قندھار: لڑکیوں پر تیزاب کا حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان میں دو افراد نے ایک سکول کے باہر نو عمر لڑکیوں اور ٹیچروں پر تیزاب سے حملہ کیا ہے۔ حکومتی اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ قندھار شہر میں پیش آیا۔ ان میں سے چھ لڑکیوں کو جس ہسپتال لے جایا گیا وہاں کام کرنے والے ڈاکٹر محمد داؤد فرہاد نے کہا کہ لڑکیوں نے برقعے پہن رکھے تھے جس کی وجہ سے کچھ بچت ہوگئی۔ صوبے کے گورنے رحمت اللہ رعوفی کے مطابق اس سلسلے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق اس طرح کے حملے شاذ و نادر ہی سننے میں آتے ہیں اور ان کے پیچھے وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں۔ افغانستان کی سابقہ طالبان حکومت نے لڑکیوں کے سکول بند کر دیے تھے اور عورتوں کی نقل و حرکت پر شدید پابندیاں لگا دی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق دو حملہ آور موٹرسائکل پر سوار ہوکر آئے اور اس وقت لڑکیوں پر تیزاب پھینکا جب وہ سکول جا رہی تھیں۔ تین لڑکیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق حملے کی زد میں آنے والی لڑکیوں کی تعداد آٹھ ہے۔ ایجنسی کے مطابق تین لڑکیوں کو شدید زخم آئے ہیں جبکہ تین کو علاج کے بعد رخصت کر دیا گیا۔ دو لڑکیوں نے پورے برقعے پہن رکھے تھے اور انہیں کوئی زخم نہیں آیا۔ فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ حملے سے طالبان کا کوئی تعلق تھا۔ زخمی ہونے والی ایک چودہ سالہ لڑکی عاطفہ بی بی کے گھر والوں نے کہا کہ انہیں ایسی کوئی دھمکی نہیں ملی تھی کہ لڑکیوں کو سکول نہ بھیجیں لیکن اب وہ لڑکیوں کو اس وقت تک سکول نہ بھیجنے پر غور کریں گے جب تک حالات بہتر نہیں ہوجاتے۔ | اسی بارے میں تیزاب، خواتین اور جینے کی اُمنگ25 January, 2007 | پاکستان تیزاب حملہ آور، سخت سزا کامطالبہ23 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||