چینی دفاعی بجٹ، پندرہ فیصد اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین نے کہا ہے کہ وہ اس برس اپنے دفاعی بجٹ میں قریباً پندرہ فیصد کا اضافہ کرے گا جس کے بعد دفاعی بجٹ چار سو اکیاسی ارب یوان یا ستّر ارب ڈالر کے مساوی ہو جائےگا۔ بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ اضافی رقم بہتر تنخواہوں، فوج کو جدید بنانے اور انسدادِ دہشتگردی جیسے صلاحیتوں میں اضافے کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ ترجمان لی زہاؤژنگ کے مطابق دفاعی بجٹ میں کیا جانے والا اضافہ معمولی ہے اور چین اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع چاہتا ہے اور وہ کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چین کے دفاعی اخراجات اس کے دفاعی بجٹ میں مختص رقم سے کہیں زیادہ ہیں تاہم چینی حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں اور ان کے مطابق اس حوالے سے کوئی خفیہ اخراجات نہیں ہیں۔اس حوالے سے لی زہاؤژنگ نے کہا کہ خفیہ عسکری اخراجات جیسی کسی چیز کا وجود نہیں۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ گزشتہ بیس برس کے دوران چین کے دفاعی بجٹ میں ہونے والا ایسا انیسواں اضافہ ہے جس میں اضافے کی شرح دوہرے ہندسوں میں رہی ہے۔ ماضی میں بھی چین کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافے پر امریکہ سمیت متعدد ممالک کی جانب سے تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔ تاہم بیجنگ میں بی بی سی کے جیمز رینلڈز کے مطابق چین میں بہت سے لوگ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فی کس اخراجات کے حوالے سے چین کا بجٹ اب بھی بہت معمولی ہے۔ ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کا فوجی بجٹ اب بھی امریکی دفاعی بجٹ کے مقابلے میں آٹھ گنا کم ہے۔ | اسی بارے میں چینی معیشت کو بھی خطرہ20 October, 2008 | آس پاس چین: اقتصادی ترقی کی شرح سست22 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||