ایک شوقین شخص نے تین ہزار کیمرے کیسے اکھٹے کیے؟

    • مصنف, سٹیون بروکلہرسٹ
    • عہدہ, بی بی سی سکاٹ لینڈ نیوز

دنیا میں کیمروں کا سب سے بڑا ذخیرہ (کولیکشن) ایک چھوٹے سے گاؤں میں چھپا ہوا ہے۔ یہ سکاٹ لینڈ کے ساحلی علاقے فائف کے قریب ہے۔ لیکن شاید ہی کوئی اس بارے میں علم رکھتا ہے۔

اس ذخیرے میں کم از کم تین ہزار کیمرے موجود ہیں اور ان میں سے کچھ ایک صدی پرانے ہیں۔ یہ تمام کیمرے نیول جِم میتھیو کے تھے۔

وہ ایک پُر فضا گاؤں سے تعلق رکھتے تھے۔ کام کے سلسلے میں وہ پوری دنیا گھومے پھرے لیکن پھر ریٹائر ہوگئے تھے۔

انھوں نے سیلویشن آرمی کے ایک پرانے ہال میں اپنے اس خزانے کو محفوظ کرلیا تھا۔

اس ذخیرے میں کم از کم تین ہزار کیمرے موجود ہیں اور ان میں سے کچھ ایک صدی پرانے ہیں۔ یہ تمام کیمرے نیول جِم میتھیو کے ہیں۔

انھوں نے ایک ایسے کرئیرکا انتخاب کیا جس کی وجہ سے انھوں نے پوری دنیا کی سیر کی اور اخیر میں ریٹائر ہو کر سینٹ مونینس کے دلکش اور پر فضا مشرقی نیوک گاؤں میں رہائش پزیر ہو گئے۔

انھوں نے اپنے قیمتی ذخیرے کو رکھنے کے لیے سالویشن آرمی کے سابق ہال کا انتظام سنبھال لیا۔ ہال کے اندر قطار در قطار الماریوں میں کیمرے اور اس کے لوازمات کے ساتھ یادگار چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیے

ان میں سٹیریوسکوپک اور تھری ڈی کیمرے کے ساتھ مشرقی یورپی ماڈلز بھی شامل ہیں جن میں سے بہت سے مغربی ممالک میں نایاب تھے۔

اس ذخیرے کی اہم بات کوڈک براؤنی کیمروں کا ذخیرہ ہے جن میں تقریباً تمام ماڈلز ہیں جو کہ کوڈک نے تیار کیے تھے۔

’براؤنی پہلا سستا کیمرہ تھا اور جب اسے پہلی بار سنہ 1900 میں لانچ کیا گیا تو وہ صرف ایک ڈالر میں خریدا جاسکتا تھا۔

جِم چاہتے تھے کہ ان کا ذخیرہ سب کے دیکھنے کے لیے کھلا ہو لیکن بڑھاپے اور صحت کی خرابی کے سبب یہ بہت مشکل کام تھا۔

اس کے بجائے وہ سال میں ایک بار گاؤں کے تہوار کے موقعے پر اس کی نمائش کرتے اور کبھی کبھار نجی طور پر دیکھنے والوں کے لیے کھولتے۔

ان کی بیوہ ڈوروتھی کہتی ہیں کہ 'جب لوگ ہال میں آتے تو وہ اس کے بارے میں لوگوں سے باتیں کرنا واقعتاً پسند کرتے تھے۔

'مجھے کبھی کبھی نیچے آ کر انھیں روکنا پڑتا تھا کیوں کہ انھیں پتہ نہیں چلتا تھا کہ کب رکنا ہے۔

'وہ بہت اچھے خطیب تھے۔ وہ مختصر گفتگو میں کم ہی دلچسپی لیتے ان کی باتیں طویل ہوتی تھیں۔'

جم کا سنہ 2017 کے آخر میں 81 سال کی عمر میں انتقال ہوا اور انھوں نے اس سے 24 سال قبل اپنا ذخیرہ اس وقت اکٹھا کرنا شروع کیا جب وہ کینیڈا کے وینکوور میں اپنی بیٹی سے ملنے گئے۔

وہ نوادرات کی دکانوں میں گھوم رہے تھے کہ ان کی اہلیہ ڈوروتھی نے انھیں ایک پرانا کیمرہ خرید کر تحفتاً دیا تھا۔

اس کے فورا بعد جیسے ہی جم دل کی سرجری سے صحت یاب ہوئے انھوں نے امریکہ کے مغربی ساحل سے اوریگون کا سفر کیا جہاں بہت ساری نوادرات کی دکانیں تھیں۔

ڈوروتھی نے بتایا کہ 'انھوں نے ایک ایک چیز کو ہٹا کر تلاش کرنا شروع کیا اور چند ایسے کیمرے نکالے جو انھیں پسند آئے۔

اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور بڑھتا گیا۔ جب وہ کسی چیز میں اپنا دل لگا لیتے تھے تو پھر وہ اس میں پوری تندہی سے شامل ہو جاتے تھے۔

'وہ رکتے نہیں۔ انھوں نے کبھی کیوں کا جواب نہیں دیا۔ وہ بس شروع ہو گئے اور پھر اسی میں سرگرم رہنے لگے۔'

ڈوروتھی نے بتایا کہ جم 'بہترین وقت پر' پرانے کیمرے خرید رہے تھے کیونکہ لوگ نئے ڈیجیٹل ماڈلز کے حق میں اپنے پرانے کیمروں سے جان چھڑا رہے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'جب بھی وہ کہیں جاتے تو وہ ہمیشہ کیمرے سے بھرا ہوا کیس لے کر واپس آتے۔'

وہ کام اور تفریح کے لیے بہت سفر کیا کرتے تھے اور وہ ہمیشہ پرانی چیزوں کی منڈیوں یا پرانے سامان فروخت کرنے والی جگہوں کی تلاش میں رہتے تھے۔

پولینڈ ان کے لیے ایک بہت ہی کارآمد منزل ثابت ہوئی کیونکہ لوگ وہاں سوویت دور کے بہت سارے روسی کیمرے سے پیچھا چھڑا رہے تھے۔

ڈوروتھی نے بتایا کہ 'جب بھی وہ چھٹی منانے کسی دوسرے ملک جاتے تو وہ ہر ملک سے کیمرے تلاش کرتے۔

وہ دوستوں سے یہ بھی کہتے کہ اگر ان کے پاس ان کے لیے کیمرہ تلاش کرنے کا وقت ہے تو وہ ان کے لیے کیمرہ تلاش کریں اور ان کے دوست اکثر ایسا کرتے تھے۔

جِم کی پیدائش گریٹر مانچسٹر کے علاقے بولٹن میں ہوئی اور وہ انجینیئر کیڈٹ کے طور پر سمندر میں گئے۔

حب وہ سمندر میں کام کر رہے تھے اس دوران ان کے والدین گلاسگو منتقل ہو گئے جہاں ان کی ملاقات ڈوروتھی سے ہوئی اور انھوں نے اپنا نام نیول سے تبدیل کیا کیونکہ وہ نام سکاٹ لینڈ میں اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔

اس جوڑے کی جلد ہی شادی ہوگئی اور ان کے تین بچے ہوئے۔

بحری انجینیئر کی حیثیت سے جم کے کام نے انھیں پوری دنیا کی سیر کا موقعہ فراہم کیا۔

انھوں نے ہانگ کانگ میں سات سال، یونان میں دو سال، ہالینڈ میں پانچ سال اور کینیڈا میں 12 سال گزارے۔

ڈوروتھی کا کہنا ہے کہ جم 'سفر کے لیے بنے تھے' اور بہت کم جگہیں ایسی تھیں جہاں وہ نہیں گئے۔

ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار نجی دوروں پر بھی گئے کیونکہ انھیں کیمرے کے پیچھے رہنے میں دلچسپی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ میرا وہاں ہونا پیسے کا ضیاع تھا۔

'انھوں نے اچھی تصاویر لیں لہذا میں سمجھتی ہوں کہ اس کے نتائج سے وہ لطف اندوز ہوتے۔ وہ اسے محض ایک تصویر کے بجائے یادگار بنانا چاہتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ پوری طرح جذب ہوگئے تھے۔'

جب وہ ہالینڈ میں رہتے تھے اس وقت ان کا ذخیرہ بڑھنا شروع ہو گیا اس لیے وہ اپنے کیمرے اپنے دفتر میں رکھنے لگے۔

ریٹائرمنٹ کی تیاری میں، انھوں نے ڈوروتھی کی والدہ کے قریب رہنے کے لیے سینٹ مونینس میں ایک مکان خریدا۔

وہ مکان کیمرے کے کلکشن کو رکھنے کے لیے کافی نہیں تھا اس لیے انھوں نے مقامی سالویشن آرمی ہال خریدا۔

جم کی وفات کے تقریبا تین سال بعد ڈوروتھی ایک رفاہی ادارے کے ساتھ کام کر رہی ہیں تاکہ عمارت اور ذخیرے کومنتقل کرکے اسے میوزیم میں تبدیل کر سکیں۔

ڈوروتھی اب کینیڈا میں رہتی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ وہ میوزیم کے امکان پر خوش ہیں۔

انھوں نے کہا: 'مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایسا ہوسکتا ہے اور میں فکر مند تھی کہ ہم ان کیمروں کا کیا کریں گے۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ انھیں یوں ہی پھینک دیا جائے۔

تمام تصاویر ڈیو سمتھ کی فراہم کردہ ہیں۔