غزہ، نماز جنازہ میں ہزاروں شریک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کے ساحل سمندر پر جمعہ کو اسرائیلی بحریہ کے حملے میں ہلاک ہونے والے ایک ہی خاندان کے سات افراد کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ شوہر، بیوی، چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کے جنازے جب بین اللاہیہ کے قبرستان لے جانے کے لیئے اٹھائے گئے تو لوگ انتہائی جذباتی ہوگئے۔ حماس نے الزام لگایا ہے کہ ان شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ دریں اثناء فلسطین کے ریڈیکل گروپ حماس نے کہا ہے کہ اس نے سولہ ماہ کی غیر سرکاری جنگ بندی کے بعد اسرائیل پر راکٹ داغے ہیں۔ حماس کے مسلح بازو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے یہ حملہ سات فلسطینی شہریوں کی غزہ کی ساحل پر ہلاکت کے بعد کیا ہے۔ اسرائیل نے، جو کہ غزہ سے راکٹ حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کرتا ہے، ہلاکتوں کی تحقیقات کروانے کا وعدہ کیا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حماس کے راکٹ حملوں سے اسرائیل میں کیا نقصان ہوا ہے۔ حماس کی عز الدين القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ اس نے غزہ سے راکٹ داغے ہیں۔ بریگیڈ کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ ابھی آغاز ہے، راکٹ حملے جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگلی مرتبہ راکٹوں کی رینج زیادہ ہو گی اور وہ صیہونی علاقوں میں اندر تک جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے اسرائیل کے ’جرائم اور اس کے ہاتھوں غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا ردِ عمل ہیں‘۔
اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی پٹی میں جمعہ کے روز ساحل سمندر پر تفریح کرنے والے ایک خاندان پر حملہ کیا تھا۔ واقعے میں پینتیس لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ واقعے کے فوراً بعد بنائی گئی تصاویر میں ظاہر ہوتا ہے کہ فائرنگ سے پہلے یہ لوگ سمندر کنارے پِکنک منا رہے تھے اور بچے ریت میں کھیل رہے تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے بحری جہاز سے یہ گولے نہیں داغے گئے تھے اور نہ ہی یہ فضائی حملہ تھا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس واقعے کے بعد تین روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ فائربندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عزالدین القسام بریگیڈ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی خونریزی اور جارحیت کے مد نظر ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے اور اسرائیل کے شہروں میں ’پھر زلزلے شروع ہونگے۔‘
انٹرنیٹ پر اعلان کے علاوہ بریگیڈ نے اس بیان کے پمفلٹ بھی تقسیم کیے ہیں۔ حماس حکومت کے ترجمان غازی حماد نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل کے حملے بعد جنگ بندی ختم کرنے کا جواز پیدا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمارا حق ہے کہ ہم قابض (افواج) کے خلاف جنگ کریں، یہ ہمارا حق ہے خود کا دفاع کریں، اور یہ ہمارا حق ہے اپنے عوام کی حفاظت کریں‘۔ | اسی بارے میں غزہ میں بچوں کی ہلاکت پر رد عمل10 June, 2006 | آس پاس غزہ:اعلی سکیورٹی اہلکار ہلاک08 June, 2006 | آس پاس غزہ: دو ہفتوں میں دوہزاراسرائیلی گولے17 April, 2006 | آس پاس فلسطینی دھڑوں کے بیچ مسلح جھڑپیں19 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||