دنیا کی پہلی ڈیجیٹل گھڑی جو موجد کو لاکھوں میں پڑی

ڈیجیٹل گھڑی

دنیا کی پہلی ڈیجیٹل کلاک کے موجد نے اسے اپنے گھر میں بنایا تھا اور اب اس کی نیلامی کر دی گئی ہے۔

تھامس بروملی نے جو پیشے کے اعتبار سے ایک انجینئیر ہیں یہ ڈیجیٹرون کلاک سنہ 1961 میں ہُل میں اپنے گھر میں تیار کی تھی۔

انھوں نے تین سال تک اپنی گھڑی کا سند حق ایجاد اپنے پاس رکھا لیکن پھر اس کی تجدید نہیں کروائی جس پر ہزاروں پاؤنڈز خرچ آتا تھا۔

گھڑی کا ماڈل چار سو ساٹھ پاؤنڈ میں فروخت ہوا۔

BROMLEY

،تصویر کا ذریعہBROMLEY FAMILY

نیلامی کرنے والے جان ہولے کہتے ہیں کہ برومبلی نے سنہ 1964 برسلز میں سیلون ڈیس انوینٹر میں یہ ماڈل بنانے پر ایوارڈ حاصل کیا اور اگر وہ اس سے متعلق پیٹنٹ یعنی سند حق ایجاد کی تجدید کروا لیتے تو لکھ پتی بن جاتے۔

اس گھڑی کی سند حق ملنے کے ایک سال بعد جاپانیوں نے بالکل ایسی ہی گھڑی بنانی شروع کر دی جس کی قیمت کئی ہزار تھی۔

برومبلی کے بیٹے ڈیوڈ نے بتایا کہ ان کے والد کو کمرشل بنیادوں پر کرسمس سے قبل 20 ایسی گھڑیاں بنانے کا آڈر ملا تھا لیکن ان کے پاس ان کی تیاری کے لیے کوئی سہولت نہیں تھی۔

نیلامی کے بعد اپنی گفتگو میں ڈیوڈ نے کہا کہ وہ کچھ افسردہ بھی ہیں۔

'یہ ہمیشہ میری والدہ کی الماری میں پڑی رہتی تھی۔ کچھ ماہ پہلے ان کا انتقال ہوا ہے اور میری بہن نے اور میں نے اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا۔'

اس موقع پر ڈیوڈ نے اس وقت کو بھی یاد کیا جب ان کے والد ایک الیکٹریکل انجینئیر سے راتوں رات موجد بن گئے۔

انھوں نے بتایا کہ کیسے ان کے والد ہر دم اپنے شیڈ میں رہتے تھے۔

برومبلی
،تصویر کا کیپشنبرومبلی اس گھڑی کو کمرشل بنیادوں پر تیار نہ کر سکے

'وہ رات کو نو یا دس بجے باہر آتے تھے وہ ایک دیوانے پروفیسر کی طرح تھے۔ میں وہاں اندر جاتا تھا اور بیٹھ کر انھیں دیکھا کرتا تھا۔ ان کے پاس ہر قسم کے اوزار اور آلات ہوتے تھے۔ یہ ان کی زندگی تھی۔'

برموبلی نے جن کی موت سنہ 1990 میں ہوئی تھی ایسے پردے بھی بنائے تھے جو سورج کے غروب ہونے پر خود بخود بند ہو جاتے تھے۔