بلین طبی امداد حاصل کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زیرِآب سات دن گزارنے کا ریکارڈ بنانے میں مصروف برطانوی کرتبی ڈیوڈ بلین طبی امداد حاصل کریں گے۔ انہوں نے پانچ دن گزار لیے ہیں۔ بلین کے ترجمان پِٹ سمتھ کا کہنا ہے کہ پانی میں رہنے کی وجہ سے 33 سالہ کرتبی کی جلد متاثر ہث رہی ہے اور ان کی مجموعی حالت بھی ڈاکٹروں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ بلین مقررہ وقت پورا کرنے کا ’پختہ عزم‘ رکھتے ہیں۔ ڈیوڈ بلین اپنے بارے میں ایلیّوژنسٹ یا ’نظر کا دھوکہ دینے والا‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور ان دنوں نیو یارک کے لنکن سینٹر میں ’انسانی اکویریم‘ کے نام سے پانی سے بھرے ایک مچھلی گھر میں مسلسل سات دن گزارنے کا ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ بلین نے پانی کے نیچے سانس لینے کے لیے ایک ماسک پہنا ہوا ہے جس کے ذریعے انہیں تازہ ہوا میسر آتی ہے اور اس کے علاوہ انہیں محلول غذا بھی ایک پائپ کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ وہ اب تک زیر آب پانچ دن گزار چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی کھال تکلیف دہ ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تکلیف ایسی ہے جیسے سوئیاں چبھونے کی ہوتی ہے۔ سمتھ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو یہ تشویش ہے کہ بلین کمزور ہو رہے ہیں۔ اس لیے ان کا خیال ہے کہ وہ انہیں دی جانے والی غذا اور ان کی مشقوں میں کچھ تبدیلیاں کریں گے۔ بلین پیر کو اپنا یہ ریکارڈ مکمل کریں گے اور اس کے اختتام سے قبل وہ پانی میں سانس روکنے کا ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کرنا چاہتے ہیں اب تک زیرِ آب سانس روکنے کا بین الاقوامی ریکارڈ آٹھ منٹ اٹھاون سیکنڈ کا ہے۔ وہ اعلان کر چکے ہیں کہ سانس روکنے کا ریکارڈ قائم کرنے سے قبل وہ اپنے موجودہ آبی کمرے سے باہر آئیں گے اور جس کے بعد انہیں ایک سو پچاس پونڈ وزن سے باندھ کر اور ہتھکڑیاں لگا کر دوبارہ پانی میں پھینک دیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں کرتب یا اذیت پسندی؟11 September, 2003 | صفحۂ اول دریائے ٹیمز پر لٹکتے بلین06.09.2003 | صفحۂ اول خوف کی ہار23.05.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||