ماحولیاتی معاملہ جڑ تک پہنچ گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں ماحولیات کی بقاء کے نقطۂ نظر سے ان دنوں اس بات کا بہت چرچا ہے کہ ایمیزن کے گھنے جنگلات کاٹ کر وہاں سویا بین کاشت کیا جا رہا ہے۔ یہ درست تو ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سویابین تقریباً سارے کا سارے چین اور یورپ برآمد کردیا جاتا ہے کیونکہ روایتی طور پر برازیلی باشندوں کی غذا میں مکئی اور چاول وغیرہ تو ہیں، سویا شامل نہیں۔ آّٹے کی جگہ برازیل میں منجیورکا استعمال ہوتا ہے جو ایک دانے دار چیز ہوتی ہے اور ایسی بہت ساری اشیاء کی تیاری میں کام آتی ہے جو نہ صرف ناشتے بلکہ دوپہر اور رات کے کھانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ برازیل کی مقامی صحافی ارسلا مونسو نے منجیورکا کے بارے میں بتایا کہ برازیل میں اس کے تین نام ہیں۔ ملک کے شمال میں اس کو منجیورکا کہتے ہیں۔ جنوب میں اس کو آئیتینگ کہا جاتا ہے جبکہ ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں اسے ماکاشیرا کہتے ہیں۔ ارسلا مونسو کی ہی بات آگے بڑہاتے ہماری کشتی دوم نیستور کے باورچی واشنگٹن ڈی کارویلہو نے بتایا کہ منجیورکا برازیل کے تمام پانچوں حصوں میں کھایا جاتا ہے کیونکہ یہ ریشے والی ایسی غذا ہے جس کو مقامی طور پر اگایا جاسکتا ہے جبکہ روٹی وغیرہ کے لیے درکار گندم نہیں اگائی جا سکتی۔ اسی لیے تقریباً ہرجگہ اس کا استعمال عام ہے۔ منجیورکا ناریل سے ملتے جلتے لیکن کافی چھوٹے ایک مقامی درخت کی جڑ ہے جس کو پیس کر خشک کیا جاتا ہے۔
ایمیزن میں محفوظ قرار دیے گئے علاقے یا ریزرو کی ایک بستی سانتا لوزیا میں۔ منجیورکا بنانے میں مصروف ایک خاتون نے بتایا کہ جس جڑ سے منجیورکا فیریونا بنتا ہے، وہ صرف برازیل میں ہی ہوتی ہے۔ یہ جڑ اصل میں زہریلی ہوتی ہے لیکن لوگوں نے مقامی انڈین باشندوں سے اس کا زہر نکالنا سیکھا ہے۔ اس کے لیے پہلے جڑ کو چھیل کر پیس لیتے ہیں پھر اس میں پانی ملا کر نتھار لیا جاتا ہے جس سے زہر پانی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ پھر اس کو دھوپ میں خشک کرتے ہیں اور آخر میں اس ایک بڑے برتن میں آگ پر اچھی طرح بھون کر چھان لیتے ہیں۔ یوں منجیورکا تیار ہوجاتا ہے۔ اس طرح بننے والا منجیورکا نہ صرف ذاتی استعمال میں آتا ہے بلکہ اسے بیچ کر اضافی آمدن بھی ہوتی ہے۔ اس منجیورکا کی قیمت کم وبیش ایک ریاس فی کلو پڑتی ہے اور دکانوں پر یہ عموماً ڈیڑھ ریاس فی کلو فروخت کیا جاتا ہے۔ منجیورکا کے وسیع استعمال کے بارے میں واشنگٹن ڈی کارویلہو نے بتایا کہ درحقیقت منجیورکا کو بہت سے طریقوں سے پکایا جاتا ہے۔ ایمیزوناس اسٹیٹ کے مناس کے آس پاس کے علاقوں میں لوگ جھینگے یا گوشت کو منجیورکا میں ملا کر تلتے ہیں۔ منجیورکا کو دوسری چیزیں تلنے میں بھی استعمال کر سکتے ہیں اور اس کا پانی کے ساتھ آمیزہ پانی کی چیزیں بنانے میں کام آسکتا ہے۔ یہی نہیں، اس سے میٹھی چیزیں بھی بنتی ہیں۔ یوں سمجھیں کہ منجیورکا ناشتے سے لیکر رات کے کھانے میں ہر موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق جس طرح برازیل میں کثیرالملکی کمپنیاں سویا بین کے بڑے بڑے فارم بنا رہی ہیں اور جس انداز میں ایمیزن کے ارد گرد کے جنگلات تباہ ہورہے ہیں، اس کا لازمی نتیجہ جنگلات کی کٹائی اور تباہی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہوگا کہ منجیورکا بنانے کو درکار جڑ کی پیداوار کم ہوتی جائے گی۔ نتیجتاً برازیل جیسے بڑے ملک کے عوام بھی پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں کی مانند ریشے والی غذا کے لیے گندم پر انحصار کریں گے اور یوں نہ صرف گندم کی قلت ہوگی بلکہ قیمت بھی بڑھتی جائے گی۔ اس طرح وہ ماحولیاتی مسئلہ مزید گنجلک ہوتا جائے گا جس نے آج ساری دنیا کی توجہ ایمیزن اور اس کے جنگلات پر مرکوز کردی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||