آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جوتوں کے تسمے آخر کیوں کھل جاتے ہیں؟
آپ جوتے پہنتے ہیں، اپنے جوتوں کے تسموں کو مضبوطی سے باندھتے ہیں لیکن پھر جلد ہی وہ ڈھیلے ہو کر کھل جاتے ہیں تاہم سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اب وہ گرہیں کھلنے کے اسباب جان چکے ہیں۔
ان کے مطابق پاؤں جس تیزی کے ساتھ زمین پر پڑتا ہے اس سے گرہ پھیلتی ہے اور پھر ڈھیلی ہو جاتی ہے جب کہ ٹانگوں کے لہرانے کے عمل سے ایک دوسری قوت پیدا ہوتی ہے جو کسی غیر مرئی ہاتھ کی طرح تسموں کے دونوں سروں پر عمل کرتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے جوتوں کے تسموں کی اس فہم کا ڈی این اے جیسی دوسری ساخت یا چیزوں پر اطلاق ہو سکتا ہے۔
سست رفتار یا سلو موشن کیمرے سے کیے جانے والے کئی تجربوں سے برکلے کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے مکینیکل انجینیئروں نے جوتوں کے تسموں کی 'گرہ کی ناکامی' کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تسمے چند لمحوں میں ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور یہ قوت پیچیدہ عمل کا نتیجہ ہے۔
اس تحقیق کے مرکزی رکن کرسٹوفر ڈیلی ڈائمنڈ نے کہا: 'جب آپ گانٹھ جیسی ساخت کی چیزوں کی بات کرتے ہیں اور اگر آپ جوتوں کے تسموں کے عمل کو سمجھتے ہیں تو آپ اسے ڈی این اے یا دوسری چھوٹی گانٹھ جیسی ساخت اور چیزوں پر بھی آزما سکتے جو کہ متحرک قوتوں کے سبب ناکام ہو جاتے ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ 'یہ اس بات کو سمجھنے کی جانب پہلا قدم کہ آخر کوئی گانٹھ دوسری گانٹھ سے زیادہ بہتر کیوں ہوتی ہے تاہم ابھی تک کسی نے ابھی تک نہیں کیا ہے۔'
یہ تحقیق پروسیڈنگز آف رائل سوسائٹی اے میں شائع ہوئی ہے۔
محققین نے اس تحقیق کے دوران دوڑنے والے جوتے کے ساتھ ٹریڈ مل پر دوڑتے یا جاگنگ کرتے ہوئے پورے عمل کی فلمبندی کی اور پھر یہ بات سامنے آئی کہ دوڑتے ہوئے آپ کا پاؤں زمین پر زمین کی قوت ثقل سے سات گنا زیادہ قوت سے پڑتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس قوت کے ردعمل میں گرہ پہلے پھیلتی ہے اور پھر پرسکون ہو جاتی ہے۔ جیسے ہی گانٹھ ڈھیلی پڑتی ہے ٹانگوں کے لہرانے سے ایک خودکار یا اضطراری قوت تسموں کے دونوں سروں پر عمل کرتی ہے جس کے نتیجے میں فیتہ کم سے کم دو جست میں کھلنے لگتا ہے۔
مز گریگ کہتی ہیں: 'ہم گانٹھ کھولنے کے لیے گانٹھ کے اس سرے کو کھینچتے ہیں جو آزاد ہوتا ہے اور گانٹھ کھل جاتی ہے۔ اسی طرح اس عمل میں بھی جوتوں کی گرہیں کھل جاتی ہیں۔'
سائنسدانوں نے مختلف قسم کے تسموں کے ساتھ تجربہ کا۔ گانٹھ لگانے کے معاملے میں بعض تسمے دوسرے سے بہتر تھے لیکن ان پر وہی خودکار عمل کارفرما تھا اور گانٹھ ڈھیلی پڑ رہی تھی۔