BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 August, 2006, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یقیناً نشانہ میں تھا: پاکستانی ہائی کمشنر

سری لنکا میں تشدد کی حالیہ لہر میں 1000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے دارلحکومت کولمبو میں تعینات ان کے ہائی کمشنر بشیر ولی محمد پر پیر کے روز بم حملہ ہوا جس میں وہ بچ گئے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے نے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ اس حملے میں پاکستانی ہائی کمشنر بظاہرحملہ آوروں کا نشانہ تھے جس میں چار محافظ ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس دھماکے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہائی کمشنر بشیر ولی محمد کا کہنا ہے ’یقینی طور پر میں اس حملے کا نشانہ تھے‘۔

بی بی سی اردو کی ماہ پارہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میری گاڑی رفتار ذرا تیز تھی اور میں آگے نکل گیا تھا لیکن پھر بھی گاڑی کے عقبی شیشے ٹوٹ گئے اور میرے پیچھے آنے والی گاڑی اڑ گئی‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’نہیں کہا جا سکتا کہ حملہ کرنے والے کون ہو سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہو سکتے ہیں۔ اس وقت یہاں سری لنکا میں بھی حکومت اور تامل باغیوں کا مسئلہ چل رہا اور ہماری حکومت خود مختار حکومت کی حمایت کرتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف ہے۔ ان حالات میں کوئی بھی ہو سکتا ہے لیکن اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا‘۔

پاکستانی ترجمان نے اُسے دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی ہائی کمشنر کولمبو میں اپنے ہائی کمیشن میں یوم آزادی کی تقریب کے سلسلے میں پرچم کشائی کے بعد واپس اپنی رہائش گاہ آ رہے تھے کہ ان پر حملہ ہوا۔

ان کے مطابق اس دھماکے میں پاکستانی ہائی کمشنر کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا تاہم سفیر محفوظ رہے۔

پاکستان کے کولمبو میں ہائی کمیشن نے فون پر سرکاری ٹی وی چینل کو بتایا کہ دو کلیمور نامی بارودی سرنگیں ایک رکشے میں نصب کی گئی تھیں اور جنہیں بظاہر ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔

بشیر ولی محمد کے مطابق دھماکہ دوپہر بارہ بج کر پچاس منٹ پر ہوا جس میں ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا اور ’سیفٹی ایئر بیگز، کھلنے کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔ ان کے مطابق دھماکے کی جگہ موجود سترہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت ہوئی ہیں جب تامل ٹائیگر نے حکومت پر ایک یتیم خانے پر بمباری کرتے ہوئے تینتالیس بچوں کی ہلاکت کا الزام لگایا ہے۔ حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں تین فوجی بھی شامل تھے۔ زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان افراد کو دھاتی ٹکڑوں یا جھلسنے سے زخم ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ صدر ماہندہ راجہ پکھشی کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب ہوا ہے۔

اسی بارے میں
کولمبو میں بم دھماکہ
08 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد