زہریلے مینڈکوں کا دل کھانے والے آسٹریلوی چوہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا میں پانی کے چوہوں کی ایک قسم نے وہ کام کر دکھایا ہے جو سائنسدان کئی برس سے کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر ناکام تھے۔
یہ چوہے کامیابی کے ساتھ اُن انتہائی زہریلے مینڈکوں (کین ٹوڈ) کی آبادی کو بڑھنے سے روک رہے ہیں جنھوں نے خطے کے دوسرے جانداروں کے لیے تباہی مچائی ہوئی ہے۔
جس طریقے سے یہ چوہے اپنا کام کر رہے ہیں اُس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے۔ یہ چوہے زہریلے مینڈکوں کا جسم چیر کر احتیاط کے ساتھ صرف اُن کے کلیجہ اور دل کھاتے ہیں۔ اِن مینڈکوں کے جسم کے صرف یہی دونوں اعضاء زہریلے نہیں ہوتے۔
یہ چوہے جس باریکی سے یہ آپریشن کرتے ہیں اِسے یونیورسٹی آف میلبورن کے تحقیتق کاروں نے دریافت کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ راکالی نامی یہ چوہے اب تک دریافت ہونے والے وہ واحد جانور ہیں جن میں کین ٹوڈ کو ہلاک کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
زہریلے مینڈکوں کو سنہ 1935 میں آسٹریلیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقے میں گنے کے کھیتوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کے خاتمے کے لیے لایا گیا تھا۔
یہ جانور نئے ماحول اور علاقے کو اپنانے کے لیے مشہور ہیں۔ یہ مینڈک بڑی تعداد میں بچے پیدا کرتے ہیں اور ساٹھ کلومیٹر دور تک ہجرت کر سکتے ہیں۔
اِسی طرح یہ سنہ 2011 اور سنہ 2012 کے درمیان مغربی آسٹریلیا کے کمبرلی نامی خطے تک پہنچے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُس وقت سے اِن مینڈکوں نے کئی مقامی جانوروں کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اِس علاقے میں مگرمچھ، چھپکلیاں اور کئی دوسرے جانور زہریلے مینڈک (کین ٹوڈ) کھانے کی وجہ سے ناپید ہو گئے ہیں۔
اِن مینڈکوں کے جسم میں ایسے غدود ہوتے ہیں جن میں زہر بھرا ہوتا ہے جس کی معمولی سے مقدار سے بھی موت واقع ہو سکتی ہے۔
لیکن راکالی چوہوں نے اِس دشمن کا مقابلہ کرنا سیکھ لیا ہے۔
اِس تحقیق سے منسلک ماہرِ حیاتیات مریسا پیرٹ کا کہنا ہے کہ ’ ہمیں سنہ 2014 میں ایسے مرے ہوئے مینڈک ملے جن پر حملے کے واضح نشانات تھے۔ ہر صبح ہمیں پانچ کے قریب ایسے مینڈک ملتے تھے جن کے پیٹ پر ایک جیسے چیرے لگے ہوتے تھے۔ ہم نے سوچا کہ وہ کون ہے جو بالکل ایک ہی طریقے سے ان مینڈکوں پر حملہ کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ سائنسدان پھر تفتیش کار بن گئے۔ مرے ہوئے مینڈکوں کے جسموں کا مطالعہ کرنے کے لیے کیمرے ڈالے گئے۔ انھیں معلوم ہوا کہ مینڈکوں کے قاتل پانی کے چوہے ہیں۔
مریسا پیرٹ کہتی ہیں کہ پوسٹ مارٹم تجزیے سے معلوم ہوا کہ مینڈکوں کے جسموں کو ایک مخصوص طریقے سے کاٹ کر دل اور جگر کو نکلا گیا تھا اور زہر سے بھرے پتے کو صفائی سے الگ کیا گیا تھا۔
’درمیانے سائز کے مینڈکوں میں دل اور جگر کے علاوہ ایک یا دونوں پچھلی ٹانگوں کی زہریلی کھال کو بھی الگ کر کے پٹھوں کو کھایا گیا تھا۔`

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا کے ماہرین کے مطابق ملک میں زہریلے مینڈکوں (کین ٹوڈ ) کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے۔
اِن زہریلے مینڈکوں کو 74 برس پہلے آسٹریلیا کے جس علاقے میں ایک خاصں مقصد کے لیے چھوڑا گیا تھا یہ آج وہاں سے دو ہزار کلو میٹر سے بھی زیادہ دور کے علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔










