سمندر میں کھو جانے والے کیمرے کی حیران کن کہانی

دو سال سے زیادہ عرصے قبل سمندر میں کھو جانے والے کیمرے کی کہانی جو غیر معمولی لگتی ہے کیونکہ یہ کیمرا اب نہ صرف مل چکا ہے بلکہ جلد ہی اس کے مالک کو پہنچا دیا جائے گا۔

یہ کیمرا تائیوان کے ساحل پر ملا ہے اور واٹر پروف کیسنگ کی وجہ سے اپنی اصل حالت میں ہے۔

یہ کیمرا سکول کے بچوں اور ان کی استاد کو ملا جنھوں نے پھر یہ فیصلہ کیا کہ وہ فیس بک کے ذریعے اس کے مالک تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

اور ہوا یہ انھیں ایک ہی دن میں کیمرے کی مالکن کا پتہ چل گیا۔

یہ کیمرا سیرانا نامی ایک لڑکی کا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین نہیں آرہا۔‘

’میں اس وقت حیرت میں گھر گئی جب میرے دوستوں نے مجھے اس پوسٹ اور تصاویر کے بارے میں بتایا۔‘

سیرانا جاپان کی ایک یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کے گروہ میں شامل تھیں جو یہاں اوکیناوا میں چھٹیاں گزارنے کے لیے آیا تھا۔ یہ جگہ تائیوان سے 2450 کلومیٹر کی دوری ہر ہے اور وہیں سیرانا کا کیمرا گر گیا تھا۔

’میرا کیمرا سکوبا ڈائیونگ کے دوران گم ہوا، ہوا یہ تھا کہ سمندر کی تہہ میں میرے ایک دوست کو آکسیجن کی کمی کا سامنا تھا اور مجھے ان کی مدد کے لیے جانا پڑا۔‘

یہ ستمبر 2015 کا واقعہ ہے اور اس وقت سیرانا کو لگا تھا کہ وہ اسے ہمیشہ کے لیے کھو چکی ہیں۔

سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے کیمرا تائیوان کے ساحل پر پہنچ گیا۔

وہاں سکول کے بچوں کا ایک گروپ موجود تھا جو ساحل کی صفائی کے لیے ایک روز کے لیے وہاں آیا تھا۔

بچوں کے ساتھ موجود استاد پارک لی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کیمرا ایک 11 سالہ طالب علم کو ملا تھا۔

کیمرے کا کور ایک چٹان کی طرح لگ رہا تھا جس کے گرد سمندی گھونگے اور سیپیاں چمٹی ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم نے سوچا کہ یہ ٹوٹ چکا ہے لیکن پھر ہم نے کیمرے کی۔

کیمرے میں پانی کا ایک بھی قطرہ نہیں گیا تھا اور وہ اچھی حالت میں تھا۔

اور زیادہ حیرت تب ہوئی جب ایک لڑکے نے اسے آن کیا تو معلوم ہوا کہ وہ ابھی تک چارج تھا۔

سکول واپس جانے کے بعد مسٹر لی اور طلباو طالبات نے سوچا کہ اب اس کیمرے کا کیا کیا جائے۔

کچھ بچوں کا خیال تھا کہ یہ کیمرا ہمیں ملا ہے تو ہمیں اسے اپنے لیے رکھ لینا چاہیے لیکن کچھ کا خیال تھا کہ اس کے مالک کو تلاش کرنا چاہیے اور پھر وہ سب بیٹھ کر سوچنے لگے کہ مالک کو تلاش کیسے کیا جائے۔

مسٹر لی کہتے ہیں کہ ابتداً تو وہ کشمکش میں تھے کہ کیمرے کی تصاویر کو پوسٹ کیا جائے یا نہیں لیکن اس کے علاوہ اور کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا جس کے ذریعے کیمرے کے مالک تک پہنچا جا سکتا۔

کیمرے میں موجود کچھ تصاویر جاپان کی تھیں اس لیے سوشل میڈیا پر دیے جانے والے پیغام میں چینی اور جاپانی دونوں زبانوں کا استعمال کیا گیا۔

کیمرے کی مالک تک پہنچنے سے قبل ایک ہی دن میں اس سے متعلق پوسٹ کو 10 ہزار بار شیئر کیا گیا۔

Iبی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اب وہ جون میں تائیوان جا کر ٹیچر اور سکول کے ان بچوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں جنھوں نے گمشدہ کیمرا ان تک پہنچایا گیا۔