ایسے شاپنگ بیگ جنھیں استعمال کے بعد کھا بھی سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہ1+1 TV
یوکرین میں سائنسدانوں نے ایک ماحول دوست پلاسٹک بیگ تیار کیا ہے جو جلد ہی تلف ہو جاتا ہے، ماحول کو آلودہ نہیں کرتا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ اسے کھا بھی سکتے ہیں۔
مقامی نیوز سائٹ ڈیپو سمی کے مطابق ڈاکٹر دمترو بدیوک اور ان کے ساتھیوں نے یہ ماحول دوست بیگ قدرتی پروٹین اور نشاستے کی مدد سے سمی شہر میں واقع نیشنل ایگریرین یونیورسٹی کی لیباٹری میں تیار کیا ہے۔
انھوں نے سمندر گھاس اور سرخ کائی سے حاصل ہونے والے نشاستے کی مدد سے کپ، سٹرا اور لفافے تیار کیے ہیں۔ یہ چیزیں عام طور پر پلاسٹک سے تیار کی جاتی ہیں اور انھیں گلے سڑنے میں سینکڑوں برس درکار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں!
ڈاکٹر بدیوک نے 1+1 ٹی وی کو بتایا کہ ’اس کپ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ 21 دن میں تلف ہو جاتے ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جبکہ ان بیگ کے اجزا زمین میں ایک ہفتے کے دوران تحلیل ہوجاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ1+1 TV
ان کپس کو فریز بھی کیا جا سکتا ہے اور ان میں کپ کیک بھی بیک کیے جا سکتے ہیں لیکن ان کی منفرد خاصیت یہ ہے کہ یہ انسانی جسم میں ہضم ہو سکتے ہیں۔
انڈیا اور بالی میں تیار کر بیگز کی ایسی مثالیں موجود ہیں جو بعد میں جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے، اور برطانوی کمپنی پانی کی ایسی تھیلیاں تیار کر رہی ہیں جنھیں کھایا جا سکتا ہے لیکن ڈاکٹر بدیوک کے مطابق یوکرین کی 'یہ جدید تخلیق ال دانتے نوڈلز جیسی ہے۔‘
بیگز کے اوپر لگے ہوئے لوگو اور رنگ بھی کھانے والے قدرتی رنگوں پر مشتمل ہیں جبکہ سٹرا بھی مختلف ذائقوں میں ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر بدیوک کہتے ہیں ’آپ اپنے مشروب سے لطف اندوز ہونے کے بعد سڑا کو بھی کھا سکتے ہیں۔‘
مقامی میڈیا کے مطابق یوکرین میں ماحولیاتی مہم جو ڈسپوزیبل پلاسٹک کے بارے میں پرجوش ہیں جو پلاسٹک کی دیگر قسموں کے نیم البدل ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اس پر سرمایہ کاری کرے۔
دوسری جانب سمی ٹیم نے رواں مہینے کوپن ہیگن میں منعقدہ یونیورسٹی سٹارٹ اپ ورلڈ کپ میں سسٹین ابیلٹی ایوارڈ بھی جیتا ہے اور وہ مزید تحقیق کے لیے غیرملکی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ1+1 TV










