ممالیہ پر تحقیق: خواتین زیادہ لمبی عمر کیوں پاتی ہیں؟

کیلکولیٹر
    • مصنف, میٹ مکگراتھ
    • عہدہ, ماحولیاتی نامہ نگار

حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی قسم کے جنگلی ممالیہ میں نر کے مقابلے میں مادہ کی عمر اوسطً ساڑھے اٹھارہ فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ یہ مردوں اور عورتوں کی عمروں میں فرق سے کہیں زیادہ ہے جو 8 فیصد ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جانوروں میں عمروں کا فرق جنس کی خصوصیات اور مقامی ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ہے۔ ہر انسانی آبادی میں، خواتین مردوں سے زیادہ لمبی عمر پاتی ہیں، جیسا کہ 110 برس عمر پانے والے ہر دس افراد میں سے نو خواتین ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بھیڑ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

محققین کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں صدی سے جب پہلی بار پیدائش کے درست ریکارڈ رکھے جانا شروع ہوئے تھے عورتوں اور مردوں کی عمروں میں یہ فرق مستقل رہا ہے۔ جنگلی جانوروں کے بارے میں بڑے پیمانے پر اعداد و شمار کی کمی ہے لیکن اندازہ ہے کہ وہاں بھی یہی صورتحال ہے۔

اب محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے جانوروں کی 101 نسلوں میں عمروں کا فرق معلوم کرنے کے لیے تحقیق کی ہے۔

سائنسدانوں نے دیکھا کہ اس تجربے میں شامل 60 فیصد جانوروں میں مادہ نر کے مقابلے میں زیادہ عمر پاتی ہیں اور یہ عمر نر کے مقابلے میں اوسطاً 18.6فیصد زیادہ ہے۔

فرانس کی یونیورسٹی آف لیون سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے معروف مصنف ڈاکٹر ژان فرانسوا لیمیترکا کہنا ہے کہ جانوروں میں نر اور مادہ میں عمر کا فرق ماحول اور ان کی جنس میں جینیاتی فرق کی وجہ سے ہے۔

وہ بڑے سینگوں والی بھیڑ کی مثال دیتے ہیں جس کی نسل کے متعلق محققین کے پاس اچھے اعداد و شمار موجود ہیں۔

جہاں قدرتی وسائل مستقل طور پر دستیاب تھے وہاں عمر میں بہت کم فرق تھا۔ تاہم ،ایک ایسے مقام پر جہاں موسم سرما زیادہ شدید ہوتا تھا نر بھیڑوں کی زندگی مادہ سے کم تھی۔

اس نسل کی نر بھیڑوں میں بہت زیادہ توانائی مادہ بھیڑوں کے لیے آپس کے مقابلے میں صرف ہو جاتی ہے۔ ان کا بڑا جسم بھی بہت سی توانائی استعمال کرتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے معاملے میں بھی وہ حساس ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ واضح طور پر عمر میں فرق نر اور مادہ کے جینین میں فرق، نر کے مادہ کے مقابلے میں مخصوص کاموں میں توانائی صرف کرنے اور مقامی ماحولیاتی حالات کی وجہ سے ہے۔

میمالیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم صرف مادہ کے نر سے زیادہ عمر پانے کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ نر کے مرنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔

نر میں اموات کی تعداد ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن دونوں جنسوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ شرح اموات ایک جیسی ہوتی ہے۔

اس شعبے میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مرد اور خواتین کے درمیان جینیاتی فرق کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

انسانوں میں مردوں اور عورتوں کے خلیات میں مختلف کروموسوم ہوتے ہیں۔ خواتین میں دو ایکس کروموسوم ہوتے ہیں جبکہ مردوں میں ایکس اور ایک وائے کروموسوم ہوتا ہے۔

تھیوری یہ ہے کہ خواتین میں اضافی ایکس کروموسوم خطرناک تبدیلیوں کے خلاف حفاظتی کردار ادا کرتا ہے، یہ نظریہ جانوروں کے لیے بھی درست ہے۔

ڈاکٹر ژان فرانسوا لیمیتر کا کہنا ہے کہ عمروں کے فرق کے بارے میں دونوں وجوہات ہی درست ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ'یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایکس ایکس یا ایکس وائے کروموسوم والے نظام میں مادہ زیادہ لمبی عمر پاتی ہیں، لہذا اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنس کے کروموسوم کا اثر پڑتا ہے۔'

انہوں نےکہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق نر اور مادہ کی عمروں کا یہ فرق مختلف نسلوں میں مختلف ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے کئئ دیگر عوامل پر بھی غور کرنا ہو گا۔

یہ تحقیق نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے مقالے میں شائع ہوئی ہے۔