محسن داوڑ: ہمیں بلوچستان سے نکلنے پر تو مجبور کیا گیا، لیکن ہم بلوچوں کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے

محسن داوڑ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ وہ براستہ سکھر بذریعہ روڈ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

محسن داوڑ کو گذشتہ روز کوئٹہ ایئرپورٹ سے کئی سو میل دور بلوچستان کے ضلع ڈیرہ مراد جمالی کے ایک گیسٹ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے ٹویٹ میں کہا کہ ہمیں بلوچستان سے زبردستی نکلنے پر تو مجبور کیا گیا ہے لیکن ہم بلوچوں کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

اس سے قبل محسن داوڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سفر میں ان کے ہمراہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے لوگ بھی موجود ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ رات ضلعی انتظامیہ، پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ انھیں کسی قریبی ریسٹ ہاؤس تک لے جایا جائے گا ’لیکن جب ہم گاڑی میں بیٹھے اور آدھے گھنٹے تک گاڑی چلتی رہی تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ مجھے بذریعہ روڈ واپس لے جا رہے ہیں۔‘

محسن

،تصویر کا ذریعہTwitter/mjdawar

خیال رہے کہ سنیچر کو تقریباً ڈھائی بجے محسن داوڑ اسلام آباد سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے زیر اہتمام کوئٹہ میں جلسہ عام میں شرکت کے لیے کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچے تو ان کو محکمہ داخلہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی کے باعث ایئرپورٹ سے باہر جانے سے روک دیا گیا۔

انھوں نے آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر فورم پر احتجاج کیا جائے گا، احتجاج ہی ہمارا واحد ہتھیار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کے ایک ٹویٹ کے مطابق محسن داوڑ پر پہلے سے ہی تین ماہ کے لیے بلوچستان کے کسی بھی ضلع میں داخلے پر پابندی عائد تھی جس کی مدت 29 اکتوبر کو ختم ہو گی۔

محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ بظاہر یہی وجہ ہے لیکن جب پچھلی دفعہ وہ بلوچستان آئے تھے تو انھیں بتایا گیا تھا کہ چونکہ یہاں دھماکہ ہوا ہے اس لیے وہ باہر نہیں جا سکتے۔ انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ تو پورے پاکستان کی سیاسی قیادت یہاں آ رہی ہے تو ایک محسن داوڑ سے کیا مسئلہ ہے؟

پشتون تحفظ موومنٹ کی مرکزی کمیٹی کے رکن سید زبیر شاہ کے مطابق ایئرپورٹ پر محسن داوڑ کے استقبال کے لیے آئے پی ٹی ایم کے کارکنوں نے دھرنا ختم کر دیا ہے۔

پی ڈی ایم جلسہ

،تصویر کا ذریعہKhair Mohammad

کوئٹہ ایئرپورٹ پر روکے جانے پر رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ بے بس ہی تھی کیونکہ ان کو جو ’اوپر سے آرڈر آتے ہیں وہ اسی پر عمل کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’حکومت بھی نہیں، جو اصل حکومت ہے، اور جو ریاست کے اوپر ریاست ہے یہ ان کا ہی فیصلہ ہے۔ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ بھی بے بس ہیں اور پوری بیوروکریسی بھی بے بس ہے۔'

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز بھی اتوار کے جلسے سے خطاب کرنے کے لیے کوئٹہ پہنچ چکی ہیں۔ انھوں نے شہر میں کارکنان سے خطاب بھی کیا اور کوئٹہ کے ایک نجی ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگو بھی کی۔

جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اس وقت انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جہاں سے وہ کوئٹہ میں ہونے والے 25 اکتوبر کے جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔

کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Zubair Shah

،تصویر کا کیپشنپشتون تحفظ موومنٹ کے اراکین محسن داورڑ کی حمایت میں کوئٹہ ایئرپورٹ کے باہر جمع ہیں

پی ڈی ایم کی جانب سے پہلے جب یہ اعلان کیا گیا کہ سات اکتوبر کو پہلا جلسہ عام کوئٹہ میں ہو گا تو بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں ان جماعتوں کو عوام کی حمایت حاصل نہیں اس لیے انھوں نے سب سے پہلے کوئٹہ کا انتخاب کیا۔

تاہم جب بعد میں پی ڈی ایم نے جلسوں کی شیڈول میں تبدیلی کی اور کوئٹہ کے جلسہ عام کو گوجرانوالہ اور کراچی کے بعد تیسرے نمبر پر رکھا گیا تو سکیورٹی خدشات کا جواز پیش کر کے بلوچستان حکومت نے کوئٹہ کے جلسہ عام کو ملتوی اور منسوخ کرنے کی درخواست کی۔

کوئٹہ کے جلسہ عام کو ملتوی یا منسوخ کرنے کے لیے جواز

بلوچستان حکومت نے اس مقصد کے لیے پہلے افغانستان سے متصل قمر دین کاریز سے بارودی مواد کی برآمدگی اور اس کے بعد نیکٹا کی جانب سے کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی کی ممکنہ کارروائی کے خطرے کو جواز کے طور پر پیش کیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی (نیکٹا) نے کوئٹہ اور پشاور میں آنے والے دنوں میں دہشت گردی کے حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مکران کے علاقے میں رونما ہونے والے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے دشمن ملک میں بد امنی پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ غیر سنجیدہ اپوزیشن ان تھریٹس کو کس طرح لیتی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے بیان کے علاوہ حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ایک پریس کانفرنس کی اور انھوں نے جلسہ عام کو ملتوی کرنے کی درخواست کی۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان اور وزرا کی جانب سے ماضی میں جو پریس کانفرنسز کی گئیں ان میں ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے کوئٹہ میں جلسہ عام کی ناکامی کے خوف سے دو مرتبہ اس کی تاریخ تبدیل کی۔

جب پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے بلوچستان حکومت کی ان باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی تو حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ان سے کوئٹہ میں جلسہ عام کو ملتوی کرنے کی درخواست کی۔

ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ نیکٹا نے کوئٹہ اور پشاور کے حوالے سے تھریٹ الرٹس جاری کیے ہیں جنھیں پی ڈی ایم کی قیادت کو سنجیدہ لینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے بھی پی ڈی ایم نے کوئٹہ میں جلسے کی تاریخ میں متعدد بار تبدیلیاں کی ہیں اس لیے اب انھیں بلوچستان کے عوام کی خوشحالی کے لیے کوئٹہ کے جلسہ عام کو ملتوی کرنا چاہیے۔

کوئٹہ میں جلسہ عام سے دو روز قبل چار شدت پسندوں کو مستونگ کے علاقے میں ہلاک کرنے کا واقعہ

کوئٹہ میں جلسہ عام سے دوروز قبل سی ٹی ڈی کے حکام کی جانب سے ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں چار شدت پسندوں کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

کوئٹہ میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیااللہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ٹی ڈی حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ چاروں کا تعلق ایک مذہبی شدت پسند تنظیم سے تھا۔ تاہم ابھی تک آزاد ذرائع سے ان افراد کی کسی مقابلے میں ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اس واقعے کے تناظر میں بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے بھی پی ڈی ایم کی قیادت کو جلسہ عام منسوخ کرنے کی تجویز دی۔

پی ڈی ایم جلسہ

،تصویر کا ذریعہKhair Mohammad

پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے رہنماﺅں کا موقف

پختونخواملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کا جلسہ عام شیڈول کے مطابق کوئٹہ میں بھرپور انداز سے منعقد ہونے جارہا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تھریٹ الرٹس کے نام سے حکومت کی جانب سے کوئٹہ میں جلسہ عام کو ناکام بنانے کے لیے ایک پروپیگینڈا شروع کیا گیا ہے۔

عثمان کاکڑ نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور عوام بخوبی جانتے ہیں کہ حکومت پی ڈی ایم سے خائف ہے اس لیے ان کے نزدیک حکومتی دعوؤں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئٹہ کے جلسہ عام میں لوگوں کی بھرپور انداز سے شرکت ہو گی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی اختر حسین لانگو نے کہا کہ بلوچستان کی عوام باشعور ہے اور جلسہ عام کو ناکام بنانے کی کوششوں سے آگاہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی شرکت بہت زیادہ ہو گی اور لوگوں کے لیے جلسہ گاہ کم پڑ جائی گی۔

پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر علی مدد جتک نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تھریٹ الرٹس جاری کر کے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے اور عوام اس طرح کی کوششوں سے کسی طرح بھی مرعوب نہیں ہوں گے ۔

خیال رہے کہ جمعیت علما اسلام کے علاوہ بلوچستان سے جو جماعتیں پی ڈی ایم کا حصہ ہیں ان میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی شامل ہیں۔ اگرچہ عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان میں مخلوط حکومت کا حصہ ہے لیکن وہ بھی پی ڈی ایم میں شامل ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تمام جماعتیں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سٹریٹ پاور رکھتی ہیں جس کے باعث کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے پاور شو کے کامیابی کے امکانات زیادہ قوی ہیں۔

جلسے کی تیاریاں مکمل

اپوزیشن جماعتوں کا یہ جلسہ کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

اس وقت کوئٹہ میں ہر طرف بینرز اور پوسٹرز لگائے ہوئے ہیں۔ شہر میں پینافلکس بھی لگائے گئے ہیں اس کے علاوہ اپوزیشن اتحاد میں شامل مختلف جماعتوں کے جھنڈے بھی ہر طرف لہراتے نظر آتے ہیں۔

اس جلسے میں شامل تمام جماعتوں کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عوام کی بڑی تعداد کو اس جلسہ گاہ کی طرف لے کر آ سکتے ہیں۔

اس جلسے کی سکیورٹی پر چار ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق شہر میں اگلے 24 گھنٹے تک موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

محسن داوڑ ابھی بھی ایئرپورٹ کے اندر موجود ہیں اور ایئرپورٹ کے باہر ان کے حق میں مظاہرہ بھی ہو رہا ہے۔ یہ مظاہرین ایئرپورٹ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پہلے اس مظاہرے میں پی ٹی ایم کے کارکنان شریک تھے تاہم بعد میں دیگر جماعتوں کے کارکنان بھی شریک ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے نے بھی اس دھرنے میں شرکت کی اور حکام سے محسن داورڑ پر پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا۔