کورونا وائرس: وائرل لوڈ کیا ہے اور طبی عملے کی زندگیوں کو خطرے میں کیوں ڈال رہا ہے؟

Health care professionals take a break awaiting patients as they test for COVID-19 at the ProHEALTH testing site in Jericho, New York, March 24, 2020.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنزندگی کی بازی ہارنے والے طبی عملے کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے

کووڈ 19 کے خلاف لڑائی میں دنیا بھر کے طبی کارکنان بہت بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ طبی عملے کے ہزاروں ارکان کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور زندگی کی بازی ہارنے والے طبی عملے کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

حفاظتی لباس اور ماسک کے باوجود، ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی کارکنان کو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کورونا کے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہے، اور شاید ان میں شدید بیماری کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔

لیکن طبی کارکنان شدید بیمار کیوں پڑ رہے ہیں؟

وائرل لوڈ

ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی کارکنان کو جس وائرس سے خطرہ لاحق ہے اس میں وائرل لوڈ کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہ وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد خلیوں پر حملہ کرتا ہے اور اپنے جیسے بے شمار وائرس کی نقل بنانا شروع کر دیتا ہے۔

آنے والے دنوں میں جسم میں اس وائرس کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، اس لیے مریض کے جسم میں اس بڑھتی ہوئے نقالوں کے اندر زیادہ وائرس پایا جاتا ہے۔

کورونا بینر
لائن

ایک بڑا وائرل لوڈ یا وائرس کی زیادہ تعداد کا مطلب یہ ہے کہ بیماری کی شدت زیادہ ہونے کا امکان ہے اور ایسے مریض کے وائرس سے زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

امپیریل کالج لندن میں متعدی بیماریوں کے شعبے سے وابستہ پروفیسر وینڈی بارکلے نے بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام میں بتایا ’جتنا زیادہ وائرس آپ کے اندر موجود ہے، آپ سے اس وائرس کو کسی دوسرے میں منتقل کرنے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہے۔‘

ڈاکٹروں اور نرسوں کا اکثر ایسے مریضوں سے بہت گہرا رابطہ رہتا ہے جو بہت زیادہ متاثر ہوئے ہوں اور ان کے جسم میں وائرس کی تعداد بہت زیادہ ہو، جس کا مطلب ہے کہ انھیں وائرس کی بہت زیادہ مقدار سے خطرہ لاحق ہے۔

Medical workers perform the Cesarean section operation on a suspected COVID-19 patient in Wuhan Union Hospital in Wuhan in central China's Hubei province Saturday, March 07, 2020.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنطبی کارکنان اکثر ایسے حالات میں کام کرتے ہیں جن میں ان کے وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے

عالمی ادارہِ صحت کے مطابق، ووہان کے ایک ہسپتال میں ایک ایسے مریض جنھیں سرجری کے لیے لے جایا جا رہا تھا، نے بخار کے آغاز سے پہلے ہی طبی عملے کے 14 افراد کو وائرس سے متاثر کیا۔

پروفیسر بارکلے کہتے ہیں ’بے شک آپ ایک صحت مند شخص ہوں لیکن آپ کے مدافعتی نظام کے لیے ان سب وائرسوں سے لڑنا بہت مشکل کام ہے۔‘

’آپ وائرس کی جتنی تعداد سے متاثر ہوتے ہیں، یہ تعداد آپ کی جسمانی قوت مدافعت اور وائرس کے خلاف لڑائی میں توازن کا فیصلہ کرتی ہے۔‘

’مثال کے طور پر اگر آپ تجربے کے لیے جانوروں کو وائرس کی مختلف تعداد سے متاثر کرتے ہیں، تو ایسے جانور جنھیں آپ نے وائرس سے زیادہ متاثر کیا ہے، ان کے شدید بیمار پڑنے کا خطرہ زیادہ ہو گا۔‘

کووڈ 19 آپ کے جسم میں کیسے داخل ہوتا ہے؟

A body with animations of coronavirus

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگر کوئی شخص کورونا وائرس (کووڈ-19 یا سارس-کوو-2) سے متاثر ہے تو یہ وائرس اس شخص کی سانس کی نالی میں اوپری سطح پر موجود ہو گا اور سانس یا کھانسی کے ذریعے کسی بھی وقت دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے۔

پروفیسر بارکلے نے نیوز نائٹ کو بتایا ’جب بھی ہم سانس لیتے یا بولتے ہیں ہم ناک اور گلے کے ذریعے، ہوا میں پانی کے ذرات خارج کرتے ہیں۔‘

ان میں سے کچھ ذرات زمین پر بھی گرتے ہیں اور سطحوں کو آلودہ کرتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں فاصلہ رکھنے اور ہاتھ دھونے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے ذرات آپ کو بیمار کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

پروفیسر بارکلے کہتے ہیں کہ ’انفلوئنزا وائرس جس کے بارے میں ہم بہت کچھ جانتے ہیں، اس کے کم از کم تین ذرات آپ کے جسم میں داخل ہو کر آپ کو بیمار کر سکتے ہیں۔ لیکن سارس-کوو-2 کے متعلق یہ تعداد ہمیں ابھی تک معلوم نہیں ہے۔ لیکن یہ بہت کم تعداد ہو سکتی ہے۔‘

A Spanish healthcare worker wears a mask

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک اندازے کے مطابق سپین میں 6500 یا 12 فیصد متاثرین کا تعلق طبی عملے سے تھا

فرنٹ لائن پر کام کرنے کا خطرہ

ہم ابھی تک ٹھیک طرح سے یہ نہیں جانتے کہ فرنٹ لائن پر کام کرنے والے طبی کارکنوں کے وائرس سے متاثرہ جگہ کام کرتے ہوئے، بیمار ہونے کا کتنا خطرہ موجود ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2002-2003 میں سارس پھیلنے کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 21 فیصد کیسز کا تعلق طبی عملے سے تھا۔

کووڈ 19 کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والوں میں بھی ایسے ہی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔

  • اٹلی میں 6200 طبی کارکنوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔
  • ایک اندازے کے مطابق سپین میں 6500 یا 12 فیصد متاثرین کا تعلق طبی عملے سے تھا۔
  • مارچ کے آغاز میں چین میں تقریباً 3300 طبی کارکن انفیکشن کا شکار تھے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تصدیق شدہ کیسز میں سے 4 -12 فیصد کے درمیان افراد کا تعلق طبی کارکنان سے ہے۔

برطانیہ میں ہیلتھ کیئر کے ایک چیف ایگزیکٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی علاقوں میں ہسپتالوں کا تقریباً 50 فیصد عملہ بیمار ہے۔

اور اگر انفیکشن پر قابو پانے والے اقدامات پر عمل نہیں کیا جاتا تو یہ ہسپتال وائرس کے مراکز بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا کہ کس طرح انھوں نے انفیکشن سے بچانے کے لیے ایسے کئی مریضوں کو وقت سے پہلے گھر بھیجنے کی کوشش کی جن میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

کمزور حفاظتی لباس اور سامان

زمبابوے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنزمبابوے میں ڈاکٹر اور نرسیں پی پی ای کی کمی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کر رہے ہیں

اسی لیے متعدد ممالک میں طبی کارکنان غصے میں ہیں کیونکہ انھیں پی پی ای یا حفاظتی لباس اور سامان فراہم نہیں کیا جا رہا اور ایسے میں ان کے وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔

فرانس میں ڈاکٹروں نے حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔ جس کی وجہ زیادہ تعداد میں ماسک تیار کرنے میں ناکامی بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ماسکوں کی عدم موجودگی میں انھیں خطرے کا سامنا ہے۔

زمبابوے میں ڈاکٹر اور نرسیں پی پی ای کی کمی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کر رہے ہیں۔ ملک میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تین ہفتوں تک لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں طبی کارکنان کی تنظیم کے چیف ایگزیکٹو نیل ڈکسن کا کہنا ہے کہ حفاظتی سامان کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹروں اور نرسوں کا اعتماد کم ہو گیا ہے۔

اگرچہ برطانوی حکومت نے فوج کے ذریعے میڈیکل عملے میں لاکھوں ماسک تقسیم کرنا شروع کیے ہیں، تاہم اعتماد کے احساس کو دوبارہ بحال کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔

’دوسرا مسئلہ یہ ہے یہ سامان زیادہ تر ایشیا اور چین میں تیار کیا جاتا ہے۔ اور چین کے لیے طویل مدت تک سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا، ایک بڑا چیلنج ہو گا۔‘