فیس بک کی فیشل ریکگنیشن کے خلاف مقدمہ کیا جا سکتا ہے: امریکی عدالت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں ایک عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ ایسے لاکھوں صارفین جن کی تصاویر ان کے علم میں لائے بغیر سکین کی گئیں، وہ فیس بک کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
2015 میں یہ کیس ریاست النائی کے صارفین نے ریاست میں موجود ایک خصوصی قانون کے پیشِ نظر شروع کیا تھا۔
اس کلاس ایکشن کیس میں فیس بک کو اربوں ڈالر کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
فیس بک کے کہنے پر اس کیس کو شہر سان فرانسسکو کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا بھرپور دفاع کرے گی۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کیس کے فیصلہ سے فیس بک کے امریکہ میں بائیو میٹرکس کے استعمال پر دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
فیس بک پر تصاویر میں اپنے دوستوں کو ٹیگ کرنا اس ویب سائٹ کا مقبول ترین فنکشن رہا ہے۔ اور ٹیکنالوجی کے بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ فیس بک نے فیشل ریکگنیشن یعنی چہرے کی شناخت کے ذریعے اس کام کو اور بھی آسان بنا دیا تھا۔
مگر اس کام کو کرنے کے لیے فیس بک نے لوگوں کے چہروں کا بہت بڑا ڈیٹا بیس بنایا ہے اور اب اس مقدمے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ڈیٹا بیس صارفین کی واضح اجازت کے بغیر بنایا گیا۔ اور بالکل یہ ممکن ہے کہ آپ فیس بک استعمال بھی نہ کرتے ہوں اور اگر آپ کے کسی دوست نے آپ کی تصویر اپ لوڈ کر دی ہے تو آپ کا چہرہ اس ڈیٹا بیس میں ہو۔
اگرچہ یہ کیس النائی کے قوانین کے تحت آگے چلے گا، ایک کلاس ایکشن ہونے کا مطلب ہے کہ اس سے متاثرہ تمام صارفین ہرجانے کے حقدار ہو سکتے ہیں۔
فیس بک کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں کوئی جان نہیں ہے اور وہ اس کے خلاف اپنا بھرپور دفاع کریں گے۔








