زمین کی جسامت کا ایک سیارہ جس کی فضا بھی زمین جیسی ہے

،تصویر کا ذریعہDANA BERRY
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے نظامِ شمسی سے باہر زمین کی جسامت کا ایک سیارہ دریافت کیا ہے جس کی فضا بھی زمین جیسی ہے۔
ماہرین نے جی جے 1132 بی نامی اس سیارے کا مشاہدہ کیا ہے جو کرہ ارض سے تقریباً ڈیڑھ گنا بڑا اور زمین سے تقریباً 39 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس سیارے کی سطح پر گيسوں کی ایک موٹی پرت ہے جو پانی یا میتھین گيس مشتمل ہے، یا پھر ان دونوں کا آمیزہ ہے۔
نظامِ شمسی سے باہر زمین جیسے کرۂ ہوائی پر مبنی اس سیارے کی دریافت کو اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہاں زندگی کے آثار پائے جاتے ہوں، کیونکہ وہاں درجۂ حرارت 370 ڈگری سیلسیئس کے آس پاس ہے۔
اس تحقیق میں شامل کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ڈاکٹر جان ساؤدورتھ کا کہنا ہے: 'میرے علم کے مطابق زمین پر سب سے زیادہ گرم علاقہ جہاں زندگی ممکن ہو سکتی ہے، وہ 120 ڈگری سیلسیئس تک ہے جب کہ یہ سیارہ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔'
جی جے 1132بی 2015 میں دریافت کیا گیا تھا۔ یہ جنوبی نصف کرے کے ویلا برج میں واقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سیارے کا غور سے مشاہدہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس پر بھاپ یا پھر میتھین گیس کی موٹی فضا پائی جاتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس سیارے پر شدید گرمی کے سبب زندگی کا امکان تو کم ہی ہے لیکن ممکنہ طور پر پانی پر مشتمل ایک نئی فضا کی دریافت نظام شمسی سے باہر کی دنیا میں زندگی کی تلاش کی سمت میں حوصلہ افزا قدم ہے۔
ڈاکٹر ساؤدورتھ کا کہنا تھا: 'ہم نے جو دکھایا ہے وہ یہ کہ نچلے درجے کے ستاروں کے گرد گھومنے والے سیاروں کی فضا میں پانی موجود ہو سکتا ہے۔ چونکہ ایسے بہت سے سیارے ہیں اس لیے اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ کسی ایک پر زندگی بھی ممکن ہو۔'
لندن میں رائل آبزرویٹری گرین وچ سے وابستہ میرک کوکلا نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آج ٹیکنالوجی فضا دریافت کر سکتی ہے تو یہ اس بات کا اچھا شگون ہے کہ مستقبل قریب میں ہی زمین جیسے دیگر سیاروں پر آبی فضا کا پتہ چل سکتا ہے اور اس پر مزید تحقیق بھی کی جا سکتی ہے۔'










