یروشلم:عرب علاقے ’ کاٹنے‘ کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے نائب وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ یروشلم میں فلسطینیوں کا وہ علاقہ جہاں سے بلڈوزر کے ذریعے حملہ ہوا تھا اسے یروشلم سے الگ کر دیا جانا چاہیے۔ ہائم رامون کا کہنا تھا کہ اس علاقے کے رہائشیوں سے ان کی اسرائیلی شناخت بھی واپس لے لی جانی چاہیے۔ بدھ کو ایک فلسطینی باشندے نے یروشلم میں بلڈوزر کو ایک بس اور کئی کاروں سے ٹکرا کر چار لوگوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا تھا۔ پولیس نے بلڈوزر ڈارئیور کو کیبن میں گھس کی ہلاک کر دیا تھا۔اسرائیل پولیس کا کہنا تھا کہ یہ دہشتگردی کا واقعہ ہے۔ اسرائیل کے نائب وزیرِ اعظم نے اس باڑ کا راستہ تبدیل کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے جو یروشلم کو غربِ اردن سے الگ کرتا ہے۔ یروشلم کی ایک تہائی آبادی فلسطینی پر مشتمل ہے جس پر انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔ رامون نے کہا وہ ایسے افراد سے اختلاف کرتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ بلڈوزر حملہ کرنے والے کا گھر مسمار کر دینا چاہیے کیونکہ اس سے آئندہ کے حملوں سے بچا جا سکے گا۔ تاہم انہوں نے کہا اگر قانوناً درست ہو تو اس کا گھر مسمار کیا جا سکتا ہے۔ نائب اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ جبل المکابر کے علاقے کے ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے جہاں وہ فلسطینی رہتا تھا جس نے آٹھ یہودی طالب علموں کو ہلاک کر دیا تھا۔ باڑ سے پہلے ہی کئی قریبی علاقوں کو الگ کیا جا چکا ہے جن میں ہزاروں فلسطینی ایسے ہیں جن کے پاس اسرائیل شناخت ہے۔ | اسی بارے میں یروشلم:بلڈوزر حملے میں چارہلاک02 July, 2008 | آس پاس اسرائیل قیدیوں کے تبادلے پر راضی29 June, 2008 | آس پاس ’حملے،جنگ بندی کی خلاف ورزی‘25 June, 2008 | آس پاس اسرائیل، حماس جنگ بندی کا آغاز19 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||