آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈی این اے کی مدد سے ملزم پکڑا گیا
نیویارک پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک خاتون کے جسم پر موجود ڈی این اے کی مدد سے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ انھوں نے ایک خاتون کو ریپ کے بعد قتل کیا تھا۔
30 سالہ کرینا ویٹرانو نیویارک کے علاقے کوینز میں اپنے گھر کے قریب اکیلے جاگنگ کرتے ہوئے قتل کر دی گئی تھیں۔
تفتیش کاروں کو ان کے ناخنوں کے نیچے موجود ڈی این اے کا کسی سے میچ نہیں مل پا رہا تھا۔ آخر ہنگامی سروس 911 کو کیے جانے والی فون کالز کی مدد سے پولیس نے 20 سالہ چینل لیوس کا پتہ چلا لیا۔
ان کا کہنا ہے کہ لیوس کا ڈی این اے مقتولہ کے بدن پر موجود ڈی این اے سے مل گیا ہے۔
نیویارک پولیس کے سراغ رسانوں کے سربراہ رابرٹ بوئس نے کہا: 'یاد رکھیں کہ کرینا نے ہمیں ملزم کی شناخت میں مدد دی ہے۔ ان کے ناخنوں کے نیچے اس شخص کا ڈی این اے تھا۔ اس کے علاوہ ان کی پیٹھ اور سیل فون پر بھی اس کا ڈی این اے ملا ہے۔'
کرینا سپیچ تھیراپسٹ تھیں اور انھیں تنہا جاگنگ کرنے کے دوران پہلے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، پھر گلا گھونٹ کر مار ڈالا گیا۔
عام طور پر کرینا کے والد ان کے ساتھ جاگنگ کیا کرتے تھے، لیکن اس دن وہ زخمی ہونے کی وجہ سے اپنی بیٹی کا ساتھ نہیں دے سکے تھے۔
اتوار کے روز پولیس نے کہا کہ انھیں ملزم کا سراغ جائے واردات کے آس پاس سے 911 کو کی جانے والی فون کالز کی مدد سے ملا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کال کرنے والے ایک شخص نے ملزم کو مشکوک حرکتیں کرتے دیکھا تھا۔ چینل لیوس کو بدھ کے روز گرفتار کر کے ان کے ڈی این اے کا نمونہ حاصل کر لیا گیا۔
لیوس کے افرادِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بڑے 'عاجز' انسان ہیں اور فلاحی کاموں میں حصہ لینے کے خواہش مند تھے۔