جعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے فیس بک کا تفصیلی منصوبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے فیس بک پر جعلی خبروں کی اشاعت روکنے کے لیے نیا منصوبہ تیار کیا ہے اور اُن کے مطابق نئی منصوبہ سازی سے کسی حد اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
حال ہی میں فیس بک پر غلط خبروں کے معاملے پر تنازع اس وقت کھڑا ہوا تھا جب بعض صارفین نے کہا کہ فیس بک پر پھیلنے والی غلط خبریں امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج پر اثرا انداز ہوئی ہیں۔
جعلی خبروں پر روک تھام کے لیے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے مارک زکربرگ نے غلط خبروں کو سنجیدگی سے لینے اور ان کی اچھی طرح سے جانچ اور تصدیق کرنے پر زور دیا ہے۔
فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا ہے کہ 'ہم اس مسئلے پر کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں اور ہم اپنی اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔'
لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'یہ مسائل فلسفیانہ اور تکنیکی دونوں نقطہ نظر سے کافی پیچیدہ ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی طرح کی رائے کے شیئر کرنے کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی سچ کا ثالث بننا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارک زکربرگ نے کہا کہ فیس بک غلط خبروں کی بیخ کنی کے لیے فی الحال، بشمول اچھی طرح سے پتہ لگانے اور تصدیق کرنے سمیت، ایسی سات تجاویز پر بڑی محنت سے کام کر رہا ہے۔
اس کے تحت غلط خبروں پر جعلی مواد کا وارننگ لیبل بھی لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل زکربرگ نے فیس بک پر جعلی خبروں پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کہا تھا کہ اُن کی نظر میں 99 فیصد مواد صحیح تھا۔
فیس بک نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا تھا کہ ان کے پلیٹ فارم کے ذریعے صدارتی انتخاب سے قبل جعلی خبریں پھیلائی گئی تھیں۔
فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اس تنقید کا بھرپور دفاع کیا تھا کہ فیس بک پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں مدد ملی تھی۔
انھوں نے امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت میں کردار ادا کرنے کی بھی تردید کی تھی۔
لیکن کمپنی نے اس بات کی چھان بین کا آغاز کر دیا تھا کہ کیسے فیس بک پر جعلی خبریں پھیلیں۔







