انڈین وزرا نے سائنس کی تاریخ دوبارہ لکھ دی

رائٹ بردرز

،تصویر کا ذریعہHulton Archive/Getty images

،تصویر کا کیپشنرائٹ بردرز جہاز بنانے اور اسے اڑانے میں کامیاب ہوئے تھے
    • مصنف, عائشہ پریرا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

بدھ کو انڈیا کے جونیئر وزیر برائے تعلیم ستیاپال سنگھ کے ایک بیان نے بہت سے لوگوں کو اس وقت حیران کر دیا جب انھوں نے یہ تجویز دی کہ انجنیئرنگ کے طالب علموں کو قدیم دور میں انڈین ایجادات کے بارے میں پڑھایا جائے۔ جس میں یہ بھی شامل ہو کہ پہلے جہاز کا ذکر رامائن دور میں ملتا ہے۔

ستیاپال سنگھ انجنیئرنگ کی ایوارڈ کی تقریب میں مہمان خصوصی تھے۔ انھوں نے شرکا کو بتایا کہ رائٹ برادرز سے آٹھ سال پہلے پہلا جہاز ایک انڈین شیواکر بابوجی نے بنایا تھا۔

شیواکر بابوجی کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی اس لیے ستیاپال سنگھ کے اس بیان کا سوشل میڈیا پر بہت مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

بہرحال وہ پہلے انڈین وزیر نہیں ہیں جنھوں نے یہ دعویٰ کیا سائنس میں انڈیا کی قدیم دور میں خدمات رہی ہیں یا جہاز ایک انڈین نے ایجاد کیا تھا۔

ایک اعلیٰ سائنس کانفرنس کے دوران سنہ 2015 میں ایک سپیکر نے شرکا کو بتایا تھا کہ جہاز کے موجد کا نام بہارادواجہ تھا جو 7000 سال پہلے موجود تھے۔

کیپٹن آنند بوداس ایک ریٹائرڈ پائلٹ ہیں اور اسی شعبے میں تربیتی ادارے کے سربراہ بھی ہیں۔ انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہزاروں سال پہلے انڈیا میں جہاز موجود تھے۔

یہاں کچھ دیگر مشکوک سائنسی دعوے ہیں جنھوں نے ماضی میں بھی توجہ مبذول کی تھی۔

پلاسٹک سرجری کے دیوتا

گنیش دیوتا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہندو دیوتا گنیش کا جسم انسانوں جبکہ چہرہ ہاتھی جیسا ہے

سنہ 2014 میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹاف کے ایک اجتماع سے خطاب میں بتایا تھا کہ ہندو دیوتا گنیش نے قدیم انڈیا میں کاسمیٹک سرجری کو دکھایا۔

انھوں نے کہا کہ ہم گنیش کی عبادت کرتے ہیں۔ وہاں پر ضرور کچھ پلاسٹک سرجن ہوں گے جنھیں انسان کے جسم پر ہاتھی کا سر ملا ہوگا اور انھوں نے پلاسٹک سرجری کی پریکٹس شروع کی ہو گی۔

ہندو عقیدے کے مطابق گنیش دیوتا تب بنے جب شیوا نامی دیوتا نے ایک بچے کے جسم پر ہاتھی کے بچے کا جسم لگا دیا تھا۔

شاہکار انجنیئرنگ

رام دیوتا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکیا رام دیوتا نے سری لنکا تک پل بنایا تھا

گذشتہ ماہ انڈیا میں ریاست گجرات وزیراعلیٰ ویجے روپانی نے انسٹی ٹیوٹ آف انفراسٹرکچر ٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ مینیجمنٹ میں اپنی ایک تقریر رام دیوتا کے انجنیئرنگ کے شعبے میں صلاحیتوں کی تعریف کی۔

رامائن کا کہنا ہے کہ دیوتا رام نے انڈیا سے سری لنکا تک پل تعمیر کیا تھا جس کا مقصد اپنی بیوی سیتا کو بچانا تھا۔ انھیں ملک کے بھوتوں کے بادشاہ نے اغوا کر لیا تھا۔

وزیر اعلیٰ ویجے روپانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تصور کریں کہ رام دیوتا کے پاس کس قسم کے انجنئیرز اس پل کو تعمیر کرنے کے لیے موجود تھے۔

’گلہریوں نے بھی اس پل کو تعمیر کرنے میں مدد کی۔ حتیٰ کہ آج بھی لوگ کہتے ہیں کہ رام سیتو کی باقیات آج بھی اس سمندر میں ہیں۔‘

گائے جو سانس کے ذریعے آکسیجن خارج کرتی ہے۔

گائے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گائے سانس کے ذریعے فضا میں آکسیجن نہیں چھوڑتی

رواں ماہ جنوری میں راجھستان کے وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ یہ اہم ہے کہ گائے کی سائنسی اہمیت کو سمجھا جائے کیونکہ یہ پوری دنیا میں واحد جانور ہے جو آکسیجن کو اپنے سانس کے ذریعے اندر لے کر جاتا بھی ہے اور اسے باہر بھی نکالتا ہے۔

واسو دیو دیونانی بے اس بارے میں کسی ریسرچ کا حوالہ نہیں دیا جس سے ثابت ہو سکے کہ گائے آکسیجن بھی فضا میں چھوڑتی ہے۔

جب ان کا یہ بیان میڈیا کے سامنے آیا تو تب بھی اس کا بہت مذاق اڑایا گیا تھا۔