فضائی سفر کے ماحول پر اثرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے شہر پیرس کے نواح میں لی بورجے ائرپورٹ پر دنیا کے سب سے بڑے فضائی شو کی تیاریاں مکمل ہیں جس میں جہاز ساز کاربن گیسوں سے بچاؤ کے مختلف حل بھی زیرِ بحث لائیں گے۔ البتہ اس شو میں کھربوں ڈالر مالیت کے سودے ہونے کی بھی توقع ہے یعنی اتنی رقم جو تین سو جہازوں کی فروخت سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس شو میں ڈھائی لاکھ افراد کی شرکت کا امکان ہے۔ پیرس میں کیپلر ایکیویٹیز کے ایک مبصر پیریز بوچنی کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر اقتصادی ترقی کی وجہ سے جہازوں کی تیاری کے آرڈر بڑھ رہے ہیں۔’یہ ائرشو، ائرلائن کی صنعت کی تاریخ کے ایک اچھے موڑ پر منقعد ہو رہا ہے‘۔ امریکہ میں جہازسازی کے بڑے ادارے بوئنگ کا کہنا ہے کہ مستقبل صرف ترقی کی نوید دے رہا ہے۔ بوئنگ نے اگلے بیس برس کے لیے جہازوں کی فروخت کے سلسلے میں ایک پیش گوئی کی تھی۔ لیکن جس رفتار سے جہازوں کے بکنے کا امکان اس کے پیشِ نظر بوئنگ نے اپنی پیشگوئی میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازوں کی فروخت میں زیادہ اضافہ ہوگا۔ لہذا اگلے بیس برسوں میں جہازوں کی فروخت دو اعشاریہ چھ ٹرلیئن امریکی ڈالر کی بجائے دو اعشاریہ آٹھ ٹرلیئن امریکی ڈالر کے مساوی ہوگی۔ گویا اگلی دو دہائیوں میں اٹھائیس ہزار چھ سو نئے جہاز فروخت ہوں گے۔
لیکن مارکیٹ میں نئے جہازوں کے آنے کا ایک مطلب یہ بھی ہوگا کہ فضائی صنعت آئندہ بیس سال میں آج کی نسبت کئی گنا زیادہ کاربن گیس کے اخراج کی ذمہ دار ہوگی۔ موجودہ زمانے میں کاربن گیس کے اخراج میں تقربیاً اعشاریہ چھ فیصد کے ذمہ دار تجارتی، تفریحی یا جنگی جہاز ہیں۔ سٹرن رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار پچاس تک اس اخراج میں پانچ فیصد اضافہ ہوگا۔ اس سے بچاؤ کا ایک حل یہ ہے کہ ایسے جہاز تیار کیے جائیں جن سے گیسوں کا اخراج کم سے کم مضر ہو اور ساتھ ساتھ کچھ اور اقدامات کیے جائیں اور آج کل اس طرح کے اقدامات پر عمل بھی ہو رہا ہے۔ جہاز سازی کی صنعت سے منسلک اہلکاروں کے مطابق مہلک گیسوں سے بچاؤ کا ایک حل یہ ہے کہ ایسا ایندھن استعمال کیا جائے جو زیادہ صاف ہو۔ چناچہ پیرس کے نواح میں ہونے والے شو میں جہاز بنانے والوں کی گفتگو کا محور یہ ہوگا کہ مستقبل میں جہازوں میں کیسے ماحول دوست ایندھن استعمال کیا جائے جس سے کاربن گیسوں کا اخراج کم ہو۔
لیکن ائر شو میں اس طرح کی گفتگو کی وجہ سے سرمایہ کاری کے وعدے ہونے کی توقع نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاز ساز اس پر مصر ہیں کہ موجودہ جہازوں کو ماحول دوست بنانے پر اتنی زیادہ لاگت آئے گی کہ ان میں تبدیلی نہ لانا ہی بہتر ہوگا۔ چنانچہ اب ایندھن فراہم کرنے والوں کو چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا کہ وہ رسد میں بہتری لائیں۔ ایک حد تک جہاز سازوں کو بھی اس چیلنج کا سامنا ہوگا جنہوں نے ایندھن کو استعمال کرنا ہے۔ لہذا ایک بات تو طے ہے کہ جہازوں کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی کا فوری حل جہاز سازوں کے پاس نہیں ہے۔ ادھر پیر کو برطانیہ کی پائیلٹ ایسوسی ایشن نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس دعوے کو چیلنج کیا گیا ہے کہ عالمی حدت کی ذمہ دار کاربن ڈائی اوکسائیڈ کی سب سے بڑی وجہ فضائی سفر ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر مہلک گیسوں میں فضائی سفر کا حصہ دو سے تین فیصد ہے۔ اس کے برعکس کاربن گیس کے اخراج میں زمینی سفر دس فیصد تک جبکہ بجلی سے چلنے والے سٹیشن اور گھر پچاس فیصد تک ذمہ دار ہیں۔ رپورٹ میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف نبرد آزماء گروپوں کے اس دعوے کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا کہ اگلے چند برسوں میں فضائی سفر سے کاربن گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوگا۔ | اسی بارے میں بوئنگ کا نیا جہاز16 February, 2005 | نیٹ سائنس ائیرانڈیا 68 نئے جہاز خریدےگا 16 December, 2005 | انڈیا ایئر بس نہیں، بوئنگ26.08.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||