ٹرمپ نے کسی اور ایوانکا کو اپنی بیٹی سمجھ لیا
برطانیہ کے ساحلی شہر برائٹن کی رہائشی ایک خاتون بدھ کی صبح اس وقت خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوگئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں اپنی بیٹی سمجھ کر ٹوئٹر پر پیغام بھیج دیا۔
صدر ٹرمپ کی اس غلطی کی وجہ یہ بنی کہ مذکورہ خاتون امریکی صدر کی بیٹی کی ہم نام ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بیٹی کی تعریف میں کی گئی ایک اور ٹویٹ کی نقل کر رہے تھے جس میں ان کی بیٹی کا ’ٹوئٹر ہینڈل‘ غلط لکھا گیا تھا۔

ایک مقامی ڈیجیٹل کمپنی میں کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرنے والی ایوانکا میجک نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اور ان کے شوہر کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی طرف سے صبح سویرے اس وقت فون کالیں موصول ہونا شروع ہوئیں جب ان کا نام ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ میں سامنے آیا جس کے دو کروڑ فالوئرز ہیں۔

ماضی میں برطانوی لیبر پارٹی کے لیے کام کرنے والی ایوانکا میجک نے کہا کہ انھیں حقیقت اس وقت معلوم ہوئی جب ایک نیوز ایجنسی نے ان کے شوہر کو ٹیکسٹ پیغام بھیجا۔

انھوں نے کہا کہ 'میں اپنا فون دیکھنے نیچے آئی تو اس پر بےشمار نوٹیفیکیشن آئے ہوئے تھے۔' انھوں نے مزید کہا کہ جب آپ کے دن کا آغاز آئی ٹی وی اور بی بی سی 45 منٹس پر انٹرویو سے ہو تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔'
ایونکا میجک کا یوزر نیم Ivanka@ جبکہ ایوانکا ٹرمپ کا یوزر نیم IvankaTrump@ ہے
انھوں نے کہا کہ اکثر لوگ ٹوئٹر پر ان کے یوزر نیم کو امریکی صدر کی بیٹی کا یوزر نیم سمجھتے ہیں۔ لیکن اس سے قبل کبھی بھی اتنا رد عمل سامنے نہیں آیا جتنا اس مرتبہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انھوں نے کہا کہ امریکی الیکشن کے دوران ٹوئٹر پر وہ ایک ایسا ٹوئٹر 'بوٹ' یا پیغام بھیجنے کا خود کار پروگرام استعمال کرتی رہی ہیں جو انھیں ایوانکا ٹرمپ سمجھ کر غلطی سے پیغام بھیجنے والوں کو جواب دیتا تھا کہ وہ ہلیری کلنٹن کو ووٹ دیں۔
انھوں نے کہا کہ ایوانکا سلواکیا میں لڑکیوں کا عام نام ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا نام ہنگری کی ایک کنکریٹ کمپنی ایوانکا کنکریٹ سے ملتا جلتا ہے۔
'میں ابھی اپنا یوزر نیم تبدیل کرنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پا رہی۔ میں ٹوئٹر زیادہ استعمال نہیں کرتی جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میرے ملنے والوں کی ٹویٹس ان سب میں کہیں کھو جاتی ہیں۔'
ایونکا 2007 سے ٹوئٹر استعمال کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک نئی چیز سامنے آئی تھی اور انھوں نے ایک یوزر نیم بنا لیا یہ سوچے بغیر کہ کبھی ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بھی منتخب ہو جائیں گے۔







