چوہوں نے 12 لاکھ روپے سے زیادہ کی مالیت کے نوٹ کتر ڈالے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں ہزاروں لیٹر شراب پینے اور سیلاب کی تباہی کا سبب ہونے کے الزامات کے بعد اب چوہوں پر لاکھوں روپے کترنے کا الزام لگا ہے۔
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں جب ٹکنیشینز نے ایک خراب اے ٹی ایم مشین کو ٹھیک کرنے کے لیے اسے کھولا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔
انھیں 12 لاکھ سے زیادہ مالیت کے نوٹ کترے ہوئے ملے اور ان کے مشتبہ مرتکبین کے طور پر چوہوں کے سر الزام گیا۔
انڈین اخبار دی ہندوستان ٹائمز کے مطابق پولیس نے بتایا کہ شاید چوہے وائرنگ کے لیے بنے سوراخ کے راستے مشین میں داخل ہو گئے اور انھوں نے کرنسی نوٹ کو کتر دیا۔
یہ واقعہ آسام کے تین سُکیا ضلعے میں سٹیٹ بینک آف انڈیا کے ایک اے ٹی ایم میں پیش آيا۔ اس کی تصویر سوشل میڈیا بطور خاص ٹوئٹر پر وسیع پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ایک تصویر میں ان کترے ہوئے کرنسی نوٹوں کے درمیان ایک مردہ چوہے کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق پولیس اہلکار پرکاش سونووال نے بتایا کہ مشین گذشتہ 12 دنوں سے خراب تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن ٹکنیشینز نے مشین کھولی انھوں نے 2000 اور 500 کے کرنسی نوٹوں کو بڑی تعداد میں کترا ہوا پایا۔
اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق ایس بی آئی میں اے ٹی ایم کے چینل منیجر چندن شرما نے بتایا کہ خراب ہونے سے قبل اس مشین میں 29 لاکھ روپے ڈالے گئے تھے۔
انھوں نے کہا ’تقربیاً 17 لاکھ روپے بغیر کترے بچ گئے جبکہ 12 لاکھ 38 ہزار مالیت کے روپے کو نقصان پہنچا ہے۔‘
اس سے قبل انڈیا کی شمال مشرقی ریاست میں چوہوں پر ضبط کی جانے والی ہزاروں لیٹر شراب پینے کا الزام لگایا گيا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPRASHANT RAVI
ریاست بہار نے سنہ 2016 میں شراب کی فروخت اور شراب نوشی پر پابندی عائد کر دی تھی اور تقریباً ایک سال کے دوران پولیس نے نو لاکھ لیٹر شراب ضبط کی تھی۔
اس کے علاوہ ستمبر سنہ 2017 میں بہار میں سیلاب سے آنے والی تباہی کا سبب بھی چوہوں کو بتایا گیا تھا۔
بہار کے اس وقت کے آبی وسائل کے وزیر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے ایک ریویو میٹنگ میں بتایا کہ بہار میں سیلاب کی تباہی کا اصل سبب چوہے ہیں۔
انھوں نے میڈیا کو بتایا: 'سیلاب کے پانی کے بندھ توڑ کر نکلنے کا اصل سبب چوہے ہیں۔ بطور خاص کملا بالن دریا کے بند کے پاس رہنے والے لوگ اپنا اناج بند پر مچان بنا کر رکھتے ہیں جس سے وہاں چوہے آتے ہیں اور چوہے بند میں سوراخ بناتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ تباہی ہوئی ہے۔'









