BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 August, 2006, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایرانی صدر کی ویب لاگ
ایرانی صدر نژاد نے اپنا پہلا بلاگ شروع کیا ہے
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد ایک ویب لاگ شروع کر کے ویب کی انٹرنیشنل کمیونٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔

اس ویب لاگ کی خبرایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی ہے اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ صدر کو پیغامات بھیج سکتے ہیں۔

ایرانی صدر کی اس پہلی ویب لاگ کو جسے سوانح عمری کا ٹائٹل دیا گیا ہے میں ان کے بچپن کے متعلق بتایا گیا ہے اور ساتھ ہی ایران کے اسلامی انقلاب اور عراق کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔

بلاگ میں عوامی رائے کے لئے جگہ رکھی گئی ہے جہاں وہ اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں کہ’ کیا امریکہ اور اسرائیل ایک نئی جنگ عظیم کی بنیاد رکھ رہے ہیں‘۔

اس بلاگ کے ذریعے صدر کو سوالات بھی بھیجےجا سکتے ہیں۔ اس میں تصویروں کی ایک گیلری بھی ہے جو کہ صدر کی اپنی تصاویر پر مشتمل ہے۔

صدر محمود احمدی نژاد نے یہ بلاگ ایسے وقت میں بنایا ہے جب انٹرنیٹ پر حکومت نے پہلے ہی سے سنسر شپ کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں میڈیا پوری طرح حکومت کے کنٹرول میں ہے اٹرنیٹ حکومت مخالف آرء کے اظہار کا ذریعہ بن گیا ہے۔

حکومت کے مخالف بلاگرز کو ختم کرنے کے لئے ایرانی حکومت دنیا کا سخت ترین انٹرنیٹ سنسرشپ سسٹم استعمال کرتی ہے۔

ایسی پابندیاں صدر کے لئے مشکل پیدا نہیں کریں گی۔ اپنی ویب لاگ میں جس میں دو ہزار انگریزی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں صدر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ’مختصر اور سادہ‘ رہیں گے۔

ایرانی صدر نے بلاگ میں لکھا ہے کہ ’ انشاءاللہ مستقبل میں مختص کئے گئے پندرہ منٹ میں ہی اپنی بات کو ختم کروں گا‘۔

صدر محمود کا پہلا بلاگ فارسی، انگریزی، فرانسیسی زبانوں میں دستیاب ہے اور اس میں آر ایس ایس بھی شامل ہے تا کہ مستقبل میں شامل ہونے والی اینٹریز بھی اس بلاگ کے پڑھنے والوں تک پہنچ سکیں۔ اس بلاگ پر جمعہ کا دن درج ہے۔

ایرانی صدر بلاگ کا آغاز اپنے متعلق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جن دنوں امارت اور شہر میں رہنا ایک بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی ان دنوں میں ایک دیہی علاقے گرمسار میں پیدا ہوئےجو کہ تہران سے ننانوے کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

صدر نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے والد لوہار تھے اور جب وہ ایک سال کے تھے تو ان کے والد نے تہران جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایرانی صدر نے خود کو امتیازی طالبعلم بتایا ہے اور لکھا ہے کہ یونیورسٹی کے داخلے کے ٹیسٹ میں چار لاکھ طالبعلموں میں سے وہ ایک سو بتیسویں نمبر پر آئے تھے حالانکہ اس وقت وہ نکسیر کے عارضے کا شکار تھے۔

اپنے اس بلاگ میں انھوں نے عراق سے ہوئی جنگ کے بارے میں لکھا ہے۔ سابقہ عراقی لیڈر کو انھوں نے ’جارح‘ کے نام سے یاد کیا ہے اور کہا ہے کہ صدام کو طاقت کا نشہ تھا۔

صدر محمود نے امریکہ پر بھی بڑی تنقید کی ہے۔ ایک مقام پرانھوں نے امریکہ کو ’عظیم شیطان‘ کا نام دیا ہے کیونکہ وہ ’دہشت گردوں‘ کی مدد کرتا ہے اور جس نے ایران کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس بلاگ کو کتنا اچھا رد عمل ملے گا۔پیر کو تقریباً بارہ ہزار لوگوں نے اس آن لائن ووٹنگ میں حصہ لیا تھا۔

جبکہ ایک ایرانی بلاگر کیون مہرگن نے ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز کو اپنی رائے بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ صرف شہرت حاصل کرنے کا ایک ڈھونگ ہے۔

مہرگن نے یہ بھی کہا کہ احمدی نژاد کو انٹرنیٹ سے کوئی غرض نہیں اور وہ صدر بننے سے پہلے بلاگرز اور صحافیوں کے خلاف باتیں کیا کرتے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد