سکالرشپس دینی شروع کیں اور اگست میں انھوں نے پہلی 'وومین اِن ای سپورٹس' سکالرشپس متعارف کروائیں جن کا مقصد ای سپورٹس کی صنعت میں آنے کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

روہیمپٹن یونیورسٹی کے ای سپورٹس شعبے کے کوآرڈینیٹر جوناس کونٹاؤٹاس نے کہا: 'طلبہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کمپیوٹر سائنس اور زولوجی سمیت کئی ڈگریوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ای سپورٹس کی سکالرشپ حاصل کرتے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ صنعت میں کئی لوگوں کو لگتا ہے کہ زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ کسی کے پاس مارکیٹنگ کی ڈگری ہو اور انھیں ای سپورٹس میں دلچسپی ہو یا وہ اس میں سکالرشپ کے حامل ہوں ]بجائے [ اس کے کہ خصوصی طور پر ای سپورٹس کی ڈگری حاصل کی جائے۔'

اپنے پہلے سال میں سکالرشپ بہترین کھلاڑیوں پر توجہ دیتی ہے جو اپنے اپنے گیمز کے ٹاپ ایک فیصد کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ ان کھلاڑیوں کو سیمی پروفیشنل سطح تک لے جایا جائے تاکہ وہ کسی ٹیم کا حصہ بن سکیں۔

ای سپورٹس

،تصویر کا ذریعہJonas Kontautas

،تصویر کا کیپشنجوناس کونٹاؤٹاس کا ماننا ہے کہ ای سپورٹس کو دیگر ڈگریوں کا حصہ ہونا چاہیے

اس سال توجہ اس صنعت میں میڈیا پر ہے یعنی طلبہ کو لائیو سٹریمنگ، کونٹینٹ پروڈکشن، سکرپٹ لکھنے، کیمرا کے سامنے پیش کرنے اور اس جیسے دیگر ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔

مگر سب سے مشہور پروفیشنل ای سپورٹس اداروں میں سے ایک فناٹک کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو افسر سیم میتھیوز کہتے ہیں کہ ای سپورٹس کی ڈگری لازمی طور پر انھیں اُن کی کمپنی میں نوکری نہیں دلوا سکتی۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنے علم سے کیا کرتے ہیں۔ اگر وہ رضاکارانہ طور پر اچھا کام کریں، دکھائیں کہ وہ سرگرم ہیں، تو کسی بھی ڈگری کی طرح یہ ڈگری بھی اچھی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم فی الوقت ای سپورٹس کے گریجویٹس کو ملازمت پر نہیں رکھتے۔ ہم اُن لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں جو ڈیزائنرز ہوں، کاپی رائٹرز ہوں یا کوئی مخصوص ہنر رکھتے ہوں۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ یہ ای سپورٹس ٹیموں کے لیے اتنی کارآمد ہے جتنی کہ یہ کسی ایسی کارپوریٹ کمپنی کے لیے ہے جسے ای سپورٹس میں اپنا مقام بنانا ہے۔'

میتھیوز کا خیال یہ ہے کہ ای سپورٹس میں ڈگری کا حامل کوئی شخص کسی بڑے کارپوریٹ ادارے میں کسی مارکیٹنگ مینیجر کے نیچے کام کر سکتا ہے یا پھر کسی لیگ آپریٹر کے ساتھ جہاں ان کے پروڈکشن کے ہنر کام آ سکتے ہیں۔

ای سپورٹس کی ٹیموں کی بات کی جائے تو میتیھوز کا خیال ہے کہ سب سے مشکل کام کھیل میں مہارت رکھنے والوں کی بھرتی کرنا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'سکاؤٹس اور تجربہ کار ای سپورٹس آپریٹر بھرتی کرنا سب سے مشکل کام ہے جبکہ کوئی ویڈیو ایڈیٹر یا گرافک ڈیزائنر بھرتی کرنا نسبتاً آسان ہے۔ ہم کسی گریجویٹ پر ہماری لیگ آف لیجنڈز ٹیم کو چلانے کے لیے یا ٹیلنٹ مینیجمنٹ کے لیے بھروسہ نہیں کریں گے، اور یہ اُن چند شعبوں میں سے ہے جن پر ہم اندرونی طور پر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

فناٹک نے اُن طلبہ کے لیے بھی ایک نئی اکیڈمی قائم کی ہے جو سب سے زیادہ پیسے کمانے والے گیمرز میں سے بننا چاہتے ہیں۔

تو کیا یہ صنعت واقعی اتنی زیادہ ترقی کر رہی ہے؟

اینالیٹکس کمپنی نیوزو نے پیشگوئی کی تھی کہ یہ صنعت سنہ 2019 میں ایک ارب ڈالر کے منافعے کی حد پار کر لے گی۔ لیکن پھر بھی ترقی کے باوجود یہ صنعت ابھی اپنے ابتدائی دنوں میں ہے اور کئی سرمایہ کار اور انٹرپرینیورز کو یہ لگنے لگا ہے کہ یہ شعبہ وہ نہیں جہاں کامیابی یقینی ہو۔

ای سپورٹس

،تصویر کا ذریعہKevin Cheung

،تصویر کا کیپشنکیون چیونگ 2015 لیگ آف لیجنڈز ورلڈ چیمپیئن شپ فائنلز میں، جو جرمنی میں منعقد ہوئے۔ کیون کہتے ہیں کہ ای سپورٹس ایونٹس اور انٹرٹینمنٹ میں پیسہ ہے۔

سٹیفورڈ شائر یونیورسٹی کے ای سپورٹس کورس لیڈرز میں سے ایک کیون چیونگ اس صنعت میں کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پانچ سے چھ سال قبل زیادہ تر سرمایہ کاری ٹیموں کی جانب کی جا رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'میرا خیال ہے کہ یہ سرمایہ کاری کے لیے سب سے بہتر شعبہ نہیں تھا۔ اس میں مالی فائدہ بہت مشکل تھا کیونکہ ٹیمیں بذاتِ خود سب سے زیادہ منافع پیدا نہیں کرتیں، زیادہ تر منافع انٹرٹینمٹ کی طرف سے آتا ہے۔'

'ایسا اس لیے ہے کیونکہ جب آپ ای سپورٹس کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کسی بڑے سٹیڈیم میں پروفیشنل کھلاڑیوں کو دیکھتے ہیں جن کے پیچھے اُن کی ٹیمیں کھڑی ہوتی ہیں، مگر پس منظر میں اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہوتا ہے جس میں مثال کے طور پر براڈکاسٹنگ اور انفراسٹرکچر شامل ہے۔'

مزید پڑھیے

سٹیفورڈ شائر یونیورسٹی کی ای سپورٹس ڈگری کے شریک خالق ڈاکٹر بوبی فلیچر کا کہنا ہے کہ یہ شعبہ ان ہی چیلنجز سے گزر رہا ہے جن سے 20 سال قبل گیمنگ کی صنعت گزر رہی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ 'گیمنگ کی صنعت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ پیسے کس طرح بنائیں گے اور انھوں نے بہت سی غلطیاں کیں۔ میں اس تاریخ کو دوبارہ دہرائے جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔'

لیکن میتھیوز کو لگتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی اکثریت طویل دور تک اپنی سرمایہ کاری پر قائم رہیں گی اور اس پر منافع کمائے گی۔

ای سپورٹس

،تصویر کا ذریعہFnatic

،تصویر کا کیپشنفناٹک کے بانی سیم میتھیوز ای سپورٹس کی ڈگریوں کے حوالے سے زیادہ پُرجوش نہیں ہیں

وہ کہتے ہیں: 'مجھے نہیں لگتا کہ کوئی سرمایہ کار یہ سوچ کر یہاں آیا تھا کہ ایک سال میں اُن کی رقم میں تین گنا اضافہ ہوجائے گا۔ کچھ لوگ ایسے ضرور ہوں گے جنھیں نقصان ہوگا اور ایسا ہر صنعت میں ہوتا ہے، مگر سرمایہ کاروں کی اکثریت یہاں پر طویل مدت کے لیے ہے اور ای سپورٹس کا شعبہ بھی ختم ہونے والا نہیں۔'

فروری میں ہِٹ مارکر کا اندازہ تھا کہ 2020 میں 20 ہزار سے زیادہ ای سپورٹس کی ملازمتوں کے اشتہار دیے جا سکتے ہیں مگر ہِٹ مارکر کے مینیجنگ ڈائریکٹر رچرڈّ ہگن کا کہنا ہے کہ ملازمتوں کو سب سے زیادہ نقصان کووڈ 19 کی وجہ سے پہنچا ہے کیونکہ یہ صنعت لائیو ایونٹس پر بہت زیادہ منحصر ہے۔

وہ بتاتے ہیں: 'ای سپورٹس کی نئی ملازمتوں کی کُل تعداد جون میں 396 کی کم ترین ماہانہ سطح پر پہنچ گئی تھی اور تب سے اب تک اس میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔'

رچرڈ کو امید ہے کہ وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہوگا اور جب لاک ڈاؤن ختم ہوگا اور پابندیاں ہٹائی جائیں گی تو اس صنعت میں چھوٹے پیمانے پر بحالی ضرور ہوگی۔

مگر اس عالمی وبا نے اس صنعت کا حصہ بننے کے خواہشمند لوگوں کے حوصلے پست نہیں کیے ہیں۔ پارتھ کول پنجابی نے رواں سال جون میں سٹیفورڈ شائر کے کورس میں شمولیت کے لیے درخواست دی تھی۔ اس وقت وبا اپنے عروج پر تھی اور باوجود ان خدشات کے کہ پابندیوں کے ساتھ یہ کورس کیسے پڑھایا جائے گا، وہ اس میں داخلہ لینے کے لیے پُرعزم تھے۔

بھلے ہی وہ نہیں جانتے کہ انھیں گریجویشن کرنے کے بعد کس طرح کی ملازمت چاہیے، مگر پارتھ یہ ضرور جانتے ہیں کہ وہ ای سپورٹس کی صنعت میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'مجھے لگتا ہے کہ گریجویشن کے بعد میرا سفر آسان ہوجائے گا کیونکہ یہ صنعت ترقی کر رہی ہے اور ہمارے کیمپس میں نیٹ ورکنگ کے بھرپور مواقع موجود ہیں۔'

یہ بھی دیکھیے:

،ویڈیو کیپشندو پاکستانی بھائیوں کی بنائی ہوئی گیم میں تفریح کے ساتھ آگاہی بھی