آئرلینڈ کے’نہیں‘سے ای یو کو مسئلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئرلینڈ کی جانب سے لسبن معاہدے کو مسترد کیے جانے کے بعد یوروپی یونین کی حکومتیں اب آگے کا راستہ تلاش کر رہی ہیں۔ فرانس اور جرمنی نے ریفرنڈم کے ذریعے اس معاہدے کو نامنظور کرنے کے آئر لینڈ کے فیصلے کو شدید دھچکا قرار دیا ہے لیکن یوروپی یونین سے درخواست کی ہے کہ وہ اس پر عمل جاری رکھے۔ آئر لینڈ کے رائے دہندگان نے تریپن عشاریہ چار فیصد سے اس معاہدے کو مسترد کر دیا۔27 ممالک کے یوروپی یونین کے تمام اراکین کو اس معاہدے کی توثیق کرنی ہے لیکن صرف آئرلینڈ نے اس معاہدے پر ریفرنڈم کروایا ہے ۔ آئر لینڈ میں ریفرنڈم لازمی تھا کیونکہ آئرلینڈ کو معاہدے کی منظوری کے لیے اپنے آئین میں تبدیلی کرنی ہوگی۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ یوروپی ممالک اس معاہدے کی توثیق کا عمل جاری رکھیں جو یورپ میں حکومتی عمل کو بہتر بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ لسبن معاہدہ یورپی آئین کی جگہ لے گا۔جسے ہالینڈ اور فرانس کے عوام نے تین سال پہلے مسترد کر دیا تھا۔اس معاہدے کا مقصد مشرقی یورپ میں یورپی یونین میں توسیع کے بعد کے حالات سے نمٹنا ہے یورپی کمیشن کے صدر جوز مینیول باروسو کا کہنا ہے کہ آئر لینڈ یورپ کا ایک مضبوط رکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ توثیق کا عمل جاری رہنا چاہئے۔ یہ معاہدہ جنوری 2009 سے نافذ ہونا ہے ابھی تک 27 میں سے 14 ممالک اس معاہدے کی توثیق کر چکے ہیں۔ برسلز میں ہونے والی کانفرنس کو چند ہی دن باقی ہیں اور یوروپی رہنماؤں کے پاس اس سمت پیش رفت سے متعلق ٹھوس اقدامات تجویز کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔ | اسی بارے میں فرانس: ریفرنڈم کی مہم کا آخری دن27 May, 2005 | آس پاس یورپ : انرجی کی نئی حکمت عملی 10 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||