کورونا وائرس: کیا لاک ڈاؤن کے دوران کھانے پینے کی عادات تبدیل ہونے پر آپ کو پریشان ہونا چاہیے؟

خوراک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخوراک
    • مصنف, ویبیکی وینیما
    • عہدہ, بی بی سی سٹوریز

برطانیہ کے شہر شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ ٹیلر وِٹہم کا کہتی ہیں کہ ’آپ بوریت یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے بار بار کھاتے ہیں۔ کیونکہ کرنے کو کچھ اور ہوتا ہی نہیں۔‘

لاک ڈاؤن میں گزر رہے ہفتے اب بھاری پڑنا شروع ہو گئے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی من پسند غذاؤں کی تلاش میں بار بار فریج کی جانب لپکتے ہیں۔

کام سے واپسی پر کچھ تازہ خریدنے کی بجائے ٹیلر وِٹہم ٹِک ٹاک پر دستیاب ریسپیز کی مدد سے اپنی مرغوب غذاؤں کو گھر پر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، جیسا کہ میک ڈونلڈز کے چیز بائٹس۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

برطانیہ ہی کے علاقے اولڈ ہیم سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ اینڈی لائیڈ کہتے ہیں کہ ’اگرچہ مجھے ذیابطیس کا مرض لاحق ہے لیکن میں اپنی من پسند چیزیں جیسا کے چاکلیٹ اور بسکٹ زیادہ کھا رہا ہوں تاکہ اپنے موڈ کو بہتر رکھ سکوں۔‘

ذیابیطس کے لیے جو ادویات وہ استعمال کرتے ہیں وہ وزن بڑھاتی ہیں لیکن اس وقت ان کے لیے یہ پریشان ہونے کی کوئی بڑی وجہ نہیں ہے۔

’مجھے اس وقت اس بات کی زیادہ فکر ہے ہی نہیں کہ میں کیسا دِکھتا ہوں۔ اس وقت تو بس اس بُرے وقت کو گزارنا ہے۔ اور جب یہ سب کچھ (لاک ڈاؤن) ختم ہو جائے گا تو ہم ورزش کی طرف واپس لوٹ سکتے ہیں۔‘

لندن

،تصویر کا ذریعہANDY LLOYD

،تصویر کا کیپشناینڈی لائیڈ: لاک ڈاؤن سے قبل لی گئی تصویر

ایمی ہوجسن 24 برس کی ہیں اور ان کا تعلق لیور پول سے ہے۔ وہ ایک سپلائی ٹیچر ہیں یعنی جب سکول میں کسی وجہ سے کوئی ٹیچر غیرحاضر ہوتا ہے تو وہ ان کی جگہ ان کی کلاس کو پڑھاتی ہیں۔

جب سکول بند ہوئے تو ایمی نے محسوس کیا کہ اب ان کے پاس کرنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں ’میں بار بار فریج اور الماریوں میں یہ دیکھنے جاتی کہ کیا کھاؤں، کیوں کہ میں شدید بوریت کا شکار تھی۔ ایک ہفتے میں میرا وزن چار پاؤنڈ بڑھ گیا اور میں نے سوچا کہ آخر میں نے یہ کیسے کیا؟‘

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ برس ایمی نے 33 کلو وزن کم کیا تھا اور وہ یہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہ دوبارہ بڑھے۔ انھیں احساس ہوا کہ صبح کے اوقات میں وہ کچھ نا کچھ ہلکا پھلکا کھاتی رہتی تھیں لیکن اب وہ ساتھ میں ورزش بھی کرتی ہیں۔ وہ اب پوری فیملی کے لیے کھانا بھی بناتی ہیں۔

’اس سے آپ کو احساس رہتا ہے کہ آپ نے کچھ کرنا ہے۔ اب سہ پہر ساڑھے چار بجتے ہیں اور میں سوچتی ہوں کہ اب مجھے اہلخانہ کے لیے چائے بنانی ہے۔‘

ایمی ہوجسن

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM/amyhodgson.sw

،تصویر کا کیپشنایمی ہوجسن

تو کیا ہم واقعی آج کل زیادہ کھا رہے ہیں؟

یونیورسٹی آف ایسٹ انگلیا سے منسلک محققین بھی یہی سوال کر رہے ہیں اور اب انھوں نے لاک ڈاؤن کے دوران ہمارے کھانے پینے کی عادات پر تحقیق شروع کر دی ہے۔

ناروچ میڈیکل سکول سے منسلک پروفیسر این میری کہتی ہیں کہ ’میں اس کا بہترین موازنہ اس سے کر سکتی ہوں کہ یہ ویسا ہی ہے جیسا ہمارے ساتھ چھٹیوں کے دوران ہوتا ہے۔ ہم محتاط رویے کو اٹھا دور پھینکتے ہیں اور کہتے ہیں چھٹی!!!۔‘

وہ کہتی ہیں ’اب ہم سوچ رہے ہیں کہ اوہ میرے خدایا! دنیا میں کتنا کچھ ہو رہا ہے، میں اپنے برتاؤ کے بارے میں فکر نہیں کروں گی۔ لوگ اپنے غلط برتاؤ کے لیے بہانے دھونڈتے ہیں اور یقیناً کووڈ 19 ایک بہت اچھا بہانہ ہے۔‘

اس تحقیق کے نتائج کا تجزیہ کرنا ابھی قبل از وقت ہو گا لیکن پروفیسر این میری انفرادی واقعات کی بنیاد پر کہتی ہیں کہ لوگوں نے غیر صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کر لیا ہے جیسا کہ غیر صحت مند خوراک کا زیادہ سے زیادہ استعمال اور زیادہ شراب نوشی۔

وہ کہتی ہیں کہ کم کھانا بھی آپ کی صیت کے لیے اتنا ہی بُرا ہے جتنا زیادہ کھانا، خاص کر کہ زیادہ عمر کے افراد میں غذائیت کی کمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ لوگوں کے اس برتاؤ کی بعض جسمانی وجوہات بھی ہیں۔ جب جسم دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو کارٹیسون نامی ہارمون پیدا ہوتا ہے جو ہمارے زیادہ کھانے کی وجہ بنتا ہے۔ اور اس وجہ سے ہمیں ایسی خوراک کی طلب ہوتی ہے جس میں چربی اور شوگر زیادہ ہوتی ہے۔

لاک ڈاؤن میں کم کیسے کھائیں؟

برٹش ڈائیٹیٹک ایسوسی ایشن کی ترجمان کلییر تھورٹن وڈ کہتی ہیں کہ معمول طے کرنا بہت ضروری ہے اس لیے کوشش کریں کہ دن میں تین مرتبہ کھانے کے معمول پر قائم رہیں۔

دن میں چند بار کچھ ہلکا پھلکا کھا لینا ٹھیک ہے لیکن پھر شاید آپ کو اس تین وقت کے کھانے میں کچھ کمی کرنی ہو گی۔

لیکن اگر ہلکا پھلکا کھانے کی عادت آپ میں تشویش کا باعث بن رہی ہے تو پھر دن بھر میں آپ نے جو ہلکی پھلکی چیزیں کھانی ہیں انھیں پہلے سے ایک ڈبے میں ڈال لیں اور پھر چاہیں آپ انھیں دوپہر کے کھانے سے پہلے ہی کیوں نا ختم کر لیں لیکن اس کے بعد پھر ڈھونڈ کر مزید نہ کھائیں۔

وہ کہتی ہیں کہ کھانے سے متعلق ہم جن نئی عادتوں میں مبتلا ہو گئے ہیں اس کی وجہ سے اپنے بارے میں بُرا محسوس نہ کریں۔

’ہم ایک بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، اس لیے منفی سوچوں کو دور بھگانے کی کوشش کریں۔ اس بات کو تسلیم کر لیں کہ آپ کے کھانے کی عادت میں تبدیلی آئے گی اور اس بارے میں بُرا محسوس نہ کریں۔‘

لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

لاک ڈاؤن میں صحت افزا خوراک کھانے سے متعلق چند مشورے:

  • پانی کا ایک گلاس پیئں۔ شاید آپ کو پیاس لگی ہو بھوک نہیں۔ بعض اوقات ہم بھوک اور پیاس کو آپس میں گڈ مڈ کر جاتے ہیں۔
  • ورزش اور دوسروں سے رابطہ قائم کرنے سے کارٹیسون نامی ہارمون کی سطح کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اور ایسی چیزیں کرنے سے بھی اس کی سطح میں کمی ہوتی ہے جنھیں کر کے آپ پُرسکون محسوس کرتے ہیں جیسا کہ مطالعہ، مراقبہ یا چہل قدمی۔
  • ایسی خوراک جس میں پروٹین یا فائبر کی مقدار زیادہ ہو، اسے کھانے سے آپ کو جلدی بھوک نہیں لگتی جیسا کہ لوبیا، دالیں، انڈا اور بادام وغیرہ۔
  • فریز کی ہوئی خوراک بھی مفید ہوتی ہیں اور کئی بار تازہ خوراک سے بھی بہتر۔ اس لیے آپ ڈبے والی سبزیاں اور پھل بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

لیکن بعض افراد کے لیے لاک ڈاؤن میں خوراک سے متعلق مسائل پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔

کارا لیسیٹ کو ’اینوریکسیا‘ ہے یعنی وہ بھوک کی کمی کا شکار ہیں اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کے علاج کا مرکز بند ہے اور فی الحال انھیں وہاں سے مدد نہیں مل رہی ہے۔

دوسری جانب مارکیٹوں میں رش کی وجہ سے ڈبوں میں پیک چیزوں کی کمی ہے اور انھیں وہ چیزیں نہیں مل رہیں جنھیں وہ آسانی سے کھا لیتی تھیں اور اب ان کی بیماری (بھوک کی کمی) کی کئی علامات واپس لوٹ رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے سوچا کہ میں اسے تو کنٹرول نہیں کر سکتی جو دنیا میں ہو رہا ہے لیکن یہ کنٹرول کر سکتی ہوں کہ میں کیا کھا رہی ہوں۔‘

تو انھوں نے اپنے معالجوں کی ٹیم سے بات کی اور چیزوں کو کنٹرول میں کر کے اب لاک ڈاون کو گھر میں ہی گزار رہی ہیں۔

کارا لیسیٹ

،تصویر کا ذریعہCARA LISETTE

،تصویر کا کیپشنکارا لیسیٹ

نفسیاتی معالج برنی رائٹ کہتی ہیں کہ کھانے پینے کی عادات سے متعلق بیماریوں کا شکار افراد کے لیے کنٹرول میں رہنا بہت ضروری ہے۔

’ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جو ہمارے گھر کے دروازے کے باہر ہو رہا ہے اس پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ مگر بھوک میں اتار چڑھاؤ کی عادت کے حامل افراد اس سے متعلق سخت اصول اپنا سکتے ہیں یعنی کب اور کتنا کھانا ہے۔‘

لاک ڈاؤن کے دوران برنی رائٹ کے پاس آنے والے کیسز میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ لاک ڈاؤن میں ایسے افراد کے لیے اپنے گھر والوں سے اپنی بیماری چھپانا مشکل ہو گیا ہے۔ بچے اب جھوٹ موٹ یہ ظاہر نہیں کر سکتے کہ جیسے انھوں نے سکول میں اچھا خاصا کھانا کھایا اور دوسری جانب یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ والدین ضرورت سے زیادہ ورزش کر رہے ہیں۔

برنی رائٹ کے سابقہ مریضوں نے بھی ان سے رابطہ کیا ہے کیوںکہ وبا میں ذہنی دباؤ کی وجہ سے ان کی علامات بھی لوٹ رہی ہیں۔

رائٹ کہتی ہیں کہ اس وقت سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ اپنے ساتھ درد مندی سے پیش آئیں۔ ’اپنے ساتھ شفقت سے پیش آئیں، اپنے چارہ گر بنیں۔‘

تو کیا لاک ڈاؤن میں صرف بُری خبریں ہی ہیں؟

کلیئر تھورنٹن وڈ کہتی ہیں کہ بالکل نہیں۔ ان کے بچے یونیورسٹی سے آج کل گھر آئے ہوئے ہیں، کچن میں ان کی مدد بھی کرتے ہیں اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھانا کھانے کا لطف اٹھا رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’اس لاک ڈاؤن کا جو ایک فائدہ ہوا ہے وہ یہ کہ گھر والے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں جو کہ پہلے نہیں ہو رہا تھا۔ ‘