آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشل میڈیا پر اچھا دکھنے کے دباؤ کی وجہ سے نوجوانوں میں کاسمیٹک سرجری کا رجحان
ایک رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے بوٹوکس اور ڈرمل فلر جیسی کاسمیٹک سرجری کروانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں پلاسکٹ سرجری سے متعلق ایپس یا بچوں کے کھیلنے کے لیے جو آن لائن پلاسٹک سرجری کے گیمز ہیں اس پر بھی نکتہ چینی کی گئی ہے۔
اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گيا ہے کہ اس طرح کی آن لائن ایپس جسم کی شبیہ سے متعلق طرح طرح کے خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
چونکہ کاسمیٹک سرجری کی صنعت سے متعلق باضابطہ اصول و ضوابط کی کمی ہے اسی لیے یہ صنعت سرکاری نگرانی سے آزاد ہے تاہم گذشتہ ایک عشرے میں اس صنعت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
اس سے متعلق رپورٹ میں ایسے کئی عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جو نوجوانوں کو اپنے جسم کی بناوٹ پر توجہ دینے کے لیے اکساتے رہتے ہیں۔ اور وہ اپنی ظاہری شکل و صورت کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہونے لگتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصویروں کی مثبت اور منفی دونوں طرح کے ریٹنگ ہوتی ہے۔ ایسے فورم پر خوبصورت تصویروں کے ساتھ ہی بظاہر پرفیکٹ لائف سٹائل کی صورت میں سلیبریٹی کلچر مقبول ہورہا ہے۔
کاسمیٹک سرجری کے اخلاقی پہلوؤں پر جس کاؤنسل نے ریسرچ کیا ہے اس کی سربراہ پروفیسر جینیٹ ایڈورڈ، جو یونیرسٹی آف مانچیسٹر سے ہیں، کا کہنا ہے کہ پینل کو اس سے متعلق ان گیمز پر حیرانی ہوئی جو چھوٹے بچوں کے لیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: 'اشتہارات، فیس بک، انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ جیسے سوشل میڈیا کی جانب سے اکثر غیر حقیقی، اور امتیازی سلوک والے ایسے پیغامات کی بھر مار رہتی ہے کہ لوگ، خاص طور لڑکیاں اور عورتیں، کس طرح سے دکھنی چاہیئں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ 'پلاسٹک سرجری پرنسیز'، 'لٹل سکن ڈاکٹر' اور 'پمپ مائی فیس' نامی آن لائن ایپس نوجوانوں کو ذہنی بیماریوں میں مبتلا کر نے کا سبب بنتی ہیں۔
برطانیہ میں اس سے متعلق ایک ادارے 'نیفلڈ کاؤنسل آن بائیوتھکس' کا کہنا ہے کہ حکومت کو اصول و ضوابط کے دائرے سے باہر ایسی انڈسٹری سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر ایڈورڈ کا کہنا ہے کہ جب تک ماہرین کی ٹیم اجازت نہ دے اس وقت تک 18 برس سے کم عمر کے لوگوں کے لیے پلاسٹک سرجری کرانے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق: ' 18 برس تک کے کسی بھی شخص کواس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کسی بھی دوکان پر جا کر اپنی پلاسٹک سرجری کروا لے۔'
ان کے مطابق اس کے لیے با قاعدہ اصول و ضابط وضع کرنے کی ضرورت ہے۔