لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے چند برسوں میں ایمیزن کی تباہی نے ساری دنیا کو ہی چونکا دیا ہے۔ لیکن ایمیزن کے بارے میں موجودہ تشویش کا آغاز دریا میں پائی جانے والی مچھلی کی تعداد میں کمی سے کوئی تین عشرے پہلے ہوا تھا۔ ایمیزن کی مثال مقامی روایات کے مطابق ناریل کے درخت کی سی ہے۔ پیاس لگے تو ناریل کا پانی پیا جا سکتا ہے، بھوک میں ناریل کا گودا کھایا جا سکتا ہے، پتے چھپر بن سکتے ہیں، پھل کا خول کوئلوں اور اپلوں کا متبادل ہے، کھانا پکانے کو درکار تیل بھی اسی ناریل سے مل سکتا ہے۔ اور اگر درخت کسی وجہ سے جل جائے تو بھی تنا کہیں نہیں گیا کہ کشتی تو بن ہی جائے گی۔ گویا ناریل ہر مرض کی دوا اور ہر حاجت کا جواب ہوگیا۔ صدیوں سے ایمیزن کو ناریل کے درخت کے طور برتنے والے مقامی لوگوں کے مطابق کوئی پچیس تیس برس پہلے ان کی تشویش کو حکام نے پہلی بار سنجیدگی سے لیاکہ کئی اقسام کی مچھلیوں سے لبریز ایمیزن کیوں خالی ہوتا جا رہا ہے۔ ایمیزن میں ریزرو یا محفوظ علاقے پہلے پہل مقامی ماہی گیری کے تحفظ کے لیے ہی قائم کیے گئے تھے۔ ایسے ہی ایک ریزور کے سرکاری منتظم روڈنی سنٹانا نے بتایا کہ یہاں کے مقامی لوگوں کو اس بات سے بہت مشکل پیش آرہی تھی کہ ایمیزن کے باہر سے آنے والے بڑی بڑی کشتیوں سے مچھلیاں پکڑتے اور اتنی زیادہ مقدار میں پکڑ لیتے کہ مقامی لوگوں کے لیے کچھ نہ بچتا۔
کچھ یہی معاملہ ایمیزن کے دوسرے وسائل کا بھی تھا۔ گویا ان کا پورا طرِز زندگی خطرے میں تھا۔ روڈنی سنٹانا کے مطابق ریزور بننے کے بعد سے صورتحال خاصی بہتر ہوئی ہے۔ اس ریزرو میں رہنے والے ایک مقامی ماہی گیر اولاوو دی سانتا کی گزر اوقات مچھلیاں پکڑنے پر ہی ہے۔ وہ روڈنی سے متفق لگے۔ ان کا کہنا تھا پہلے دریا میں جال ڈالتے تھے تو کچھ ہاتھ نہ آتا تھا۔ اب پہلے کے مقابلے میں تو حالات بہت بہتر ہیں۔ بعض ایسی موسمی مچھلیاں جو چند برس پہلے جولائی اور اگست میں بھی مشکل سے پکڑی جاتی تھیں، اب با آسانی اپریل اور مئی میں بھی مل جاتی ہیں۔اب تو جال دریا سے نکالیں تو چھوٹی بڑی پانچ ہزار مچھلیاں بھی کبھی کبھی ہاتھ آجاتی ہیں۔ اولاوو دی سانتا تو دریا سے مچھلیاں پکڑ کر بیچتے ہیں لیکن ایمیزن کے ساتھ رہنے والے بعض لوگوں نے مچھلیوں کی باقاعدہ افزائش یا فارمنگ بھی شروع کی ہوئی ہے۔ پارنچنس شہر ایمیزن کے بیچ ایک جزیرے پر آباد ہے۔ وہاں مچھلیوں کی فارمنگ کرنے والے سلوادور کہتے ہیں کہ آبادی بڑھتی جارہی ہے۔ ایمیزوناس اسٹیٹ اور شہر کو ہی دیکھ لیجیے۔ خالی دریا سے مچھلیاں پکڑ کر ضروریات پوری کرنا لمبے عرصے کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے انہوں نے فارمنگ شروع کی ہے۔ گو ابھی بہت زیادہ فارمنگ نہیں ہورہی، لیکن اس کے بغیر گزارہ ہے نہیں۔ سلوادور لے اول کے خیالات دراصل انسان اور قدرتی وسائل کے درمیان جاری کھینچا تانی کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ سچ پوچھا جائے تو ایمیزن اس کی بہترین مثال ہے کہ ایک غیرمعمولی باوسائل قدرتی ذریعے کو بھی اگر بے دردی سے برتا جائے تو ہزاروں اور لاکھوں برس میں بننے اور سنورنے والی چیز کو برباد ہوتے دیر نہیں لگتی۔ |
اسی بارے میں ایمیزن، انسان اور فطرت کا مستقبل03 May, 2008 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||