طالبان کو کتّوں کی جگہ رکھنےکی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلوی فوج کی جانب سے افغانستان میں چار مشتبہ طالبان کو کتّوں کے لیے مخصوص جگہ پر رکھنے کا واقعہ سامنے آنے کے بعد آسٹریلیا میں کام کرنے والے مسلم گروہوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ مشتبہ طالبان کو حراست میں لیے جانے کا واقعہ اپریل کے مہینے میں افغانستان کے جنوبی صوبے ارزگان میں پیش آیا تھا۔ یہ افراد آسٹریلوی فوج کے ایک رکن کی ہلاکت کے بعد حراست میں لیے گئے تھے اور انہیں آسٹریلوی فوج کے ایک فارورڈ بیس پر رکھا گیا تھا۔ آسٹریلیا کے وزیرِ دفاع جوئل فٹزگبن کا کہنا ہے کہ ان افراد کی حراست کے معاملے میں جنیوا کنونشن کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی اور ان افراد کو متعلقہ جگہ پر عارضی طور پر رکھا گیا تھا۔ تاہم آسٹریلیا میں افغانستان کے سفیر امان اللہ جہیون نے کہا ہے کہ طالبان اس خبر کو پروپیگنڈہ مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں افغانستان: کینیڈیئن فوج پر حملہ12 March, 2008 | آس پاس افغانستان میں دس فرانسیسی ہلاک19 August, 2008 | آس پاس طالبان کے ترجمان ’گرفتار‘16 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||