’بہار کے سیلاب کی اصل وجہ چوہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار ایک بار پھر چوہوں کے سبب سرخیوں میں ہے یا یوں کہیے کہ وہاں کے چوہے سرخیوں میں ہیں۔
ریاست بہار ان دنوں شدید ترین سیلاب سے دو چار ہے جہاں 500 سے زیادہ افراد اس کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ 21 اضلاع میں تقریبا پونے دو کروڑ افراد اس سے متاثر ہیں۔
اور اسی درمیان بہار کے آبی وسائل کے وزیر نے کہا ہے کہ بہار کے سیلاب کی اصل وجہ چوہے ہیں۔
اس سے قبل بہار میں جب شراب بندی ہوئی تھی تو پولیس نے لاکھوں لیٹر شراب ضبط کی تھی پھر اچانک شراب کی بوتلیں خالی ملیں تو دارالحکومت پٹنہ کے اعلی پولیس اہلکار منو مہاراج نے میڈیا کو بتایا کہ انھیں پولیس انسپکٹروں نے بتایا کہ ہزاروں لیٹر ضبط شدہ شراب چوہوں کی نذر ہو گئی۔
بہار کے آبی وسائل کے وزیر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے جمعے کو ایک ریویو میٹنگ میں بتایا کہ بہار میں سیلاب کی تباہی کا اصل سبب چوہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPRASHANT RAVI
انھوں نے میڈیا کو بتایا: 'سیلاب کے پانی کے بندھ توڑ کر نکلنے کا اصل سبب چوہے ہیں۔ بطور خاص کملا بالن دریا کے بندھ۔ کے پاس رہنے والے لوگ اپنا اناج بندھ پر مچان بنا کر رکھتے ہیں جس سے وہاں چوہے آتے ہیں اور چوہے بند میں سوراخ بناتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ تباہی ہوئی ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے ساتھ ہی انھوں نے بتایا کہ حکومت نے 72 گھنٹوں میں ان سوراخوں کو بند کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ بہار کے آبپاشی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر دنیش چندر یادو نے بھی کہا کہ چوہے ایک زمانے سے بندھ کو کمزور کرتے رہے ہیں اور سیلاب کا موجب بنتے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: بہت عرصے سے یہ مسئلہ رہا ہے۔ آپ اس کا کیا کر سکتے ہیں۔ کیا آپ چوہوں کو ہمیشہ کے لیے کسی جگہ سے بھگا سکتے ہیں؟ مچھر اور چوہے ہمیشہ سے مسئلہ ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریاست میں حزب اختلاف راشٹریہ جنتا دل کے سینیئر لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر خزانہ عبدالباری صدیقی نے چوہوں کو سیلاب کا ذمہ دار بتانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انھون نے کہا: چوہے شراب غٹ کر جا رہے ہیں۔ اناج کھا جا رہے ہیں۔ اب تو چوہے ریاست میں سیلاب بھی لا رہے ہیں۔ اگر چوہے اس قدر طاقتور ہیں تو انھیں ہی حکومت کی ذمہ داری سونپ دینی چاہیے۔







