’امریکی میزائل پلان غیر ضروری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے میزا ئل کے حالیہ تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ میں امریکی میزائل ڈیفنس منصوبے غیر ضروری ہیں۔ روس اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ یہ کہہ چکا ہے کہ یورپ میں میزائل شکن نظام کی تنصیب کا مجوزہ امریکی منصوبہ روس کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہوسکتا ہے۔ اسی دوران ایران نے ایک بار پھر یورپی یونین کو اپنے جوہری پوگرام میں بات چیت کی دعوت دی ہے۔ تاہم یورپی یونین کی جانب سے اس پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ پولینڈ اور جمہوریہ چیک میں امریکہ کے میزائیل شکن نظام کی کچھ تنصیبات کو اپنے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھتا ہے۔ روس اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر اپنی تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔ تاہم اس مرتبہ روسی وزیر خارجہ سر گئی لواروف نے ایران کی جانب سے میزائل ٹیسٹوں پر ہونے والی تنقید کو جواز بناتے ہوئے ایک بار پھر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ مسٹر لواروف نے کہا ہے کہ ایران نے جس میزائل کا تجربہ کیا ہے وہ صرف دو ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتا ہے۔ اس کے لیے امریکہ کو یورپ میں میزائل شکن نظام لگانے کی ضرورت نہیں۔ اگرچہ واشنگٹن روس کو کئی بار یہ یقین دہانی کروا چکا ہے کہ مجوزہ میزائل شکن نظام سے اس کو کوئی خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم یہ یقین دہانی روس کو مطمئن نہیں کرسکی ہے۔ اس ہفتے کے ابتداء میں امریکہ اور جہموریہ چیک کے درمیان ایک معاہدے کے بعد امریکہ پراگ میں میزائل کے لیے ریڈار نظام نصب کرے گا۔ جس کے بعد روس نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل کیا گیا تو وہ جوابی فوجی کارروائی کرے گا۔ ادھر ایران نے اعلان کیا ہے کہ جوہری پروگرم پر یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات انیس جولائی کو ہونگے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق چیف مذاکرات کار سعید جلیلی یورپی یونین کے نمائندے ہاو یئر سولانا سے جینوا میں ملیں گے۔ تاہم ابھی ہاویئر سولانا نے اس پیشکش کا جواب نہیں دیا ہے۔ ایران کی جانب سے میزائلوں کی حالیہ آزمائش کے تناظر میں مجوزہ مذاکرات انتہائی اہم اختیار کر گئے ہیں۔ مغرب کے حکومتی حلقوں کو تشویش ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل کی حالیہ آزما ئشیں ایران کے سخت گیر رہنماؤں کے لیے باعث تقویت ہے۔ جس سے سخت گیر موقف جوہری پروگرام پر کسی مغربی ملکوں سے کسی مصالحت کے لیے آمادہ اعتدال پسند سوچ پر حاوی ہوجائے گا۔ | اسی بارے میں اسرائیل تک مار کرنے والا میزائل09 July, 2008 | آس پاس روسی دھمکی پر پینٹاگن کی تنقید08 July, 2008 | آس پاس ایران پر مزید اقتصادی پابندی09 July, 2008 | آس پاس ’ کارروائی کے لیے تیار ہونگے‘10 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||